جون آف آرک: فرانس کو فتح دلوانے والی 17 سالہ لڑکی جسے بدعتی قرار دے کر جلا دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جان آف آرک

’جب میں تیرہ برس کی تھی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ مجھے اپنی زندگی بدلنی ہو گی۔ میں نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ مجھے یہ آواز چرچ کی دائیں طرف سے آئی۔ مجھے ان آوازوں کے ساتھ ہمیشہ چرچ کے دائیں طرف تیز روشنی بھی دکھائی دیتی ہے۔ تین مرتبہ یہ آواز سننے کے بعد مجھے یقین آ گیا کہ یہ آواز کسی فرشتے کی ہے۔‘

جون آف آرک ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والی لڑکی کی کہانی ہے جس نے غیبی آوازوں کے کہنے پر تلوار اٹھائی اور اپنی جرات اور بہادری سے نہ صرف فرانس کو انگریزوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا بلکہ اس نے اپنے بادشاہ کی تاج پوشی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

پندرہویں صدی عیسوی میں برطانیہ کے خلاف سو سالہ جنگ کے آخری دنوں میں جون آف آرک کو جرت مندانہ فتوحات کی وجہ سے فرانس میں قومی ہیروئن کا درجہ حاصل ہے۔ وہ فرانس کے علاقے ورڈن سے 45 کلو میٹر دور ایک گاؤں ڈومیلیہ میں سنہ 1412 میں پیدا ہوئیں اور انھیں ’میڈ آف لورین‘ بھی کہا جاتا ہے۔

صرف 17 برس کی عمر میں انھیں یہ یقین ہو گیا کہ غیب کی طرف سے انھیں یہ پیغام ملا ہے کہ وہ فرانس کو فتح سے ہمکنار کر سکتی ہیں۔ سنہ 1429 میں چارلس ہفتم نے اولیوں کے محاصرے کو توڑنے کی مہم ان کے سپرد کی اور انھوں نے اس مہم میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔

انھوں نے بہت سی دیگر جنگی مہمات میں شرکت کی لیکن سنہ 1430 میں وہ کومپینئے میں پکڑی گئیں اور انگریزوں نے انھیں سنہ 1431 میں توہمات پھیلانے کا مجرم قرار دے کر رون میں زندہ جلا دیا۔

ان کی ہڈیاں تک جل کر راکھ ہو گئیں کیونکہ ان کی لاش جل جانے کے بعد ان کی ہڈیوں کو دوبارہ جلایا گیا اور راکھ کو دریائے سین میں بہا دیا گیا تاکہ ان کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہے۔

سنہ 1455 میں اس وقت کے پوپ کالکسٹس سوئم نے ان کے مقدمے کی از سر نو سماعت کی اور ان کے خلاف فیصلے کو تبدیل کر دیا۔ لیکن ان کو مقبولیت اور تکریم سنہ 1909 میں حاصل ہوئی جب ان کی جائے پیدائش اور ان کی شخصیت میں بیسویں صدی کے اوائل میں عوامی دلچسپی بڑھنے لگی۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران ایسی اطلاعات بھی ملیں کہ فرانسیسی فوجی جون آف آرک کے عکس اپنے ساتھ لے کر میدان جنگ میں جاتے ہیں اور ایک موقع پر جرمن فوج کی سرچ لائٹس میں بادلوں میں ایک عکس دیکھا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ جون آف آرک کا تھا۔

سنہ 1920 میں انھیں باقاعدہ ایک روحانی شخصیت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا اور ‘لورین کا کراس’ دوسری عالمی جنگ میں فرانسیسی افواج میں ایک علامت بن گیا۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اتحادی اور جرمن افواج میں کومپینیئے کے جنگلات میں معاہدہ ہوا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں پانچ سو سال قبل سنہ 1430 میں جون آف آرک کو انگریز فوج نے گرفتار کیا تھا۔

بی بی سی کے ریڈیو پروگرام فورم میں ادب، تاریخ اور فلم کے چار ماہرین نے ان کی ہنگامہ خیز زندگی، فوجی مہمات اور پھر ان پر مذہبی عقائد سے انحراف کرنے پر مقدمہ چلائے جانے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

فرانس میں ایک کسان گھرانے کی اس لڑکی نے 16 برس کی عمر میں یہ دعویٰ کیا کہ اسے غیب سے یہ ہدایات ملی ہیں کہ وہ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں فرانس کو فتح سے ہمکنار کر سکتی ہے۔

