ایک دن انگریزی میڈیم اسکول کے ساتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چٹکلوں اور فلموں میں بہت بار سنا اور دیکھا ہے کہ ہم اسکولوں سے بھاگتے بہت ہیں ایسا ہی ایک واقعہ مجھے یاد آ رہا تھا جب میں آج نمبر ون ہائی اسکول کے سامنے سے گزر رہا تھا، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے علم اور طالب میں صرف چند سنٹی میٹر کا ہی فاصلہ باقی ہے،

علم کے سمندر سے بھاگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ، یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے جس سے پردہ اٹھانا، حقیقت میں اپنی عزت کا جنازہ اٹھانے جیسا ہے، افسوس مجھے اسکول پر ہو رہا تھا جس نے خود کو مجھ جیسے ذہین طالب علم سے محروم رکھا، لیکن دنیا کی نظر میں نمبر ون ہائی اسکول ہی رہا۔

ماضی میں چلتے ہیں، واقع اکیسویں صدی کے ایک دن کا ہے، وہ دن تاریخ کے اوراق میں نامعلوم دن شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن بہر حال یہی کوئی اپریل کا اختتام ہو گا، کیونکہ یاداشت سر پیر مار رہی ہے کہ اس سے اگلا دن یوم مزدور تھا، جس کی چھٹی ازل سے نسل انسانی پر فرض ہے، اسکول داخل ہونے کے لئے شکل کا اچھا ہونا بالکل ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا، اس لئے اس وقت کے طالب علموں میں طالبانوں والی صورتیں عام دیکھنے کو مل جایا کرتی تھیں، پچاس روپے کے عوض مجھے داخلہ مل گیا، جس کے پیچھے ہمارے والد کے تعلقات بھی تھے۔

سرکاری اسکولوں کا جغرافیہ کافی وسیع ہوا کرتا تھا، اس لئے وہاں کلاسوں اور اساتذہ کی کثیر تعداد پائی جاتی تھی، آج کل تو اسکولوں کا آدھے سے زیادہ حصہ محکمہ جنگلات کے پاس ہوتا ہے، اور آدھے سے زیادہ اساتذہ پرائیویٹ سیکٹر کی گرفت میں ہوتے ہیں، نئی وردی میں انسان مردے کی طرح اکڑ جر چلتا ہے، اس کے باوجود مجھے ایک کلاس میں بٹھا دیا گیا، اور کلاس کا وقت شروع ہونے ہی والا تھا۔

پہلی کلاس انگریزی کی جس کو دیکھ کر میرا تو کم از کم سینہ چھلنی ہو گیا تھا، لیکن کیا کریں غلامی کا دور تازہ رکھنے کے لئے ہمیں انگریزی بھی تازہ رکھنی ضروری تھی، نوے سے زیادہ طالب علموں کی کلاس میں ’میں‘ بندہ ناچیز آخری بینچ پر بیٹھا رائٹنگ بورڈ کو آدھا کھڑا ہو کر دیکھ رہا تھا، انگریزی ویسے بھی دور سے دھندلی نظر آتی ہے، اور دوسری طرف مجھے گھبراہٹ میں مبتلا کرنے والے میرے علاوہ دوسرے طالب علم تھے جو لکھنے میں ایسے مصروف تھے جیسے ایک نکما صحافی سیاست دانوں کی پریس کانفرنس نوٹ کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔

خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا، استاد کلاس سے باہر نکلا اور میں نے قوم نوح کے عذاب سے بچ جانے والوں کی طرح شکر ادا کیا، دوسرا پیریڈ فزکس کا تھا، فزکس کے میدان میں نیوٹن نے گھوڑا دوڑایا ہو گا بقول جو استاد پڑھا رہا تھا، لیکن آب ہمیں کیا پتا نیوٹن کون تھا؟ ہماری پھوپی کا منڈا تو بالکل بھی نہیں تھا، استاد مشکل انگریزی بول بول کر دماغ کا اوپر والا حصہ کھا رہا تھا، لیکن کیا آسان انگریزی بھی ہوتی ہے؟ یہ بحث پھر کبھی سہی کیونکہ انگریزی سے ہمارا واسطہ پڑتا رہتا ہے، سمجھ سے بالا تر فزکس کی باتیں مجھے پڑھائی سے بہت دور لے جا رہی تھیں، اوپر سے ساتھ والا میرا ہم سایہ فزکس کی کتاب کھول کر بیٹھا تھا، جس کو دیکھ کر مجھے یرقان ہوتے ہوتے بچا، آخر عذاب ہی تو تھا ٹل گیا۔

