ٹن پیک کھانے ہماری زندگیاں اور ہمارے جسموں کو کیسے بدل رہے ہیں؟

نکولا ٹیمپل - مصنف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

منجمد کیے گئے مٹر

Getty Images

محفوظ بنائی گئی خوراک یا پراسیسڈ فوڈ سے پہلی بار میرا سامنا کینیڈا کے دیہات میں ہوا جہاں ہم سات ایکڑ کے فارم ہاؤس میں اپنی ضرورت کی نوے فیصد خوراک اگاتے تھے۔

گرمیوں میں ہمارا زیادہ تر وقت بے فکری سے جگنوؤں اور مینڈکوں کو پکڑنے میں گذرتا لیکن اگست کی آمد کے ساتھ ہی آنے والے موسم سرما کی تیاریاں زور پکڑ لیتیں۔

اونٹاریو کے مرطوب موسم گرما میں تمام مچھلی سے لے کر مکئی کے ابلے ہوئے دانوں تک اپنے کھیتوں میں پیدا ہونے والی ہر چیز کو کچن میں جمع کر کے اسے ایک عمل سے گزار کر محفوظ بنایا جاتا تھا تاکہ شدید سردیوں کے موسم میں اسے استعمال کیا جا سکے۔

آج کل پراسیسڈ فوڈ یا محفوظ بنائی گئی خوراک کا مفہوم بہت ہی منفی ہے۔ جب بھی پراسیسڈ فوڈ کا ذکر آئے تو ذہن میں پلاسٹک میں لپیٹے ہوئے پنیر کا خاکہ ابھرتا ہے یا ’صرف پانی ملائیں اور کھائیں‘ والے کھانے ذہن میں آتے ہیں۔

کیا تمام پراسیسڈ فوڈز کو ایک ہی زاویہ نگاہ سے دیکھنا مناسب ہے؟ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ خوراک کو محفوظ بنانے کے طریقے میں جدت آنے کی وجہ اس کی غذائیت میں بھی بہتری آئی ہے، خوراک کا ضیاع بھی کم ہوا اور انسان کو آسائش کے لمحات بھی میسر آئے ہیں۔

صرف یہ کہہ دینا کہ تمام پراسیسڈ کھانے صحت کے لیے مضر ہیں ٹھیک نہیں ہے۔ بات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

پراسیسڈ کھانوں نے خوراک کے ساتھ ہمارے تعلق کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ بہت پہلے پراسیسڈ فوڈ نے انسانی ارتقا کے عمل کو بدلا اور آج ہم جس شکل میں ہیں، اس میں پراسیسڈ کھانوں کا بھی عمل دخل ہے۔

قدیم انسان ہومو ہیبیلس (Homo habilis) کے زمانے (24 لاکھ تا 14 لاکھ سال قبل) میں خوراک کو محفوظ بنانے کے ثبوت ملتے ہیں۔ اپنے ارتقائی پیشروؤں کے برعکس ہومو ہیبیلس کے دانت قدیم باشندوں کے دانتوں سے قدرے چھوٹے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ خوراک کے انسانی منہ تک پہنچنے سے اس میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔

جڑوں کو پتھروں سے کوٹ کر نرم بنانے اور گوشت کو چبانے کے لیے آسان بنانے کے لیے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے کے طریقے ایجاد ہونے کی وجہ سے انسان کو پانچ فیصد کم چبانا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے جسم نے جبڑے، پٹھوں اور دانتوں پر خرچ ہونے والی توانائی کو کسی اور جگہ استعمال کیا جس کی وجہ انسانی چہرے کا سائز کھوپڑی کی مناسبت سے چھوٹا ہوتا گیا۔

