شاباش شاہ محمود قریشی


فلسطین کا مسئلہ نیا ہے نہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی داستانیں نئی ہیں۔ یہودیوں کی جارحیت کم ہو رہی ہے نہ مقامی مسلمانوں کی مزاحمت دم توڑ رہی ہے۔

یہ سب کچھ عالمی طاقتوں کے اشارے پر ہو رہا ہے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل کو دنیا کے ”بڑوں“ کی کھلی یا پوشیدہ حمایت حاصل ہے۔

وہ جب چاہتا ہے معصوموں پہ چڑھ دوڑتا ہے اور بستیوں کو روند ڈالتا ہے، ہسپتالوں اور سکولوں کو تباہ کر دیتا ہے۔

ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ مدتوں سے جاری ہے۔ مسلمان ممالک کے اکثر سربراہان اس دراز دستی کے خلاف کسی فوم پر بھی آواز بلند نہیں کرتے۔ نتیجتاً ظالم کا ظلم بڑھتا جا رہا ہے وہ جبر و استبداد کی تازہ داستانیں رقم کرتا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں بھی اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کر دی اور معصوموں کے خون سے ہولی کھیلنے لگا تو ہمیں فیض یاد آ گئے

”یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی ”

لڑائی ہوئی، خوں ریزی ہوئی، معصوم بچے یتیم ہوئے، عورتوں کے سہاگ لٹ گئے، گھروں کے گھر اجڑ گئے اور پھر سیز فائر ہو گیا۔

ان حالات میں نہتے فلسطینیوں کے دہشت زدہ چہروں پہ ایک ہی بات رقم ہے کہ کوئی تو ہو جو اس ناجائز ریاست اسرائیل کا مواخذہ کرے، کوئی تو پوچھے کہ اس نے یہ جنگ چھیڑ کر معصوموں کے خون سے ہولی کیوں کھیلی۔

ایسے میں اگر کوئی بھرپور، جاندار اور دم دار آواز ابھری ہے جس نے دنیا کے بڑے ایوانوں میں لرزہ پیدا کیا ہے تو وہ پاکستان کی آواز ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ دنوں سی این این کی ایک متعصب خاتون اینکر ”بیانا گولودریگا“ کو انٹرویو دیا جس میں انھوں نے فلسطین کے مسئلے پر کھل کر بات کی اور اہل فلسطین کے موقف کی بھرپور تائید کی۔

انھوں نے انٹر نیشنل میڈیا کی منافقت اور جانب داری کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے دنیا کے بڑے میڈیا گروپس کو اپنی جیب رکھا ہوا ہے تبھی ان کو اسرائیل اور ہندوستان کی زیادتیاں اور چیرہ دستیاں نظر ہی نہیں آتیں۔ یہاں شاہ محمود نے ایک لفظ Deep Pockets استعمال کیا اور دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ سی این این کی اینکر جو بہت سے تند و تیز سوال تیار کر کے لائی تھی، حواس باختہ ہو گئی اور مسٹر فارن منسٹر کی بجائے شاہ محمود کو مسٹر ایمبیسڈر کہہ کر پکارنے لگی جس پر شاہ محمود کو اس کی تصحیح کرنا پڑی کہ وہ ایمبیسڈر نہیں ہیں فارن منسٹر ہیں، اس وقت خاتون اینکر کی خفت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

”بیانا گولودریگا“ نے بار بار انٹرویو کا رخ یہودیوں دشمنی یا یہودیوں کے خلاف متعصبانہ رویوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی اور Antisemitism کے لفظ کو درجن بار دہرایا مگر شاباش دینا ہوگی شاہ محمود کو کہ انھوں نے ہر بار اس کے حملے کو بری طرح پسپا کیا اور مسلمانوں سے ہونے والی زیادتیوں کو اس عالمی فورم پر موثر انداز میں پیش کیا۔

اینکر نے چائنہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی طرف شاہ محمود کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی۔ اس کا سیدھا مطلب یہی تھا کہ آپ کو اپنے دوست چائنہ کے مقامی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے کیونکہ ان پر آپ کبھی آواز بلند نہیں کرتے۔ اس پر شاہ محمود نے کہا کہ وہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وقت اور حالات کے تحت ردعمل کرتے ہیں اور یہ کہ وہ ہر چیز کو عوام الناس میں ڈسکس نہیں کرتے۔

شاہ محمود قریشی کے اس انٹرویو نے پوری دنیا کے سوچنے سمجھنے والوں کو بالعموم اور سیاسیات کے طلباء کو بالخصوص مسئلہ فلسطین کے کئی نئے پہلوؤں سے روشناس کرایا ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ممالک کے سربراہان اگر عالمی فورمز پر اسی طرح ٹھوس اور جاندار انداز میں اپنا موقف بیان کرنا شروع کر دیں اور جگہ جگہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر چپ کا روزہ توڑ دیں دیں تو حالات بہت حد تک بہتر ہونے کی توقع ہے۔

آپ اندازہ لگائیں کہ بیمار معیشت کے حامل ایک غریب ملک کے وزیر خارجہ شاہ محمود کی صرف ایک تقریر اور ایک انٹرویو نے عالم کفر کی نیندیں اڑا کے رکھ دی ہیں، اگر سب یک زبان ہو کر اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کی جنگ لڑیں تو کوئی مسلمانوں سے زیادتی کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔

ممکن ہے اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے لیکن ایسے میں ہمیں شاہ محمود اور رجب طیب جیسے لوگوں کو کھڑے ہو کر سیلیوٹ کرنا چاہیے کہ انھوں نے قیادت کا حق ادا کر دیا اور ظلم و استبداد کے علمبرداروں کو بتا دیا ہے ہم ابھی زندہ ہیں۔

شاباش شاہ محمود۔

Facebook Comments HS