پچاس لاکھ نوکریوں کا وعدہ اور دم توڑتے نوجوان



وطن سے محبت انسان کی گھٹی میں شامل ہے جس جگہ کوئی جنم لیتا ہے جہاں اس کا بچپن اور لڑکپن گزرتا ہے وہ جگہ انسان کبھی نہیں بھولتا، انسان کہیں بھی چلا جائے لیکن اپنی جنم بھومی کو نہیں بھول سکتا وہ جگہ وہ مٹی کہیں اس کے اندر بستی ہے۔ شاید قدرت نے اس کو اسی مٹی سے خلق کیا ہوتا ہے۔ اس لئے اس مٹی سے اس کا اٹوٹ رشتہ ہوتا ہے، وہ اپنے وطن کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

پھر بھی ہمارے نوجوان جو کہ ابھی پوری طرح جوان بھی نہیں ہوئے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر، جان جوکھم میں ڈال کر مستقبل کے حسین خواب آنکھوں میں سجائے اپنے وطن اپنی جنم بھومی اپنے ماں باپ، عزیزو اقارب، دوستوں یاروں کو چھوڑ کر اس ملک سے ہجرت کر جانا چاہتے ہیں۔ کیوں؟ جلا وطنی آسان تو نہیں! پچھلے زمانوں میں تو کسی کو سخت ترین سزا دینا مقصود ہوتا تو اس کو جلا وطن کر دیا جاتا تھا۔ لیکن آج ہمارے لوگ ہمارے نوجوان اس جلاوطنی کو ہنسی بخوشی، رضا و رغبت قبول کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ اس ملک میں روٹی بھی نہیں ملتی، اور روٹی سے بڑی حقیقت کوئی نہیں پیٹ میں روٹی نہ ہو تو محبت، تہذیب، وطن، مٹی سب تیل لینے چلے جاتے ہیں۔

ابھی کل خبر ملی کہ ایک دوست کا بھانجا اٹھارہ سال کا گھبرو جوان یونان جاتے ہوئے تاریک راہوں میں مارا گیا۔ مر تو وہ کوئی دو مہینے پہلے ہی چکا تھا لیکن والدین کو کل پتہ چلا۔ دو مہینے سے والدین کا اس سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بیٹے کی کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ ایجنٹ جس سے صرف ٹیلیفون پر رابطہ تھا وہ دو مہینے ٹال مٹول کرتا رہا اور کہتا رہا کہ سب اچھا ہے۔ سب خیریت ہے۔ ماں باپ نے تنگ آ کر اپنے تئیں پتہ لگانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ کوئی دو ماہ پہلے ایران سے ترکی جاتے ہوئے سفر کی صعوبتوں اور تکالیف کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا۔ لاش بھی نہ ملی۔ لاش وہیں کہیں کسی برفانی پہاڑ پر چھوڑ کر قافلہ جنت ڈھونڈنے آگے بڑھ گیا۔

اس ماں کا سوچ سوچ کے دل میں ہول اٹھتے ہیں، اس ماں کی، اس باپ کی کیا حالت ہوگی جن کو بچے کی لاش بھی دیکھنی نہ نصیب ہوئی۔ اس ماں کا کیا حال ہوگا جس نے دن رات جاگ کر اپنا خون جگر پلا کر اس کو پالا۔ باپ جس نے خون پسینہ ایک کر کے اس کو پوسا اور بڑا کیا اور جب بیٹا جوان ہوا تو غربت نے اس کو نگل لیا۔ غریب ممالک کی اداس نسلیں، جن کے لئے یورپ و امریکہ جنت ہیں، کیونکہ وہاں روٹی ملتی ہے۔ اور روٹی سے بڑی حقیقت کوئی نہیں۔

