چوراہوں کے دسترخوان


بھوکوں کو کھانا کھلانا بڑا ثواب کا کام ہے لیکن کیا کراچی جیسے شہر میں کوئی بھوکا سوتا ہوگا؟ یہاں انسان تو انسان پرندوں کو بھی کھانا کھلانے کا رواج ہے پرندوں کے باجرے سے فٹ پات بھرے ہوئے ہیں ہاں وہ لوگ ضرور بھوکے سوتے ہوں گے جو اپنی خودی اور عزت نفس کو سنبھالے بیٹھے ہیں۔

ایک بزرگ کمزور اور نحیف آدمی اگر چوراہے پر بیٹھ کر کھانا کھا رہا ہے تو دل کو تو شاید تقویت ملتی ہوگی مگر ایک ہٹا کٹا آدمی افطاری کھانے اور کھانا کھانے روز آتا ہوگا تو کیسا لگتا ہوگا؟

کیا ہم واقعی بھوکوں کو کھانا کھلا رہے ہیں یا لوگوں کو آرام طلب بنا رہے ہیں؟

میری والدہ کا جب انتقال ہوا تو بہت سارا کھانا بن گیا تھا دیگ کو خالی کیا بریانی کی تھیلی لے کر میں اور میرے شوہر باہر نکلے کہ ضرورت مند ملے گے تو انہیں دیں گے محلے کی ایک دکان پر فقیر کھڑا کھانا مانگ رہا تھا میں نے فوراً گاڑی سے اتر کر اس بابے کو بریانی کی تھیلی پکڑانی چاہی تو اس کے جواب پر میں کچھ لمحے کو جم ہی گئی بابے نے مجھے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ میں میت کا کھانا نہیں کھاتا پھر ہم اپنے محلے کی فوڈ اسٹریٹ گئے سب سے زیادہ مانگنے والے ادھر ہی نظر آتے ہیں اور پھر بریانی کی تھیلیاں فوراً ختم ہو گئی۔

اسی طرح ایک زمانے میں میرے والد تبہ میں ایڈمٹ تھے ہم رات کے ایک ایک بجے تک واپس آتے تھے اور ادھر بھی ہمیں بڑے بھکاری ملتے تھے اور وہ بھی ایسی دعائیں دیتے تھے کہ ہم سب بہنیں ہاتھ میں پیسے رکھ کر نکلتے تھے ایک دفعہ اسی طرح ایک سترہ اٹھارہ سال کے لڑکے نے دعا دی بہنوئی کا ہاتھ جیسے ہی جیب کی طرف گیا اس نے جھٹ سے فرمائش کی کہ آدھا کلو چکن کڑھائی دلا دو بس میرے کم سخن اور دھیمے لہجے میں بولنے والے بہنوئی اتنا بولے کہ ہمیں سمجھ آ گئی کہ وہ اونچا بھی بول سکتے ہیں۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ بھوکوں کو کھانا کھلا رہے ہیں یا پھر مانگنے والے اور آرام طلب لوگوں کو مزید اس بات کا یقین دلا رہے ہیں کہ گھبرانا نہیں تم اپنے حصے کا مانگو اور ہم اپنے حصے کا۔

کراچی میں تقریباً دس سے پندرہ سال پہلے یا شاید اس سے بھی پہلے یہ رواج چل نکلا کہ سڑکوں پر کچھ نوجوان پانی اور کھجور لے کر افطاری کرانے کھڑے رہتے اور آفس سے واپس آنے والے لوگ اگر روڈ پر پھنس جاتے تو ان کو کھجور اور پانی کی بوتلیں پکڑائی جاتیں چلو یہاں تک تو ٹھیک تھا کہ واقعی پرائیویٹ جاب کرنے والا بندہ چھٹی کے بعد اپنے گھر کی ہی راہ لیتا ہے اور خاص کر روزہ دار، ہمیں بھی بڑا اچھا لگتا تھا کہ چلو رمضان کے بابرکت مہینے میں پتا نہیں کتنے لوگ ہوتے ہوں گے جو سڑک پر پھنسے ہوتے ہوں گے اور روزہ افطار کے لیے ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ ہوگی۔

لیکن اب! اب تو لگتا ہے کہ ایک دوڑ لگی ہے ہر بندہ دستر خوان کھولے بیٹھا ہے بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے اور وہ بھی کوئی عام کھانا نہیں بریانی، پلاؤ، مٹن (جس کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ) اور تو اور جب ایک بچے کی جذباتی تقریر سنی (جو کہ اسی طرح کا دستر خوان لگا رہا ہے ) اور جب اس نے دوسرے دن کا مینیو ”پزا“ بتایا تو سر پیٹنے کا دل کیا۔ ایک بھوکے کو پیٹ بھرنے کے لیے صرف دال روٹی ہی کافی ہوتی ہے۔

ہم ایک مانگنے والی قوم تو بن چکے ہی ہیں اور اب سوشل میڈیا پر یہ دکھا رہے ہیں کہ ہماری آدھی سے زیادہ قوم سڑکوں پر افطاری کرنے تشریف لاتی ہے آپ کو لگتا ہے کہ عزت دار سفید پوش کوئی غریب جو رزق حلال کھاتا ہے وہ اس طرح سڑک پر آ کے افطاری کھائے گا یہ صرف بھیکاری ہی کھا سکتے ہیں جو روز کھاتے ہیں اس وبا کے دنوں میں جب ایک طرف کسی سموسے والے کی تھال گرا کر پولیس اسے پکڑ لیتی ہے یا سبزی فروش کا ٹھیلا گرا دیا جاتا ہے اور وہ صرف اللہ سے مدد مانگ رہا ہے کیا وہ آپ کے دسترخوان پر کھانا کھانے یا افطاری کرنے آئے گا یا وہ عورتیں جو جھلسا دینے والے گرمی میں پوری اور چھولے کا اسٹال لگا کر عزت دار طریقے سے اپنا گھر چلا رہی ہیں کیا وہ آپ کے دسترخوان پہ آئیں گیں یہ صرف وہ بے غیرت لوگ ہوتے ہیں جو آرام طلب ہوتے ہیں جو اپنی بیوی اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اور کراچی جیسے شہر میں، میں نے کسی دروازے کو ان پر بند ہوتے نہیں دیکھا پورا محلہ اس مزدور کو جانتا ہے کہ یہ ڈراما کر کے اور بہانے کر کے پیسے اور چیزیں بھی بٹورتا ہے مگر کبھی بھی میں نے اپنی گلی سے اسے خالی ہاتھ جاتے نہیں دیکھا۔

آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہ نیک کام کر رہے ہیں؟ آپ بھکاریوں اور نکموں کی تعداد بڑھا رہے ہیں آپ کے دسترخوان پر جو لوگ کھانا کھانے آتے ہیں آپ ان سے تھوڑا کام لے کر دیکھیں دوسرے دن ہی غائب ہو جائیں گے اور یہ بات آپ مجھ سے زیادہ اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔

لوگ سڑکوں پہ اپنا ہنر دیکھا کے جیسے کوئی کرتب دیکھا کے، تصویر بنا کے، گانا گا کے، جادو دیکھا کے نعتیں پڑھ کے بھی پیسے کما سکتے ہیں۔ یہ لوگ کم از کم کسی طریقے سے محنت تو کر رہے ہیں نا صرف کھا نہیں رہے۔ میں نے اپنے علاقے میں ایک جوکر کو دیکھا جو سڑک پہ بھیک مانگ رہا ہے آپ ان کی مدد کریں ان کے ہنر کو سڑکوں اور چوراہوں پہ دکھائیں ان کو معاوضہ دیں تاکہ وہ بھکاری نہ بنیں، ایسے کرتب دکھانے والے لوگ صرف پورٹ گرینڈ میں ہی نظر آتے ہیں کیا کمائی ہوتی ہوگی ان کی؟ کم از کم وہ بھکاری تو نہیں بنیں گے۔

ایک کہاوت ہے اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو اور آپ کو اگر انہیں کھانا کھلانے کا شوق ہے تو پہلے ان سے کام لے انہیں کارآمد بنائیں۔