ہومو ہیبیلس کے انسانی ارتقا کے اگلے دور یعنی ہومو اریکٹس اور ہومو نیئینڈرتھل (چار لاکھ تا 40 ہزار سال قبل) کے دور میں اگر انسانوں کی کھوپڑی کے سائز کو مدنظر رکھیں تو ان کے دانتوں کا سائز چھوٹا تھا۔ اس کا ارتقائی جواز صرف ایک ہو سکتا ہے۔ اس دور میں انسان نے غذا کو آگ پر پکا کر کھانا شروع کر دیا تھا اور اسے خوراک چبانے کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں تھی۔

مٹروں کو توڑنا

Getty Images
مٹروں کو توڑنے کا عمل بھی خوراک کو محفوظ بنانے کے عمل حصہ ہے۔

پکے ہوئے کھانے کو چپانے میں انسان کو 22 فیصد کم پٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگ پر پکانے کے عمل سے انسان خوراک سے ایسی غذائیت بھی حاصل کر سکتا ہے جو کچے کھانے کو چبانے سے حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔

آگ پر پکائی گئی خوراک نے انسانی جسم کے ارتقا کو اس طرف موڑ دیا جہاں اس کا چہرہ چھوٹا، جسم بڑا اور آسائش کے لیے کافی وقت مل گیا۔ جب انسان کو خوراک چبانے سے فرصت ملی تو اس نے قوت گویائی کے پیچیدہ طریقوں میں مہارت حاصل کرنی شروع کر دی اور اس کی توانائی دماغ کو بڑا کرنے میں صرف ہونے لگی۔

لیکن یہ عمل اب بھی جاری ہے جو کسی حد تک پریشانی کا باعث ہے۔ فیکٹریوں میں حد سے زیادہ کیمیائی عمل سے گزارے گئے کھانے انسانی جسم کے حجم میں اضافے اور ہمارے ٹیڑھے دانتوں کے مؤجب بن رہے ہیں۔ یہ وہ رجحان ہے جسے ہم شاید جاری نہ رکھنا چاہیں گے۔

وہ محرّکات جنھوں نے ہمارے آباؤ اجداد کو خوراک کو محفوظ بنانے کے طریقے اپنانے کی طرف مائل کیا، وہی محرّکات اب بھی موجود ہیں۔ انسان نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کو لمحوں میں فریز کرنے کی صلاحیت کر لی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے غذا کے تمام اجزا کو اس وقت تک محفوظ کیا جا سکتا ہے جب تک مہینوں بعد ہزاروں میل دور کسی چولہے پر رکھ اسے پگھلایا نہ جائے۔

خوراک کو محفوظ بنانے کی وجوہات میں کچھ اور عوامل بھی ہیں جس نے انسان کو خوراک کو محفوظ بنانے کے لیے جدت کی راہ پر گامزن کیا۔

جب نپولین کے دور کی جنگوں کے دوران فوجی جنگ سے زیادہ خوراک کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تو خوراک کو ڈبوں میں بند کرنے کا رجحان سامنے آیا۔

جب 1912 میں برطانیہ میں ایک ایسا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت امیر خاندانوں کو اپنے گھریلو ملازموں کو ہفتے میں آدھے دن کی چھٹی دینے کا پابند بنایا گیا تو تیار شدہ کھانے کا رجحان پروان چڑھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بیگمات کو ہر ہفتے کی ایک شام کا کھانا بنانا پڑتا تھا۔

سبزیوں کے اچار

Getty Images
فریزروں کی آمد سے پہلے سبزیوں کو مختلف طریقوں سے محفوظ بنایا جاتا تھا

دوسری عالمی جنگ میں چین سے ٹین کی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں جس سے خوراک کو ڈبوں میں بند کرنے کا عمل رک گیا۔ تب فریج اور فریزر کا ظہور ہوا۔ ٹرکی پرندوں کی ضرورت سے زیادہ پیدوار سے ٹی وی ڈنر کے تصور کی ایجاد ہوئی۔

کیلیفورنیا کے ایک کاشتکار نے ہر سال 360 ٹن گاجروں کو ضائع ہوتے دیکھ کر ایک ایسی ایجاد کی جس نے امریکہ میں ایک چھوٹے سے گاجر انقلاب کو جنم دیا۔ کیلیفورنیا کے کاشتکار نے گاجروں کو چھیلنے والا ایک آلہ تیار کیا جس سے گاجر کو چھیل کر اسے دو انچ کے ٹکڑوں میں کاٹ کر ٹین کے ڈبوں میں پیک کرنے کا آغاز کیا۔ اس ایجاد سے امریکہ میں گاجر کی کھپت میں 33 فیصد اضافہ ہو گیا۔

جنگوں، خوراک کی طلب و رسد اور خوراک کے ضیاع نے انسان کو خوراک کی مسلسل فراہمی اور اس کی حفاظت کے لیے نئے طریقے استعمال کرنے پر مائل کیا۔

جدید معاشرے میں خوراک کو محفوظ بنانے کی کوششوں کی ایک وجہ سہولت ہے۔ صرف چھ عشرے پہلے یعنی 60 برس پہلے تک شام کا کھانا تیار کرنے میں اوسطاً ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا تھا جو اب کم ہو کر آدھا گھنٹہ رہ چکا ہے۔

پچھلے ساٹھ برسوں میں خاندانوں میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہیں۔ اب پہلے کی نسبت بہت زیادہ خواتین گھروں سے باہر کام کرتی ہیں اور تنہا والدین کی تعداد تین گنا ہو چکی ہے۔

یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اب لوگ دن بھر کے کام کاج سے گھر لوٹ کر کھانا بنانے کے لیے کچن میں ڈیڑھ گھنٹہ نہیں گذارتے وہ بھی جب بھوکے بچے ان کا پیچھا کر رہے ہوں۔

لیکن اب عام گھرانہ ٹی وی دیکھنے کے لیے اوسطاً چار گھنٹے کا وقت نکال لیتا ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران ٹی وی دیکھنے کا وقت اوسطاً چھ گھنٹے ہو چکا ہے۔ شاید ہمیں ایمانداری سے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے پاس خوراک کی تیاری کے لیے وقت ہے یا نہیں اور کیا ہم اپنا وقت دوسرے کاموں پر صرف نہیں کر رہے؟

صرف یہ بات ہی اہم نہیں ہے کہ ہم خوراک کو محفوظ بنانے کے لیے اس میں تبدیلیاں کر رہے ہیں بلکہ وقت بدلنے کے ساتھ ہم جس انداز میں تبدیلیاں کر رہے ہیں یہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔

پنیر کی تیاری اس کی بہترین مثال ہے۔ انسان 10 ہزار سال سے پنیر تیار کر رہا ہے۔ پینر کی تیاری کا پہلا واقعہ شاید ایک حادثے کی وجہ سے ہوا۔ جانوروں کی کھال سے تیار مشک میں ڈالا گیا دودھ جب گرم ہوا تو اس کی ساخت بدلنے لگی اور اس سے دہی بن گیا اور پھر کسی دلیر انسان نے اس کو چکھنے کا فیصلہ کیا۔

نئے نئے کھانوں کو چکھنے والے باہمت افراد نے محسوس کیا ہو گا کہ دہی کے انسانی جسم پر اثرات دودھ سے کم منفی ہوں گے۔ اس وقت کے لوگوں میں شاید لیکٹوز عدم برداشت اتنی نہیں تھی جنتی آج ہے۔

ڈیری خوراک انسان کی پروٹین کی ضرورت کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ صرف 8700 سال پہلے تک پنیر کی 700 مختلف قسمیں سامنے آ چکی تھیں اور یہ پوری دنیا میں تیار کیا جا رہا تھا۔ غاروں کے زمانے کی چیڈر سے سموتھ برائی اور تازہ فیٹا سے ہمالیہ کی چروپوں، یہ سب پنیر کی مختلف قسمیں تھیں جنھیں اگر صحیح طرح سے محفوظ کیا جائے تو یہ 20 برس تک قابل استعمال رہ سکتی ہیں۔

