EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ہمارے پاس عمران خان ہے نا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاملہ اگر اصول کا ہو اور بات میرٹ پر آکر رکتی ہو تو عمران خان حکومت میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد تحریک انصاف کو مناسب لوگوں کے حوالے کرکے اقتدار کی مزید تگ و دو سے گریز کا اعلان کریں۔ پانچ سال حکومت کرنے اور ایک پیج کے مزے لینے کے بعد بھی جو وزیر اعظم ملکی معاملات کو درست نہج پر نہ ڈال سکے، اس کے لئے اس سے بڑا میرٹ کوئی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی ناکامی کو تسلیم کرلے۔

اس ملک میں لیکن کتنے لوگ ہوں گے جو اس رائے سے اتفاق کریں گے یا واقعی یہ تسلیم کرلیں گے کہ عمران خان کو ملکی معاملات درست کرنے کا مناسب موقع ملا لیکن وہ بوجوہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ضروری نہیں ہے کہ سیاسی میدان میں اس ناکامی کو کسی شخص کی ذاتی نالائقی قرار دیا جائے۔ البتہ اگر کوئی بھی شخص خواہ وہ عمران خان ہی کیوں نہ ہوں، سیاسی، انتظامی ، خارجہ اور معاشی شعبوں میں منہ کی کھانے کے بعد بھی اس بات پر مصر ہو کہ وہ ناکام نہیں ہؤا بلکہ اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں تو اسے اس ملک اور متعلقہ سیاست دان کی بدقسمتی ہی کہنا چاہئے۔ لیکن ایک عمران خان پر کیا موقوف پاکستان جیسے ملکوں میں درجنوں کیا سینکڑوں لوگ سیاسی اقتدار کے لئے ہر ٹھوکر کو کامیابی کی نئی منزل قرار دے کر مزید ’ٹھوکریں‘ کھانے کی آرزو پالتے رہتے ہیں۔ جوں جوں حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے اور ملک نئے انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے اس سلسلہ میں اپنی حکمت عملی واضح کرنا شروع کردی ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے آج کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں جو پریس کانفرنس منعقد کی ، وہ اس حکمت عملی کا واضح اشارہ تھی۔ دونوں وزیروں کی باتوں کو اگر تعلی یا سیاسی مبالغہ آرائی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے حکومتی کارکردگی کا درست پیمانہ مان لیا جائے تو معلوم پڑے گا کہ کابینہ کے اجلاسوں سے لے کر کورونا سے نمٹنے تک، معیشت کو سنبھالنے سے لے کر کشمیر و فلسطین کو آزاد کروانے تک کی جد و جہد میں جو شاندار کارنامے عمران خان کی فقید المثال قیادت میں موجودہ حکومت نے انجام دیے ہیں، تاریخ میں ان کی مثال ملنا ممکن نہیں ہے۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں کابینہ کے اجلاس ہوتے ہی نہیں تھے، لیکن تحریک انصاف کی حکومت اڑھائی برس میں ہی سینکڑوں اجلاس منعقد کرچکی ہے۔ گویا کابینہ کا اجلاس منعقد کرنا بھی کوئی ایسا پیمانہ ہے جس سے کسی حکومت کی کامیابی و کامرانی کی حقیقت کو ماپا جاسکتا ہے۔ سابقہ حکومتیں اس مقصد میں ناکام اور عمران خان کی حکومت سرفراز ہوئی ہے۔ اسی بات پر نعرہ لگا کر اعلان کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی صورت میں پاکستان کو اللہ نے تحفہ عطا کیا ہے۔ اگر وہ یہاں پیدا نہ ہوتے تو اس ملک کو ’چوروں لٹیروں‘ سے کیسے بچایا جاسکتا تھا۔

اسد عمر نے اس پریس کانفرنس میں ملکی ترقی کے نئے جائزوں کے حق میں دلائل کے انبار لگا دیے کہ کس طرح عمران خان کی قیادت میں منفی میں جانے والی قومی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ اب تین اعشاریہ نو فیصد تک پہنچایا جا چکا ہے۔ یہ دلیل دیتے ہوئے ملک کے سابقہ وزیر خزانہ اور موجودہ وزیر منصوبہ بندی نے صرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اندازوں ہی کی نفی نہیں کی بلکہ قومی اداروں کے تخمینوں کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف عمران خان کی قیادت میں ممکن ہوسکا ہے۔ ’ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی سے بڑی معیشت لرز کررہ گئی اور ہمسایہ ملک میں کورونا نے دہشت پھیلادی اور معیشت کو تباہ کردیا تو پاکستان نے نہ صرف کورونا پر قابو پالیا بلکہ عمران خان نے ایسی حکمت عملی بنائی کہ غریبوں کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو اور ان کی آمدنی اور روزگار متاثر نہ ہوں‘۔ وزیر موصوف کے نزدیک موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ’احساس پروگرام‘ تھا جو بنیادی طور پر حکومتی خیراتی منصوبے ہیں۔ معاشرے کے غریب ترین طبقات کو ریلیف دینے کے لئے ایسے منصوبے ہر دور میں ہی دیکھنے میں آتے ہیں تاہم عمران خان نے ان منصوبوں میں لنگر خانوں اور مفت کھانا بانٹنے کا پروگرام شامل کرکے اسے نئے معنی ضرور عطا کئے ہیں۔

اسد عمر کا دعویٰ ہے کہ احساس پروگر ام کے تحت ملک کے ہر تیسرے باشندے کو سرکاری وسائل فراہم ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک طرف غریبوں کی مدد ہوئی ہے تو دوسری طرف ان لوگوں کو دی گئی امداد سے ملکی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک پاکستان کی طرف رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ پاکستان نے یہ کیسے کر دکھایا۔ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں اور دوسرے ملکوں میں ایک ہی فرق ہے۔ ان کے پاس عمران خان جیسا کوئی لیڈر نہیں ہے اور ہمارے پاس عمران خان بنفس نفیس موجود ہے۔

یادش بخیر یہ وہی اسد عمر ہیں جو تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے پہلے بتایا کرتے تھے کہ لٹیرے سیاست دانوں نے قومی دولت لوٹ کر بیرونی ملکوں کے بنکوں میں 200 ارب ڈالر جمع کروا رکھے ہیں۔ ایک بار عمران خان جیسا نیک طینت لیڈر اقتدار میں آگیا تو اس دولت کو وطن واپس لاکر نہ صرف بیرونی قرضے اتار دیے جائیں گے بلکہ ملک کی تقدیر ہی بدل دی جائے گی۔ یہ بات غلط ثابت ہونے کے بعد اب وہ چاہیں تو یہ دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ دو سو ارب ڈالر کی بجائے عمران خان جیسا نایاب ہیرا پاکستان کو ملا ہؤا ہے اس لئے پریشان و ملول ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان کی قیادت میں ملک جنت نظیر بننے والا ہے۔

ایسے فریب کی بنیاد پر سیاسی بیانیہ تشکیل دینے والوں کو خوب اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ نہ تو معاملات کو پرکھنے والے غیر جانبدار تجزیہ نگار ان کی باتوں کو کوئی اہمیت دیں گے اور نہ ہی سیاسی مخالفین اس بھرے میں آئیں گے۔ یہ باتیں صرف ان لوگوں کے لئے کی جاتی ہیں جنہیں بوجوہ کسی ایک لیڈر کے شخصی سحر میں مبتلا کیا گیا ہوتا ہے۔ مقبولیت پسندی کا یہ طریقہ یوں تو ہر زمانے میں ہی موجود رہا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ رجحان عالمی طور سے راسخ ہؤا ہے۔ کسی لیڈر کی جادوئی شخصیت کا امیج بنانے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ وہ مسائل کو چٹکی بجاتے حل کردے لیکن اس دعوے کو یقین میں تبدیل کرکے حامیوں کا ایک خاص طبقہ پیدا کرلیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف ہر حکومتی شعبہ میں ناکامی کے بعد اب اسی ہتھکنڈے کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان کا بت بنانے میں مصروف ہے تاکہ ناقص کارکردگی کے باوجود آئیندہ انتخابات میں ووٹ بنک کو بچایا جاسکے اور اقتدار میں آنے کا ایک موقع حاصل کیا جائے۔ لیکن عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اقتدار کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ وہ تو بس لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے حکومت چاہتے ہیں۔ البتہ ان دعوؤں میں جن لوگوں کا تذکرہ ہوتا ہے، انہیں جا کر کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اقتدار تک پہنچنے کے لئے غریب صرف نعرے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کے بے وسیلہ طبقے کا اس سے بدتر استحصال ممکن نہیں ہوسکتا۔