تیسرا پیریڈ کیمسٹری کا شروع ہوا، جس نے واقعی میرا قیمہ بنا دیا تھا، کیمسٹری کے استاد کی شکل بھی ایسی تھی کہ کیمسٹری سمجھ آ بھی رہی ہو تو شکل دیکھ کر سمجھ جاتی رہتی، آب میں خود کو مشکل میں ڈال کر بورڈ دیکھنا ہی چھوڑ دیا تھا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے، آرام سے پیچھے بیٹھا میں سوچنے پر مجبور تھا کہ مشکل وقت ہے، میں نے کوئی بدفعلی بھی تو نہیں کی پھر یہ عذاب کیسا؟ باقی سب لکھنے پڑھنے اور سمجھنے میں مصروف تھے، یہ بات حیرت انگیز طور مجھے خود پر لعنت بھیجنے کے لئے کافی تھی۔

کیمسٹری کے بعد بریک کا پیریڈ شروع ہوا، جسے تفریح بھی کہا جاتا ہے، حق بھی بنتا تھا، میں آندھی میں شاپر کی طرح غیر سنجیدہ حرکات کرتا ہوا پورا اسکول گھوم رہا تھا، کہ شاید پھر کبھی یہاں آنا نصیب نہ ہو، تفریح کے بعد ریاضیات کا سلسلہ شروع ہوا، یہ حد تھی، آب اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا، جمع تفریق سے آگے کی کہانیاں میری عقل تسلیم ہی نہیں کر سکتی تھی، مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں ایتھنز کے شہر میں ہوں، فلسفے کے موضوعات کا ہی علم نہیں اور میں سقراط کی کلاس میں بیٹھا دیوتاؤں کی پوجا کر رہا ہوں۔

ریاضی کی ہلاکتوں کے بعد آب میں کسی اور مشکل مضمون کے انتظار میں تھا، ایک ایسا مضمون جو نفسیات کا گہرا علم اپنے اندر رکھتا ہو، لیکن کہیں نہ کہیں میں غلط بھی تھا اور کہیں نہ کہیں میں سہی بھی ثابت ہوا، آخر تحریر میری ہے، اپنے بارے میں غلط کیسے لکھ سکتا ہوں، مطالعہ پاکستان کی کلاس شروع ہوئی، جسے سب ”pak study“ کہ رہے تھے، جس کا ایک اور مطلب یہ تھا کہ کلاس پھر انگریزی میں پڑھائی جائے گی، میرے لئے الگ الگ مضمون کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے تھے کیونکہ آخر پڑھائے تو انگریزی میں جانے تھے، اس لئے میرے لئے تمام مضامین انگریزی کے ہی تھے، اور میں یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا کہ ہمارے آبا و اجداد نے انگریزوں کی غلامی کیسے برداشت کر لی ہم سے تو انگریزی کے چند پیریڈز برداشت نہیں ہو رہے، پیریڈز کی جگہ لیکچر کر لیں، میرا ایک دوست کہتا ہے کہ پیریڈز ایک خاص کیفیت میں استعمال ہونے والا لفظ بے جس سے مراد کچھ اور ہے، یہ انگریزی میں پڑھائی جانی والی تعلیم کے حصول کے ادارے میں بطور ایک طالب علم میرا آخری دن تھا، جسے پہلا دن بھی کہا جا سکتا تھا، لیکن انگریزی نے مجھے مکمل طور پر دباؤ میں ڈال کر چھٹی پر بھیج دیا، زندگی نے وفا کی تو آب اردو میڈیم اسکول میں ملتے ہیں، جس کے ثمرات کم از کم ڈگری کی حد تک تو ملے انگریزی سے تو آج تک لاتوں کے ثمرات ہی مل رہے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments