بالوں بھری” عورت“


کچھ ماہ قبل میرا چہرہ کھانا پکاتے ہوئے جلدبازی کے باعث پریشر ککر کی اسٹیم سے جھلس گیا۔ تکلیف تو جو تھی سو تھی لیکن شدید گرمی میں اور تمام تر مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر کے پاس بار بار حاضری میرے لیے ایک جھنجھٹ تھا۔ ڈاکٹر میرے پرانے واقف کار بھی ہیں سو ان سے مختلف موضوعات خاص طور پر ان کے پیشے سے متعلق گفتگو رہتی۔ وہاں جا کر مجھے ایسے ایسے کیسز دیکھنے اور سننے کو ملتے کہ جن پر میں ایک کتاب لکھنا چاہوں تو شاید وہ بھی کم ہو۔

بہرحال، اس روز میں ان ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں بیٹھی تھی۔ یہ کلینک ایک مشہور بیوٹی سیلون کا حصہ ہے، جہاں مرد و خواتین مختلف طرح کی ٹریٹمنٹ کے لیے آیا کرتے ہیں۔ کلینک میں مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ دروازہ تھا۔ اس روز میں اپنی باری کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ عورتوں کے دروازے سے ایک برقع پوش خاتون اندر داخل ہوئیں۔ کچھ ہی دیر بعد انھیں نشست گاہ سے ملحق کمرے میں بلا لیا گیا۔ میری نشست اس کمرے کے ساتھ ہی تھی۔

خاتون کے اندر جانے کے کچھ دیر بعد ڈاکٹر کی آواز آئی ”تمھارے بال بہت بڑھ گئے ہیں، یہاں ریزر رکھے ہیں ایک پیکٹ اٹھا لو اور باہر والے واش روم جا کر شیو کر کے آؤ۔ اس کے بغیر لیزر نہیں ہو سکے گا۔“ خواتین چونکہ چہرے کے روئیں کو لیزر ٹریٹمنٹ کے ذریعہ ختم کرواتی ہیں تو یہ ایک ایک عام سی بات ہے، لیکن ڈاکٹر کا یہ کہنا کہ ”شیو کر کے آؤ“ مجھے کچھ عجیب لگا۔ جواب میں ایک باریک سی آواز ابھری جس میں مصنوعی نسوانیت واضح تھی ”باہر! باہر کیسے؟“ جیسے باہر والے واش روم میں جاتے ہوئے اسے شرم محسوس ہو رہی ہو۔

ڈاکٹر نے بیزاری سے کہا،“ ارے بھئی یہاں روم کے واش بیسن میں۔ اس طرح شیو ممکن نہیں ہوگی، تم پھر برقع پہنو اور باہر جاؤ۔ ”ڈاکٹر اور مریضہ میں مزید کچھ دیر ہونے والی گفتگو کے دوران“ خاتون ”کی آواز سے نسوانیت غائب ہو چکی تھی اور میری سماعت سے اس کی قدرے بھاری مردانہ آواز ٹکرا رہی تھی۔“ خاتون ”برقع پہنتے ہوئے باہر آئیں تو ان کے چہرے پر گھنی داڑھی دیکھ کر مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔“ یہ کیا معاملہ ہے۔ ”مکمل زنانہ کپڑے، نقاب والی چادر، ہاتھوں میں کھنکتی چوڑیاں اور نقاب سے جھلکتی آنکھیں دیکھ کر کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ اندر معاملہ کوئی اور ہے۔

میں نے اپنی باری آنے پر ڈاکٹر سے استفسار کیا۔ وہ جانتا تھا کہ بطور صحافی اور کالم نویس میرے لیے یہ سب فطری طور پر حیرت اور دلچسپی کا باعث ہے۔ ”یہ لڑکا ہے اور نارمل مرد ہے۔“ ڈاکٹر مجھے اس برقع پوش کے بارے میں بتانے لگا۔ اس نے اس قسم کے لڑکوں کے بارے میں جو مزید تفصیلات بتائیں ان کے مطابق یہ وہ لڑکے ہوتے ہیں جن میں ہارمونز پرابلم کی وجہ سے نسوانی رجحانات پیدا ہو جاتے ہیں، جیسے عورتوں جیسے کپڑے پہنے اور میک اپ کرنے کا شوق، پھر ان کے بولنے کے انداز اور چال ڈھال میں بھی نسوانیت جھلکنے لگتی ہے۔

اپنے اس رجحان کی وجہ سے یہ ہم جنس پرست مردوں کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ لیکن یہ تعداد بہت محدود ہے۔ ہاں ان میں ایسے لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے جن میں ہارمونز کا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد وہ ایک عرصہ تک پہلے تو خود کو قصوروار ٹھیراتے ہیں، پھر یہ کہہ کر کہ یہی قسمت ہے خود کو دلاسے دیتے ہیں اور ہم جنس پرست مردوں کے شوق پورے ہونے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جن کی تعداد سب سے زیادہ ہیں جو پندرہ سولہ سال کی عمر میں پیسہ کمانے کی خاطر غلط صحبت کے نتیجے میں ہم جنس پرست بن جاتے ہیں، جب کہ طبی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اچھا موبائل، اچھی بائیک اور سگریٹ کا خرچہ نکالنے کی خاطر یہ خود کو پیش کر دیتے ہیں۔