وطن تو فطرت کا جبر ہے۔ اب جو بدقسمت نوجوان اس مملکت خدا داد میں پیدا ہو گئے یہ ان کا اپنا انتخاب تو نہیں تھا۔ ان کا کیا قصور کہ انہوں نے اس ملک میں جنم لیا۔ ان کی کیا غلطی کہ وہ غریب ماں باپ کے گھر پیدا ہو گئے۔ ملازمتیں ہیں نہیں، کاروبار کرنے کے لئے سرمایہ نہیں اگر ہے تو نظام ایسا ہے کہ ہر قدم پر رکاوٹیں ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں جو اس نظام سے لڑ کر ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے مقام بناتے ہیں۔ نہیں تو اکثریت بے چاری ان سب حالات، بھوک و غربت سے مجبور ہو کر ہجرت کے راستے تلاش کرتی ہے کہ وہاں چلے جائیں جہاں کم ازکم دو وقت کی روٹی مل سکے اور محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکیں۔

ایک چھوٹا سا گھر بنا لیں، معاشرے میں تھوڑی سی عزت پا لیں۔ اور آخر کار حسین خواب بنتے ان ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، جن میں سے کچھ لٹے پٹے موت سے لڑتے اپنے خوابوں کی سرزمین پر پہنچ جاتے ہیں اور ایک اور کڑی آزمائش کے حوالے ہو جاتے ہیں، پولیس سے چھپتے، اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے، سخت ترین مشقت کرتے ہوئے اپنی جوانی گزار دیتے ہیں اور کچھ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ قبر بھی نصیب نہیں ہوتی۔

خدارا یہاں روکھی سوکھی کھا لیجئیے اپنے جگر گوشوں کو ان بے رحم قاتلوں کے حوالے مت کیجئیے۔ کیونکہ جوان بیٹے کی موت سے بڑا دکھ کوئی نہیں۔ اور ایسا دکھ کہ جوان بیٹے کی قبر بھی نصیب نہیں کہ جس کے سرہانے بیٹھ کر رو ہی سکے۔ وہ ماں باپ نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں یا شاید جیتے جی مر جاتے ہیں۔

ہر سال دسیوں نوجوان ان راہوں میں مارے جاتے ہیں کبھی بلوچستان میں پنجابی کہہ کر مار دیے جاتے ہیں، کبھی سرحد پار کرتے ہوئے مر جاتے ہیں اور کبھی سفر کی سختیوں کے سامنے زندگی کی بازی ہار دیتے ہیں۔ شاید غریب ریاست کے نوجوان جہاں بھوک و ننگ ہوتی ہے اسی طرح روزی روٹی کی تلاش میں اندھیرے رستوں میں مارے جاتے ہیں۔ ان کی قسمت کا فیصلہ شاید اسی دن ہو جاتا ہے جس دن وہ کسی غریب گھر، کسی غریب اور کرپٹ ریاست میں پیدا ہوتے ہیں، پیدا ہوتے ہی ان کا تکلیفوں اور دکھوں بھرا سفر شروع ہوجاتا ہے۔

وزیراعظم تو کہتے تھے کہ یہاں پر لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے، وزیراعظم صاحب آپ اپنی آدھی سے زیادہ مدت گزار چکے ابھی تک تو یہاں لوگ نوکریاں ڈھونڈنے نہیں آئے۔ ہاں پر خطر راستوں سے مزدوریاں کرنے باہر ضرور جا رہے ہیں۔ اور اعداد و شمار کے مطابق پچاس لاکھ کے قریب اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں، آپ سے دست بستہ درخواست ہے کہ باہر سے بے شک لوگ نوکریاں ڈھونڈنے پاکستان نہ آئیں لیکن یہاں جو بد قسمتی سے ہیں ان کو ہی نوکری دے دیجئیے، تاکہ وہ اپنی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔ نوکری نہیں دے سکتے تو ان ایجنٹوں کو ہی پکڑیے جو غریبوں کے جوان بیٹے حسین خواب دکھا کر پیسوں کی خاطر قتل کر رہے ہیں۔ نوجوان تو کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں آپ نے اس سرمائے کو بوجھ کیوں بنا رکھا ہے؟

کیا ان کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک اشرافیہ زدہ ریاست میں پیدا ہو گئے ہیں کہ اگر انہیں یہاں رہنا ہے تو خون جگر دے کر اشرافیہ کو پالیں اور اگر نہیں سہ سکتے تو پھر ہجرت کے دکھ اٹھائیں۔

Facebook Comments HS