فیکٹروں میں تیار کھانا

Getty Images
فیکٹریوں میں تیار کیے گئے کھانوں کی آمد سے شام کو کھانا تیار کرنے پر صرف ہونے والے وقت میں بہت کمی واقع ہو چکی ہے

گذشتہ 200 برس میں انسان نے خوراک کی تیاری میں تنوع کو ناگواری میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ فیکٹریوں میں اصلی خوراک کے قریب کی چیزیں تیار کی جاری ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف فارمز سے دودھ کو اکٹھا کر کے اس سے پنیر تیاری کی جاتی ہے۔ اس عمل سے پنیر میں مختلف موسموں اور علاقوں کے ذائقے ختم ہو گئے ہیں۔

خوراک کو تیار کرنے والوں کی کوشش ہے کہ وہ تھوڑی لاگت اور تھوڑے وقت میں ایک جیسے ذائقے والا پنیر تیار کر سکیں۔ وہ دودھ سے ملائی اتار کر اسے زیادہ مہنگی اشیا بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جب ملائی اتارے جانے کے بعد پنیر کا زرد رنگ ختم ہونے لگا تو پھر زرد رنگ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گاجروں کے جوس اور گیندے کے پھولوں کو استعمال شروع کر دیا گیا۔ اسی طرح فیکٹریوں میں تیزی سے پینیر بنانے کے لیے دودھ میں کیمیائی خمیر کا استعمال شروع کر دیا گیا۔

پچاس کی دہائی میں انسان نے کسی بھی مرکب کو گیس میں بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ پھر لیبارٹریوں میں ذائقوں کو الگ کر کے ان کی شناخت کو مکمن بنایا گیا جس سے ماہرین خوراک نے پنیر میں امینو ایسڈ جیسے اجزا کو شامل کر کے بہت کم وقت میں نیا ذائقہ حاصل کر لیا۔

سائنسی ترقی نے اینزائم یا کیمیائی خمیر کے استعمال سے ایسا پنیر تیار کر لیا ہے جو بہت سستا ہے اور اسے فیکٹریوں میں باآسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔

اینزائمز کے استعمال سے پنیر میں دودھ کے کم سے کم استعمال سے ایسے ذائقہ حاصل کیے جا سکتے ہیں جو پہلے دودھ کے استعمال سے ہی ممکن تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خوراک میں بہتری کی آڑ میں دھوکہ دہی تو نہیں ہو رہی، آخر کہاں لکیر کھینچی جائے؟

’بیانڈ نیچرل‘ پروگرام پراسیسڈ فوڈ کے مراحل کو مختلف زوایے سے دیکھائے گا۔ اس پروگرام میں صحت مند خوراک میں چھپے ہوئے اضافی اجزا کو دکھانے کے علاوہ قارئین کو ماہرین خوراک کی زندگی کے کچھ مناظر دکھائے جائیں گے اور اس پروگرام سے لوگوں کو خوراک کے ڈبوں پر لکھے گئے لیبلز کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

اس سیریز میں اس موضوع کی پیچیدگیوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے خوراک کے بارے میں پائے جانے والے عام تاثرات کو بھی پرکھا جائے گا۔

بطور صارف یہ ہمارا حق ہے کہ ہمیں بتایا جائے۔ ہمیں مینوفیکچرر کو اپنی قوتِ خرید سے یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے لیے کیا کچھ قابل قبول ہے اور وہ کہاں حدیں پار کر رہے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خوراک کے عدم تحفظ، خوراک کے ضیاع اور اس سے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، یا پھر کھانے تیار کرنے والوں کی جیبوں کو مزید بھرا جا سکتا ہے۔

نکولا ٹیمپل بیسٹ بیفور: دی ایولوشن اینڈ فیوچر آف پراسیسڈ فوڈ (Best Before: The Evolution and Future of Processed Food) کی مصنف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19395 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp