چینی کا بحران اور قانون سے مدد


پاکستان میں چینی کا بحران کوئی نئی بات نہیں۔ کئی دہائیوں سے بہت سے معاملات کی طرح اس شعبے میں بھی بس اتنی ترقی ہوئی ہے کہ مزید شوگر ملیں برباد ہو گئیں۔ اس صنعت سے پاکستان کی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ جب بھی چینی کا بحران سر اٹھاتا ہے تو جو پہلی آواز کانوں میں پڑتی وہ ہے چینی چور۔ پچھلے دنوں ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جو 1975 کے ایک اخبار کا تراشہ ہے۔ اس اخبار کی سرخی ہے، چینی چوروں کو چھوڑیں گے نہیں، اسی قسم کی بازگشت ہمیں عمران خان صاحب کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا ہدف پاکستان کے کرپٹ حکمران اور سیاست دان رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرپشن بہت زیادہ ہے۔ ویسے تو اب ہر پاکستانی نے کرپشن کو اپنے لیے جائز سمجھ لیا ہے، سیاست دان لیکن اس گندگی میں پوری طرح آلودہ ہیں۔ احتساب کے ذریعے بہت بار اس آلودگی کو دھونے کی کوشش کی گئی۔

یہ سلسلہ اول اول جنرل ایوب خان نے شروع کیا۔ بعد میں کئی حکومتوں نے احتساب کے خاص ادارے بنائے تاکہ حکمرانوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مقدمے چلائے جا سکیں۔ مقدمات بھی چلے، کرپٹ حکمرانوں کو جیل میں ڈالا گیا، اور نواز شریف پر تو فرد جرم بھی عائد کر دی گئی لیکن پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔ ہر کرپٹ حکمران نہ صرف جیل سے رہا ہوا بلکہ ایک کو تو ہم نے صدر پاکستان بھی بنا دیا۔ اسی طرح دوسرے کرپٹ حکمران کو ہم نے باہمی رضا مندی سے ملک سے باہر جانے دیا۔ الطاف حسین کے معاملے میں ہماری فراخ دلی کا اندازہ لگائیں۔ نہ صرف اسے برطانیہ بھاگنے دیا بلکہ کئی دو دہائیوں تک اسے بیرون ملک سے کراچی پر حکمرانی کرنے کی اجازت بھی دی۔ اس تمام پکڑ دھکڑ میں کرپشن کا گراف اوپر جاتا رہا۔ سنا ہے کہ پہلے جو کام پیسوں کے بغیر ہو جاتا تھا اب اس کے ریٹ بھی دوگنا ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود عمران خان اپنے ساتھیوں کی کرپشن کے حوالے سے بہت حساس ہیں۔ جیسے ہی حالیہ چینی بحران کمیشن رپورٹ میں جہانگیر ترین کا نام سامنے آیا ان پر نہ صرف مقدمات چلائے گئے بلکہ پارٹی میں ان کی موجودگی کو تقریباً معدوم کر دیا گیا۔

اس کے بعد حکومت نے چینی انڈسٹری کو آڑے ہاتھوں لینے کی ٹھان لی۔ چینی کمیشن رپورٹ میں جو نمایاں بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ کاروباری افراد ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہوتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے عمران خان ہی کی کابینہ نے چینی کی برآمد کی اجازت دی تھی جس سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں موجود چینی کے ذخائر ملکی ضرورت کے لیے ناکافی ہو گئے۔ اس وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں چینی کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے چینی درآمد کی گئی۔ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ چینی اور آٹے کا ہر بحران اسی طریقے سے پیدا کیا جاتا ہے۔ نئی بات ہے تو صرف یہ کہ یہ سب پی ٹی آئی حکومت میں پیش آیا جو سٹیٹس کو ختم کرنے اقتدار میں آئی تھی۔ چینی پیدا کرنے والوں کو آج کل چینی مافیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کی طاقت توڑنے کے لیے حکومت نے پہلے ایک آرڈیننس جاری کیا۔ بعد ازاں اسی آرڈیننس کو قانون بنا کر جاری کر دیا گیا ہے۔ چینی کمیشن کی رپورٹ کے بعد ملک گیر سطح پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور نہ صرف ذخیرہ کی گئی چینی برآمد کی گئی بلکہ بہت سے لوگوں کو جیل میں بند کیا گیا۔ عدم شواہد کو وجہ سے یہ تمام ملزمان رفتہ رفتہ جیلوں سے باہر آتے گئے۔ ان میں سے کسی پر بھی فرد جرم عائد نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود ہمارے وزیر اعظم ان کو شوگر مافیا کہنے پر بضد ہیں۔ بہر حال اس طرح پکڑ دھکڑ کرنے اور نئے قوانین بنانے سے نہ تو ملک میں بحران ختم ہوں گے اور نہ ہی اس سے طاقت وروں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جاسکتا ہے۔ پھر کرنا کیا ہو گا؟