رفتہ رفتہ وہ اس سب کے عادی ہوتے جاتے ہیں پھر یہ ان کا پیشہ بن جاتا ہے۔ پیشے کی ضروریات پوری کرنے اور اپنی ”خدمات“ کا معاوضہ بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ گاہک بنانے کے لیے وہ مختلف قسم کی ٹریٹمنٹس کرواتے ہیں جن میں لیزر کی مدد سے تمام جسم کے بالوں کی صفائی کرائی جاتی ہے اور ہارمونز انجیکشنز لگوائے جاتے ہیں۔ جسم کو خوب صورت اور نسوانی بنانے کے لئے سر کے بالوں سے لے کر پیر کے انگوٹھے تک جس حد تک جو آپریشن اور ٹریٹمنٹ ممکن ہے یہ لڑکے حسب توفیق اپنی ”مارکیٹ“ بڑھانے کے لئے کرواتے ہیں۔ ایسے مردوں کے لیے اردو میں زنخے کا لفظ موجود ہے، اور آج کی زبان میں انھیں شی میل کہا جاتا ہے۔

اس سارے معاملے کے اخلاقی اور مذہبی پہلو سے قطع نظر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ شی میل یا زنخے خود کو خواجہ سرا باور کرا کے ایک طرف قدرتی طور پر عورت اور مرد کی صنفی تخصیص کے بغیر جنم لینے والے خواجہ سراؤں کا استحصال کرتے ہیں۔ دوسری طرف خود کو عورت یا خواجہ سرا کے روپ میں پیش کر کے خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں، جس کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

خواجہ سرا ہمارے ملک کا ایک مظلوم طبقہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ظلم کی ابتدا گھر سے اور اکثر بچپن ہی سے ہوجاتی ہے۔ ایسے بچوں کو والدین اپنے لیے باعث ذلت سمجھتے ہیں، چناں چہ انھیں گھر میں حقارت کے برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر یا تو انھیں گھر سے نکال دیا جاتا ہے یا وہ خود اس بدسلوکی سے دل شکستہ ہو کر گھر چھوڑ دیتے اور اپنے ہم جنسوں کی کسی ٹولی میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ معاشرہ ایک طرف انھیں اچھوت سمجھتا اور ان سے توہین آمیز سلوک کرتا ہے دوسری طرف سماج کے اوباش لوگ طاقت کے بل بوتے پر انھیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

انھیں قدم قدم پر تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم اور ملازمت ان کے لیے بس خواب ہوتے ہیں، اس لیے پیٹ بھرنے کی خاطر یا تو یہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں یا جسم فروشی کا راستہ ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ تاہم کچھ سالوں سے اس طبقے کے لیے حکومتی رویوں اور کسی حد تک عوامی سوچ میں تبدیلی آئی ہے، جس میں میڈیا کا بڑا اہم کردار ہے۔ اس دوران کئی خواجہ سراؤں کی کہانیاں سامنے آئیں جنھوں نے تعلیم حاصل کی یا کوئی پروفیشن اپنا کر اپنی محنت سے خود کو منوا رہے ہیں۔

بہت خوشگوار اور خوش آئند تبدیلی یہ ہے کہ کئی سرکاری اداروں میں خواجہ سراؤں کے لیے ملازمتوں کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ لیکن ابھی اس طبقے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، ایسے اقدامات جن کی مدد سے اس طبقے کے افراد تعلیم، روزگار اور معاشرے میں عزت حاصل کرسکیں۔ مگر اس سے پہلے حقیقی اور مصنوعی خواجہ سراؤں میں امتیاز کرنا لازمی ہے، ورنہ خطرہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی ملازمت کے لیے مختص ملازمتوں کے کوٹے سے مصنوعی خواجہ سرا یا شی میل فائدہ اٹھانے لگیں گے۔

یہ تو اس معاملے کا معاشی پہلو ہے، جس کے اثرات خواجہ سراؤں ہی پر مرتب ہونے ہیں، لیکن اخلاقی حوالے سے دیکھیں تو سڑکوں پر، ٹریفک سگلنلز اور چوراہوں پر کھڑے یہ شی میل معاشرے کے لیے ایک داغ ہیں۔ یہ افراد اپنے اپنے خاندانوں کے لیے بھی تکلیف اور ندامت کا باعث ہیں۔ حکومت کو ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات کی مدد سے ایک طرف ایسے افراد کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے جو مرد ہوتے ہیں لیکن ہارمونز کے بگاڑ کی وجہ سے نسوانیت کو اپنی پہچان اور پھر جسم فروشی کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں۔ ساتھ ہی قوانین کے ذریعے اس رجحان کے انسداد کی کوشش کی جانی چاہیے۔

دوسری طرف طبی معائنے کے ذریعے اصلی خواجہ سراؤں کا تعین ہونا چاہیے، جس کے بعد یا تو انھیں حکومت کی طرف سے خواجہ سرا ہونے کا سرٹیفکٹ دیا جائے یا ان کے شناختی کارڈ پر جنس کے خانے میں خواجہ سرا درج کیا جائے، ایسے مراکز قائم کیے جائیں جہاں ان شی میلز کو رکھ کر انھیں رویوں کے اور نفسیاتی اعتبار سے نارمل مرد بنایا جائے، ان میں عزت نفس بحال کی جائے اور ان کا اخلاق سدھارا جائے۔ یہ اقدامات اور تیسری جنس کا تعین، تخصیص اور امتیاز خواجہ سراؤں کی حق تلفی روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور عورت اور خواجہ سراؤں کا روپ دھار کر معاشرے میں اخلاقی گراوٹ بڑھانے والوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بھی بنے گا۔

Facebook Comments HS