مقبولیت کا یہ طریقہ عمران خان سے خاص نہیں ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں نریندر مودی یہی نعرے لگا کر اقتدار تک پہنچا۔ کورونا وبا کے دوران اپنی ناقص حکمت عملی اور گھمنڈ میں نہ صرف بھارت میں وبا کو پھیلنے کا موقع دیا بلکہ لوگوں کی معاشی حالت پر بھی بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا۔ اس کے باوجود مقبولیت پسند لیڈر انتہا پسندی تک پہنچی ہوئی مذہبی جذباتیت اور معاشرے کے بعض طبقات کے خلاف نفرت کو عام کر کے سیاسی مقاصد کے لئے اپنے پیروکار پیدا کرتے ہیں۔ تمام مصائب و مشکلات کے باوجود یہ پیروکار سچ دیکھنے اور حقیقت سمجھنے سے عاری رہتے ہیں۔

اس کی دوسری مثال امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور خوشحال ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اور صدارت تک پہنچنے کا عمل تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ گزشہ سال ہونے والا انتخاب جیتنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اس کے باوجود اس کی مقبولیت کا گراف کم نہیں ہؤا۔ اسی مقبولیت کی بنیاد پر امریکہ کی ریپبلیکن پارٹی ان کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتی۔ امریکہ جیسے ملک میں لوگوں کے ایک بڑے طبقے کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی دھاندلی کی وجہ سے کامیاب ہوئی ہے حالانکہ امریکہ میں شرح خواندگی بہت زیادہ ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنے کسی دعوے کو کسی عدالتی فورم پر ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ جوبائیڈن کی کامیابی دو وجوہات کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔ ایک ٹرمپ حکومت کورونا وبا پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی دوسرے لوگوں نے زیادہ تعداد میں انتخاب میں ووٹ ڈالے۔ جو بائیڈن کامیاب ہوگئے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے ووٹ بنک میں بھی اضافہ رجسٹر کیا گیا۔ ان کی مقبولیت بھی مذہبی جنونیت اور نفرت کے آمیزے سے بنائی گئی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی ہے۔

اب پاکستان میں یہی تجربہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت ناکام ہے۔ تحریک انصاف کے پاس کوئی سیاسی ، معاشی یا سفارتی پروگرام نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت اور تحریک انصاف کے ووٹر میں اضافہ ہؤا ہے۔ حکومت کی ساری مشینری اب اس مقبولیت کو مستحکم کرنے پر صرف کی جا رہی ہے۔ آئیندہ انتخاب میں یہی نعرے بیچ کر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ اور الیکٹ ایبلز بھی اقتدار تک پہنچنے کا اہم ہتھکنڈا ہیں۔ لیکن الیکٹ ایبلز کو اگر عمران خان مقبول لیڈر کے طور پر دکھائی دیے تو وہ ان کا ہاتھ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوں گے۔

اسٹبلشمنٹ کسی مقبول لیڈر سے بگاڑ پیدا کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتی تاآنکہ وہ خود ہی مقبولیت کے خود ساختہ زعم میں اسے چیلنج کرنے کی غلطی کربیٹھے۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان میں اتنی سوجھ بوجھ ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے انجام سے سبق سیکھیں یا اقتدار کا نشہ اور طاقت کا بھرم انہیں بھی ’گمراہ‘ کردے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1907 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے