وزیراعظم و وفاقی وزیر داخلہ، کیا اوورسیز پاکستانی سیکورٹی رسک ہیں؟
وزیراعظم پاکستان و وفاقی وزیرداخلہ کے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے جذبات و بیانات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، عمران خان اوورسیز پاکستانیوں کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہیں اور انہوں نے سفارت خانوں کو بھی احکامات دیے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں سے اپنا رویہ تبدیل کریں۔ وزیراعظم نے عوامی شکایات پر سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے نامناسب رویہ پر سخت ایکشن بھی لیا، جسے دنیا بھر موجود اوورسیز پاکستانیوں نے خوب سراہا۔
کورونا کے دوران بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ 10 ماہ کے دوران بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مد میں 24.2 ارب ڈالر بھیجے گئے جو نہ صرف ایک ریکارڈ ہے بلکہ اس سے پاکستان کی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوا۔ وزیراعظم نے بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے آخر تک بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات زر بڑھ کر ریکارڈ 27 سے 28 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جس پر وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کو سلام بھی پیش کیا۔
یہ تو ہوئی اوورسیز پاکستانیوں کی ملک سے محبت کی ایک مثال، جو زرمبادلہ کی صورت میں قانونی طریق کار سے بھیجی جا رہی ہیں، جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لئے روشن پاکستان ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا بھی اہم اقدام کیا، یہ عمل بھی قابل ستائش ہے، اوورسیز پاکستانی ووٹ کا حق بھی تفویض کرنے کی اطلاعات پر مسرور نظر آئے، لیکن ایک واقعے نے مجھے ششدر کر دیا کہ کیا اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کا صلہ حکومت کی جانب سے کھلے دل کے ساتھ دیا بھی جا رہا ہے یا نہیں۔
کچھ ایسا ہوا کہ کویت میں کئی دہائیوں سے رہائش پذیر بزنس مین محترم غلام حیدر شیخ نے مجھے فون کیا، شیخ صاحب اہل علم و قلم دوست بھی ہیں، ان سے مختلف معاملات پر گاہے بگاہے گفت و شنید رہتی ہے، دھیمے لہجے و حالات کی کسوٹی کے گرم و سرد تجارت کے ساتھ ان کا متحمل اسلوب و بیان کا قائل رہا ہوں، لیکن پہلی مرتبہ ان کے غصے میں شکایات سے میں ہڑبڑا گیا، کیونکہ اس کی سرشت سے جتنا واقف ہوں، بوجوہ میرے لئے ان کا غیض و غصب ہونا حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی تھا۔ انہوں نے پر شدید تنقید کی، اب اصل مدعے پر آتا ہوں۔
شیخ غلام حیدر شیخ نے پہلا سوال مجھ سے پوچھا کہ کیا، میں پاکستانی نہیں، کیا ہم اوورسیز پاکستانی نہیں، میں نے پورے یقین کے ساتھ جواب دیا کہ اگر کوئی یقین نہیں رکھتا تو اسے اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیے، اوورسیز پاکستانی تو پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ کیا ہمیں پیسے بنانے کی مشین سمجھا جاتا ہے، میں نے بے یقینی سے کہا، شاید ایسا نہیں، انہوں نے چراغ پا ہو کر کہا کہ ایسا ہی ہے۔
میں بضد تھا کہ وجہ تو بتائیں کہ آج سورج مغرب سے کیوں نکلا ہے، لفظوں کی حدت کراچی کی گرمی کے پارے میں اضافے کے موجب بن رہی ہے، بالآخر بتایا کہ کرونا وبا کی وجہ سے فیملی کے ساتھ اپنے وطن آیا ہوا ہوں، ویسے بھی کویت میں رہائش پذیر ہونے کے دوران بھی کئی مرتبہ پاکستان آتا رہتا ہوں، کیونکہ خاندان اور زیادہ تر دوست احباب وغیرہ پاکستان میں بھی ہیں، ان سے ملاقات کے لئے وقتاً فوقتاً آنیاں جانیاں رہتی ہیں، تاہم کرونا کی وجہ سے، اس بار دورانیہ طویل ہو گیا، جس کے سبب پاکستانی موبائل فون کنکشن کے لئے یکے بعد دیگرے مختلف فرنچائز کا دورہ کیا تو انکشاف ہوا کہ ان کا بائیو میٹرک قومی شناختی کارڈ جو کہ 18 کویتی دینار دے کر سفارت خانے سے بنایا تھا وہ پاکستان میں ایک موبائل فون کنکشن لینے کے لئے قابل قبول نہیں، بائیو میٹرک تصدیق نہیں ہو سکتی۔
علم ہوا کہ حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو NICOP پر پاکستان سے سم کے اجرا ء پر پابندی ہے، اس موقف کی تصدیق لاہور میں نادرا کے ایک رجسٹریشن سینیٹر میں معلوماتی ڈیسک پر موجود خاتون نے بھی کی، اول تو ان خاتون کو خود بھی اس کا علم نہیں تھا، انہوں نے نادرا سینیٹر میں موجود اپنے کسی سینئر سے معلومات حاصل کی اور توثیق کی کہNICOPپر موبائل سم کنکشن نہیں مل سکتا۔ وجہ وغیرہ و دیگر معلومات سے متعلق انہیں کچھ آگاہی نہیں تھی ماسوائے اس کے کہ انہیں وزارت داخلہ کی جانب سے یہی احکامات ہیں۔
غلام حیدر شیخ نے اپنے دھڑکا سنا یا اور مجھے شناختی کارڈ کا عکس واٹس ایپ کیا، اوورسیز پاکستانی قومی کارڈ (NICOP) تھا، جس کی موجودہ نارمل فیس، ارجنٹ اور ایگزیکٹو فیس 57 امریکی ڈالر ہے، نیا بنائیں موڈیفیکیشن کریں، گم ہونے پر ڈپلیکیٹ بنائیں یا تجدید کرائیں، کیٹگری اے سے بی یکساں فیس 54 / 57 ڈالر ہے۔ (انہوں نے 18 کویتی دینار میں بنایا تھا) ۔ قومی شناختی کارڈ ہے، سفارت خانے سے بنایا گیا، بائیو میٹرک سے تصدیق شدہ قومی اسمارٹ کارڈ ہے، اپنے چند اوورسیز دوستوں و نادرا سینیٹر سے بھی تصدیق کی، تو پھر یہ سب کیا ہے، قومی شناختی کارڈ کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے، ملک میں مختلف دستاویزات مثلاً لائسنس، این ٹی این، بنک اکاؤنٹ، پاسپورٹ، موبائل کنکشن کے لئے شناختی کارڈ کا ہونا لازمی شرط، تو پھر یہ حق اوورسیز پاکستانیوں کو کیوں نہیں، جو کہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہیں، قیمتی زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، حکومت کے ہر اعلان پر لبیک کہتے ہیں، ترسیلات زر بھیجنے کے نئے ریکارڈ بناتے ہیں، ذاتی محنت کی کمائی سے ملک کا معاشی پہیہ چلا رہے ہیں، ایسے اوورسیز پاکستانی، NICOP رکھنے کے باوجود ایک موبائل کنکشن لینے کے بھی اہل نہیں۔
وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ صاحب سوچنے کا مقام ہے کہ اس سے اوورسیز پاکستانیوں کی کتنی حوصلہ شکنی ہوتی ہوگی، جب وہ واپس جاکر یا مجھ جسے کئی دوست احباب کو اپنا یہ دھڑکا سنا کر کہتے ہوں گے کہ کیا وہ صرف پیسے بنانے کی مشین ہیں کہ ہر جگہ ان سے فیس کے نام پر بھاری رقم بھی وصول کی جائے، سفارت خانوں میں خجل خواری بھی ہو، اپنے وطن واپس آئیں تو رشتے داروں سے سستے رابطے کے لئے NICOPپر موبائل کنکشن بھی نہ لے سکیں، کیا اس اہم مسئلے کا کوئی حل ارباب اختیار کے پاس ہے۔ کیا اوورسیز پاکستانی سیکورٹی رسک ہیں جنہیں بنیادی حقوق نہیں دیے جا رہے۔