اس کا جواب دینے سے پہلے دیکھتے ہیں کہ جو نیا قانون حکومت لانا چاہ رہی ہے اس کے مضمرات کیا ہیں۔ پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں جو حالیہ ترامیم کی گئی ہیں اس کے تحت چینی کی تیاری اور اس کی ترسیل میں کی جانے والی بد اعمالیوں کی سزا ایک سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی ہے۔ اسی طرح جرمانے کی قیمت ایک لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ ہو گئی ہے۔ پہلے مقدمات کی کارروائی مجسٹریٹ کیا کرتے تھے اب دفعہ 30 کے مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کاروباری لین دین کے معاملات پر بھی دیوانی نہیں بلکہ فوجداری قوانین کا اطلاق ہو گا۔ اسی طرح شوگر سپلائی چین مینجمنٹ آرڈر 2021 کے تحت نہ صرف شوگر مالکان بلکہ ڈیلرز، بروکرز اور جو بھی چینی کے کاروبار سے منسلک ہو گا اسے پابند کیا گیا ہے کہ وہ صرف ایک خاص مقدار تک چینی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح مل مالکان صرف رجسٹرڈ بروکرز اور ڈیلرز کو ہی چینی بیچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کین کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کسی بھی وقت کبھی بھی شوگر ملز، ڈیلرز یا بروکرز کے کاروباری مراکز پر تفتیش یا سرویلینس کے لیے جا سکتے ہیں۔

اب ہم اپنے سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا نئے قوانین سے ہم موجودہ سسٹم کو ٹھیک کر سکتے ہیں؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جو قوانین پہلے بنائے گئے تھے کیا ان پر من و عن عمل کیا گیا تھا؟ سقم قوانین میں تھا یا ان پر عملدرآمد میں؟ یہ تمام سوالات بہت اہم ہیں اور ان سب کا تعلق ہمارے عدالتی نظام سے جڑا ہے۔ شوگر ملز مالکان اور چینی کے کاروبار سے جڑے افراد نے اس نئے ترمیمی قانون کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔

ہمارے مالک میں سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔ نہ صرف یہ کہ بیرونی سرمایہ کار آنے پر آمادہ نہیں بلکہ ملکی سرمایہ کار بھی اپنے کاروبار باہر منتقل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسی طرح ماضی میں ہم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تباہ کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج بنگلہ دیش ہم سے اسی صنعت میں بہت اگے نکل گیا ہے۔ ہمارے کئی صنعت کاروں نے بنگلہ دیش میں اپنے کاروبار شروع کیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کرپشن ختم کرنے کے لیے پہلے تو ملزمان کو کیفر کردار تک پہچانے کا عمل شروع کرے۔ اگر وہ تمام لوگ جن کو آپ چور کہتے ہیں عدالتوں سے بری ہو رہے ہیں تو پھر قصور یا تو آپ کے سسٹم کا ہے یاں آپ کی نیت کا۔ شوگر مل مالکان کے مطابق جتنے بھی افراد چینی بحران پیدا کرنے کے الزام میں پکڑے گئے تھے انہیں بری کر دیا گیا ہے۔ کسی پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی ہے۔ یہ تو سراسر مذاق ہے۔ اگر قانون کی پاسداری ہی نہیں ہے تو پھر نئے قوانین سے تو ہم صرف کرپشن کی حوصلہ افزائی ہی کریں گے۔

ان نئے قوانین سے نہ تو کاشتکار خوش ہیں اور نہ ہی مل مالکان۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ترمیم پر غور کرے۔ اس وقت مہنگائی کے طوفان نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اگر ایک متوسط گھر میں مہینے بھر کا راشن پہلے بیس ہزار میں آتا تھا تو اس کی لاگت بڑھ کر چالیس ہزار ہو گئی ہے۔ حکومت کو اپنی افراط زر سے جڑی پالیسیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی کا تعلق مانیٹری پالیسی سے بھی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت چینی کی قیمتوں میں کمی کے لیے سیلز ٹیکس میں کمی کر سکتی ہے، سترہ فیصد سیلز ٹیکس اور اس کے اوپر تین فیصد انکم ٹیکس کو اگر کم کر دیا جائے تو چینی کی قیمت بہت حد تک کم ہو سکتی ہے۔ بہت ضروری ہے کہ حکومت اپنی معاشی پالیسی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں اور اپوزیشن کو چور چور کہنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی بنائے جس سے ملک اگے بڑھے۔

Facebook Comments HS