اپوزیشن اور حکومتی گٹھ جوڑ کا شکار، بلوچستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پڑھا لکھا اور ایماندار شخص اگر خود ایماندار بھی ہے پڑھا لکھا بھی ہے تو سرکاری کاغذات میں غیر ایماندارانہ لوگوں کی باتیں نہ صرف سنتا ہو بلکہ اس پر من و عن عمل بھی کرتا ہو۔ تو دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری کی پوری دال کالی ہے۔ ابھی کل ہی میں نے ایس این ای میں غیر قانونی پوسٹوں کی تخلیق کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں میرا شکوہ ہے کہ بلوچستان حکومت کاغذوں کی حد تک قانون سازی کرتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں۔

میں نے جس قانون کا حوالہ دیا کہ پبلک فنانس مینیجمنٹ ایکٹ بنایا گیا ہے، اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ الماری میں بند کر دیا گیا ہے۔ ایماندارانہ سرکار نے نیب کے ہاتھوں داغدار جبکہ عدالت کے ہاتھوں باعزت ٹھہرنے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان کے مشوروں کو نہ صرف سراہا بلکہ من و عن عمل شروع کیا ہے، قانون کی شکل دی اور آئین سے متصادم قانون اسمبلی سے پاس کروا دیا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور، جیسی کہاوت یہاں بن رہی ہے اقتدار اور اپوزیشن میں موجود اندرون خانہ گٹھ جوڑ والے چالاک اور شاطر سیاسی مقررین اپنے آقاؤں اور عوامی مزاج کو اب مکمل طور پر بھانپ چکے ہیں۔

تقریروں اور ٹویٹ سے عوامی جذبات کو ٹھنڈا اور گرم رکھتے ہیں۔ عام بلوچستانی کو عوامی مسائل کے بجائے سائنسی علوم میں الجھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ یوں عوام کے سامنے سیاسی مخالفین جبکہ ٹیبل کے نیچے ایک پیج پر موجود رہتے ہیں۔ پبلک فنانس مینیجمنٹ ایکٹ پچھلے سال بڑی امیدوں کے ساتھ منظور کیا گیا تھا۔ کہ جو ہو چکا وہ ہو چکا۔ اب عوام کے پیسوں کو ایک قانون اور قاعدے کے مطابق خرچ کیا جائے گا۔ ہم بھی خوش ہوئے کہ چلو ہمارے سیلیکٹڈ حکمرانوں کو بھی عوام کا کچھ خیال تو آیا۔ لیکن یہ ہماری خام خیالی ثابت ہوئی اور دم اسی طرح ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہی۔

غالباً کچھ دن پہلے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے پبلک فنانس مینیجمنٹ ایکٹ میں سرکاری کرپٹ بابووں کے زور دینے پر ترامیم منظور کر لیں اور اس قانون کا حلیہ ہی بگاڑ دیا۔

الحمدللہ ہماری اپوزیشن پہلے کی طرح گم سم ہی رہی۔ کسی نے پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر جام کے مقابلے اور ٹکر کے لوگ اپوزیشن میں بھی وافر تعداد میں دستیاب ہیں لیکن پتہ نہیں پسند کی بل، کاغذات اور کتابیں دیکھنے اور پڑھے کے عادی ہیں

اب وہ ترامیم کیا ہیں۔ ؟ مختصر چند ایک ملاحظہ کیجیے

1۔ قانون کو کس طرح اپنے تابع کیا جاتا ہے یہ کوئی جام حکومت سے سیکھے۔ ایکٹ کے سیکشن 13 میں تمام ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو پلاننگ کمیشن اور پی اینڈ ڈی کی گائیڈ لائنز اور Temp مطابق لازمی تیار کرانا تھا۔ اسے بھی shall کی بجائے May کر دیا گیا۔ مطلب پلاننگ کمیشن اور پی اینڈ کے پروسیجر کے مطابق اگر پراجیکٹس تیار نا بھی کیے جائیں تو کوئی پکڑ نہیں۔

2۔ سیکشن 14 میں تمام ڈویلپمنٹ پراجیکٹس میں کوالٹی کو لازمی قرار دیا گیا تھا اب اس میں ترمیم کر کے Shall کو May تبدیل کر دیا ہے۔ جو انتہائی افسوسناک ہے۔

3۔ سیکشن 16 کے تحت وہ تمام ڈویلپمنٹ پراجیکٹس جن کی ٹیکنیکل اپروول اور بجٹ میں 30 فیصد ایلوکیشن نا ہو وہ شامل نہیں ہو سکتے تھے اب ترمیم کے ذریعے یہ شرط دو سال پر محیط کر دی گئی ہے اور 30 فیصد ایلوکیشن کو بھی گھٹا کر 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تاکہ پہلی حکومتوں کی طرح زیادہ سے زیادہ اسکیمات بجٹ میں شامل کی جا سکیں اور سیلیکٹڈ لوگوں کو خوش کیا جا سکے۔

4۔ ایکٹ سے سیکشن 18 ختم کر دیا گیا جس کے تحت ہر محکمہ فزیکل انفراسٹرکچر کی Repair and Maintinanace کے لیے مناسب فنڈ مختص کرے گا۔ اس سیکشن کو ختم کرنے کا مطلب ہے کہ پہلے والا فزیکل انفراسٹرکچر بے شک تباہ ہو جائے اس کے لیے فنڈ نہیں رکھنے۔ نئی اسکیمات میں شاید پرسنٹیج زیادہ بنتی ہے۔

5۔ ایکٹ کے سیکشن 19 ( 1 ) کے تحت پرنسپل اکاؤنٹنگ افسرز یعنی سیکریٹریز پر لازم تھا کہ وہ محکمے کے فکسڈ ایسیٹس کا ایک رجسٹر آپ ڈیٹ کریں گے تاکہ ان سے زیادہ سے زیادہ ریٹرن حاصل کیا جا سکے۔ اب اس میں ترمیم کر کے سیکریٹری صاحبان کو رعایت دے دی گئی کہ وہ یہ کام دو سال کے عرصے میں کر سکتے ہیں۔ مطلب اس حکومت کے خاتمے کے بعد دیکھا جائے گا۔ کہ ڈیٹا بنک بنا یا نہیں، اور ریٹرن والا سب سیکشن 2 ہی ختم کر دیا۔ مزید سب سیکشن 3 میں سیکریٹریز کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اس بارے Periodically رپورٹ محکمہ فنانس کو بھیجیں گے۔ اب Shall کو May میں تبدیل کر دیا گیا۔ مطلب اب لازم نہیں رہا۔

6۔ پہلے ایکٹ کے سیکشن A 27 میں لکھا تھا۔ کہ بجٹ خسارے کو زیرو کرنے کے لیے ہر سال 10 ارب کے خسارے میں کمی کی جائے گی۔

اب ہمارے شیروں نے وہ سیکشن ہی اڑا دیا کہ نا قانون میں لکھا ہو گا اور نا ہی کوئی پوچھے گا۔ کھل کے کھیلنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *