میرا جسم میری مرضی


وہ سامنے ٹی وی پر عورت مارچ کے حوالے سے آنے والی خبریں دیکھ رہی تھی عورت مارچ کے خلاف بولنے والے بہت موجود تھے کچھ کا یہیں کہنا تھا کہ میرا جسم میری مرضی یہودی پروپیگنڈا ہے پاکستان میں عورت کو ہر قسم کے حقوق حاصل ہے یہاں عورت ہر طرح سے محفوظ ہے یہاں عورت کو آزادی حاصل ہے اسلامی تنظیم کی خواتین حجاب میں اپنے محرم رشتوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابیں ملا رہی تھیں اور وہ بیٹھی صرف یہ سوچ رہی تھی کہ ان خواتین کے محرم اگر ان کا سائبان ہے تو کیا یہ لازم ہے معاشرہ میں بسنے والی تمام خواتین کے محرم ان کے لیے ٹھنڈی چھاؤں اور سائبان ہو؟

٭ ٭ ٭

ثوبیہ کہاں رہ گئی ہو؟ مجھے روز آفس سے دیر ہو جاتی ہے انتہائی کوئی سست الوجود عورت ہو تم، بلاول کسی سیٹھ صاحب کی طرح ناشتہ کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے چیخ رہا تھا ثوبیہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آئی اور ناشتہ ٹیبل پر رکھا اس کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا اور نقاہت کے باعث وہ بہت مشکل سے ناشتہ تیار کر پائی تھی مگر بلاول صاحب کو کسی بات کا کوئی احساس نہیں تھا ان کو ناشتہ ٹیبل پر چاہیے تھا ہاتھ پاؤں چلانا یا پھر کچن میں داخل ہونا وہ خود پر حرام سمجھتے تھے اور اوپر سے ثوبیہ کی حالت کا خیال کرنے کے بجائے حکم صادر کرتے۔

٭ ٭ ٭

اس کو ماں کے گھر آئے ہوئے پندرہ دن گزر چکے تھے زندگی نے آگے کیا رخ لینا تھا اس سے وہ خود انجان تھی وقت گزاری کے لیے ٹی وی دیکھ لیتی اور آج عورت مارچ نظروں کے سامنے تھا۔

٭ ٭ ٭

ثوبیہ میں نے تمھیں کہا تھا کہ بے شک تمھاری دونوں بیٹیاں نارمل ڈیلیوری سے ہیں مگر اب کی دفعہ وقفہ لینا تم بے حد کمزور ہو چکی ہو تمھیں پتا ہے تمھارا دونوں دفعہ خون ضائع ہوا ہے اور پھر بھی تم اپنا خیال نہیں رکھتی ڈاکٹر نے ثوبیہ کی حالت دیکھتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر صاحبہ بلاول کو بیٹے کا جنوں کی حد تک شوق ہے وہ میری کسی بات کو کوئی اہمیت دیتے ثوبیہ نے اپنا دکھڑا کہا۔ دیکھو ثوبیہ ایک بات میں تم پر واضح کر رہی ہو تمھاری حالت کو دیکھتے ہوئے ہو سکتا ہے اس دفعہ آپریشن کرنا پڑے خود کو اس بات کے لیے تیار رکھنا۔

٭ ٭ ٭

اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان حجاب والی خواتین کو جاکر کہے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ ہو سکتا ہے یہودی پروپیگنڈا ہو مگر اس نعرہ پر عمل کسی عورت کی ضرورت بھی ہو سکتا ہے کیا وہ یہ بات سمجھتی اور جانتی ہیں اگر نہیں تو سمجھیں اور جانیں اور اس نعرہ کو غلط نہیں کہیں۔

Facebook Comments HS