جون آف آرک کی ہنگامہ خیز زندگی اور ان کی درد ناک موت پر یورپ اور امریکہ میں بے شمار کتابیں تحریر ہوئی ہیں، گانے بنائے گئے ہیں اور اتنی فلمیں تخلیق کی گئی ہے کہ تاریخ میں ان کی شخصیت لافانی ہو گئی ہے۔

جان آف آرک

بی بی سی کی پیش کار برجٹ کینڈل نے جون آف آرک کی کہانی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے برطانوی تاریخ دان اور مصنفہ جولیٹ بارکر، جون آف آرک پر چلنے والے مقدمے کی دستاویزات کا ترجمہ کرنے والے تاریخ داں ڈینئل ہوبنز، فلم سکالر روبن بلیکس اور قرون وسطیٰ کے دور کی تاریخ کے فرانسیسی ماہر ژاویئے آلاوی سے بات کی۔

چھ سو سال پہلے کی اس کہانی میں اکیسویں صدی میں کیوں بات کی جاتی ہے؟ برجیٹ کینڈل کے اس سوال پر ڈینیئل ہوبنز کا کہنا تھا کہ پندرہویں صدی میں جب معاشرے پر پوری طرح مرد حاوی تھے ایک 17 سالہ لڑکی اتنی بڑی فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ آج کی دنیا کے لیے جب صنفی مساوات پر بہت بحث کی جاتی ہے تو اس لڑکی کی کہانی ایک روشن مثال ہے۔

جولیٹ بارکر کے مطابق یہ کہانی آج بھی اس لیے اہم ہے کہ یہ تمام روایات سے انحراف کی کہانی ہے جس میں یہ غریب لڑکی اٹھتی ہے بادشاہوں سے ملتی ہے اور ان کی جنگوں میں قیادت کرتی ہے۔

فرانسیسی ماہر ژاوئے کا کہنا تھا کہ آسٹریا اور فرانس میں جون آف آرک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان پر بہت کچھ لکھا گیا اور وہ چھ صدیاں گزر جانے کے باوجود بہت مقبول ہیں۔

روبن بلیکس کے قریب جون آف آرک کی کہانی ایک غیر معمولی یا عام زندگی سے ہٹ کر ہے۔ گذشتہ چھ سو سال میں لوگوں نے اس کہانی کو سمجھنے کے لیے بہت کچھ تحریر اور تخلیق کیا۔ ایک خاتون ہونے کے باوجود انھوں نے وہ کچھ کیا جو کہ انھیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔

برجیٹ نے اس دور کے حالات مختصراً بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس دور کی بات ہے جب فرانس اور برطانیہ میں مختلف تنازعات پر جنگ جاری تھی جو سو سال تک جاری رہی۔

اس جنگ میں دیگر تنازعات کے علاوہ بڑا جھگڑا اس بات پر تھا کہ فرانس کے تخت پر کسی کا حق ہے۔ انگریزوں کا دعویٰ تھا کہ موروثی طور یہ ان کا حق ہے اور جون جب بچی تھیں، تب انگریز بادشاہ ہینری پنجم نے اس حق کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کی۔

شمالی فرانس میں ایجن کورٹ کے مقام پر 25 اکتوبر سنہ 1415 کو لڑی جانے والی اس جنگ میں بادشاہ ہنری پنجم کی فوجوں نے عددی طور پر اپنے سے برتر فرانسیسی فوج کو غیر متوقع طور پر شکست دے دی۔

اس جنگ میں ہنری پنجم نے دست بدست لڑائی میں حصہ لیا جبکہ دوسری طرف فرانسیسی فرماں روا چارلس پنجم کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنی فوج کی قیادت نہیں کر سکے۔

اس فتح کے بعد ہنری پنجم فرانس میں مزید پیش رفت کرنے کے لیے تیار تھے۔ یہ جنگ صرف انگریزوں کی فرانسیسیوں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ یہ فرانس کے اندر جاری خانہ جنگی کا بھی حصہ تھی جس میں ایک طویل عرصے سے برگنڈی اور آرمینگ کے لوگ آمنے سامنے تھے۔

جولیٹ نے ان لوگوں کے بارے میں بتایا کہ برگنڈی کے لوگ ڈیوک آف برگنڈی کے پیش رو تھے جبکہ آرمینگ ڈیوک آف اولیوں کے پیچھے چل رہے تھے۔ یہ دونوں راجہ بادشاہ کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے تھے۔

بادشاہ چارلس ششم کی سنہ 1390 سے دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ پاگل پن کا شکار تھے۔ وہ فرانس کو مؤثر طور پر چلانے کے قابل نہیں تھے اور ملک محلاتی سازشوں، افراتفری اور باہمی جھگڑوں کا شکار تھا۔

فرانس کی تاریخ کے اس پرآشوب دور میں جون آف آرک ہوش سنبھالتی ہیں جب برگنڈی کے لوگ انگریزوں کی پشت پناہی میں ان کے علاقوں پر حملے کر رہے تھے اور جون آف آرک کا گاؤں ان حملوں کی زد میں رہتا تھا۔

جون آف آرک سے منسوب ایک دستاویز میں وہ اپنے بارے میں کہتی ہیں ‘جب میں 13 برس کی تھی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ مجھے اپنی زندگی بدلنی ہو گی۔ میں نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ مجھے یہ آواز چرچ کی دائیں طرف سے آئی مجھے ان آوازوں کے ساتھ ہمیشہ چرچ کے دائیں طرف تیز روشنی بھی دکھائی دیتی ہے۔ تین مرتبہ یہ آواز سننے کے بعد مجھے یقین آ گیا کہ یہ آواز کسی فرشتے کی ہے۔’

ژوائیے نے غیب کی طرف سے جون آف آرک کو ملنے والے پیغام کے بارے میں کہا کہ انھیں کہا گیا کہ وہ ڈوفان سے ملنے کے لیے جائیں اور ان کی انگریزوں کو ملک سے نکالنے میں مدد کریں۔

غیب سے موصول ہونے والے ان پیغامات کے بارے میں جولیٹ کا کہنا تھا کہ ایسا دعویٰ کیا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ 14 ویں صدی میں آپ کو ایسی بے شمار خواتین ملیں گی جنھوں نے خدا کی جانب سے پیغامات موصول ہونے یا غیر معمولی روحانی صلاحیتوں کے دعوے کیے ہوں۔ اس دور کے حالات پر نظر ڈالتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس وقت خواتین کو کلیسا میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں تھی اس لیے بہت سی خواتین ایسی دعوے کیا کرتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ البتہ یہ معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ کیا واقعی ان میں سے چند ایک کو غیب سے کوئی احکامات موصول ہوتے تھے۔

آج کل کے دور میں اگر کوئی ایسا دعوے کرے تو اس کی ذہنی حالت کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس بارے میں روبن کا کہنا تھا کہ مختلف ادوار میں جون کے بارے میں مختلف باتیں کی جاتی رہی ہیں کہ انھیں مرگی کا مرض تھا یا وہ کسی اور نفسیاتی مرض میں مبتلا تھیں۔

ایک غریب کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والی جون آف آرک اُس دور میں فرانس کے بادشاہ چارلس تک رسائی حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوئیں اس بارے میں روبن نے بتایا کہ رابرٹ ڈی باڈریکورٹ نے جان آف آرک کو چند مسلح محافظ فراہم کیے اور وہ دشمن کے علاقے میں ایک طویل سفر کر کے شنون پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔

جون آف آرک کے شنون پہنچ جانے کو بھی اس بات کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا جانے لگا کہ انھیں واقعی غیب کی طرف سے کوئی اہم کام سرانجام دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

بادشاہ چارلس نے جون آف آرک کو نیو اورلیوں کا محاصرہ چھڑانے کی مہم کی قیادت سونپ دی۔ جولیٹ نے بتایا کہ نیو اورلیوں طویل عرصے سے انگریزوں کے محاصرے میں تھا اور خطرہ یہ تھا کہ اگر انگریز نیو اورلیوں پر قابض ہو جاتے ہیں تو پھر پورے جنوبی فرانس میں پیش قدمی کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔

جون آف آرک ایک بڑی فوج کی قیادت کرتے ہوئے دریائی راستے سے نیو اولیوں پہنچیں تو ہوائیں مخالف رخ پر چل رہی تھیں لیکن اچانک ہواؤں کا رخ تبدیل ہو گیا اور وہ نیو اولیوں میں داخل ہو گئیں جہاں ان کا زبردست استقبال کیا گیا کیوں کہ وہ ایک امید بن کر آئی تھیں۔

جان آف آرک

فرانس کے شہنشاہ کی تاج پوشی میں جون آف آرک کے کردار اور ان کی اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کے بارے میں ژاوئے کا کہنا تھا کہ تاج پوشی کی تقریب صرف ایک سیاسی تقریب نہیں تھی بلکہ اس کی مذہبی اہمیت بھی تھی۔ چارلس ہفتم کے تخت پر بیٹھنے کے بعد ٹراو کا معاہدہ جو فرانس کے فرما روا چارلس ششم اور ہنری ہنجم کے درمیان ہوا تھا وہ ختم ہو گیا۔

جولیٹ نے یہاں اس بات کی طرف نشاندہی کی کہ چارلس ششم اور ہنری پنجم کا انتقال سنہ 1422 میں ہو گیا تھا اور اس دوران فرانس میں کوئی حکمران نہیں تھا۔ ایسی سیاسی حالت میں جون کا چارلس کو تقریباً زبردستی ان کی مرضی کے خلاف تخت پر بٹھا دینا ایک بڑی کامیابی تھی۔

یہ جون آف آرک کی زندگی کا نکتہ عروج تھا اس کے بعد انھوں نے پیرس پر حملہ کیا لیکن وہ ناکام رہیں۔ اس کے بعد انھوں نے دوسری جگہوں کا رخ کر لیا جو سیاسی کشمکش کا شکار تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون آف آرک ہمیشہ ایک جنگجو کی زندگی گزارنا چاہتی تھیں اور سفارت کاری سے معاملات کو سلجھانا ان کے مزاج کا حصہ نہیں تھا۔

ڈینیئل کا اس بارے میں کہنا تھا کہ سفارت کاری ان کے قریب سے بھی نہیں گزری تھی۔ وہ ہمیشہ فوجی حل کے بارے میں سوچتی تھیں اور اس کے علاوہ انھیں کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ان کا کردار اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ بادشاہ کے ارگرد بہت سے لوگ ایسے تھے جو انھیں سفارتی حل کا مشورہ دے رہے تھے لیکن وہ اس سے بالکل مختلف سوچ رکھتی تھیں اس وجہ سے شاید بادشاہ بھی یہ چاہتا ہو کہ وہ اپنے گاؤں واپس چلی جائیں اور ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کریں۔

یہاں سے ان کی زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے اور وہ بادشاہ کی اجازت کے بغیر کومپینئے چلی جاتی ہیں۔ جولیٹ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی تھیں کہ ‘خدا ان کی پشت پر’ ہے اور انھیں فتح نصیب ہو گی لیکن انھیں برگنڈی کی فوجیں گرفتار کر لیتی ہیں۔

برگنڈی کی فوج ان کے عوض بہت سے پیسہ وصول کرنا چاہتی تھی۔ انگریز چاہتے تھے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ جون آف آرک کو کوئی غیبی مدد حاصل نہیں ہے اسی لیے انھیں چرچ کے حوالے کر دیا گیا اور ان سے جنگی قیدی کے بجائے ایسا رویہ اختیار کیا گیا جو مرتدوں تا بدعت کرنے والوں سے کیا جاتا ہے۔

جون آف آرک ایک ہیروئن ہیں، انھیں مخالف فوج گرفتار کر لیتی ہے پھر انھیں انگریزوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا جاتا ہے جو ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں۔ آخر جون آف آرک کا دشمن کون ہے جو ان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔

اس سوال کے جواب میں ڈینیئل کا کہنا تھا کہ وہ بشپ آف باوئے کے دائرہ اختیار میں آتی تھیں کیونکہ ان کے علاقے میں انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ انگریزوں اور برگنڈی میں بہت سے لوگ تھے جو ان پر مقدمہ چلائے جانے کے حق میں تھے۔

اس سارے قضیے میں انگریزوں کا کیا کردار تھا اور وہ کیا چاہتے تھے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے ژاوئے کا کہنا تھا انگریز چاہتے تھے کہ وہ جون آف آرک کو قتل کر دیں اور اس سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ انگریز یہ بھی ثابت کرنا چاہتے تھے کہ چارلس ہشتم کی تاج پوشی میں ایک جادوگرنی کا ہاتھ ہے۔

کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ کچھ فرانسیسی بھی انگریزوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مذہبی حلقوں میں بھی ایسے عناصر تھے جو جون آف آرک کو مروانا چاہتے تھے۔

جولیٹ نے کہا کہ ہمیشہ فرانسیسیوں کی بات کی جاتی ہے لیکن اصل میں یہ اینگلو برگنڈیئن لوگ تھے۔ اصل میں شمالی فرانس کے لوگوں نے انگریزوں کی حمایت کی تھی۔ بنیادی طور پر یہ پیرس کی یونیورسٹی تھی جس نے جون آف آرک پر مقدمہ چلایا۔

اس یونیورسٹی میں ایک سو سے زیادہ اساتذہ تھے جن میں صرف آٹھ انگریز تھے جو اصل انگریز تھے باقی سب اینگلو برگنڈیئن تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ژاوئے سے یہاں اختلاف کرتے ہوئے کہیں گی کہ انگریزوں کے مفاد میں یہ نہیں تھا کہ جون آف آرک کو موت کی سزا دی جائے، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ان کو بدعتی قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی جائے۔

عمر قید کی سزا سنائے جانے سے ان کی حیثیت ختم ہو جاتی اور چارلس ہفتم کی بادشاہت پر بھی سوال کھڑے ہو جاتے جبکہ موت کی سزا دینے سے اصل میں جون آف آرک کو شہادت کا درج حاصل ہو گیا۔

ان کی قید کا حال بتاتے ہوئے روبن نے کہا کہ قید کے شروع کے دنوں میں ان سے بہت اچھا سلوک کیا گیا لیکن جوں جوں مقدمہ آ گے بڑھتا گیا اور جس طرح انھوں نے ججوں کو اپنے دلائل سے پریشان کرنا شروع کیا ان پر سختیاں بڑھتی گئیں۔

ڈینیئل جنھوں نے جون آف آرک پر مقدمے کی دستاویزات کا ترجمہ کیا تھا ان سے پوچھا گیا کہ ان کا اس مقدمے کے بارے میں خیال ہے۔ ڈینیئل نے کہا کہ یہ ایک بدعت کا مقدمہ تھا اور اس میں 70 الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پھر ان 70 الزامات کو کم کر کے 12 کر دیا گیا۔ مردوں کا لباس پہننا، خون بہانا اور چرچ کے احکامات کو ماننے سے انکار کرنا یہ سب باتیں کلیسا کی روایتی تعلیمات کے خلاف تھیں۔

جس انداز میں مقدمہ چلایا گیا اس سے صاف ظاہر تھا کہ جون آف آرک کو سزا سنائی جائے گی۔ صرف دیکھنا یہ تھا کہ کیا وہ ان الزامات کو تسلیم کر لیتی ہیں اور ان کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

جون آف آرک سے منسوب ایک حلفیہ بیان جو انھوں نے بھری عدالت میں پڑھ کر سنایا تھا اس میں وہ کہتی ہیں ‘میں اعتراف کرتی ہوں کہ مجھ سے سنگین گناہ سر زد ہوا ہے، جھوٹے دعوے کی شکل میں کہ مجھے غیب سے پیغامات آتے ہیں سینٹ کیتھرین اور سینٹ مارگریٹ کے فرشتوں کے ذریعے، دوسروں کو گمراہ کر کے، بے وقوفانہ اور لاپروانہ طور پر یہ یقین کر کے اور ضعیف الاعتقدای کا مظاہرہ کر کے، خدا اور اس کے ولیوں کی توہین کر کے اور خدا کی طرف سے نازل کردہ قوانین کی خلاف ورزی کر کے اور شرمناک، غیر اخلافی اور نامناسب لباس پہن کر اور مردوں کی طرف بال بنوا کر جو عورتوں کی حیا اور وقار کے خلاف ہے، اسلحہ لے کر چلنے سے، خون بہانے کی ظالمانہ خواہش سے اور یہ دعویٰ کر کے کہ یہ سب کرنے کا حکم مجھے خدا اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ملا تھا۔‘

جان آف آرک

جون آف آرک نے یہ بیان دینے کے چند دن بعد کہا کہ انھوں نے یہ اعترافی بیان آگ کے شعلوں کے خوف سے دیا تھا، جو کہ قابلِ فہم ہے۔ وہ اپنے بیان سے منحرف ہو گئیں اور کہا کہ وہ اب بھی یقین رکھتی ہیں کہ انھیں فرشتوں کی آوازیں سنائی دیتی تھی۔ اس کے بعد انھیں زندہ جلائے جانے کی سزا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔

جون آف آرک کو جلائے جانے کا منظر بیان کرتے ہوئے جولیٹ نے کہا کہ یہ انتہائی ڈرامائی لمحات تھے۔ شہر کے وسط میں لکڑیاں جمع کر کے الاؤ تیار کیا گیا، جس کے ارد گرد سارا شہر امڈ آیا۔ اس مجمع میں اس وقت ان کے لیے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا جب ایک شخص صلیب لے آیا اور ایک پادری ایک اور صلیب ایک قریبی گرجا گھر سے اٹھا لائے۔ جون آف آرک کو سزا دینے کے بعد ان کی راکھ کو دریا میں بہا دیا گیا۔

جون آف آرک کو سنہ 1431 میں بدعت کا الزام لگا کر موت کی سزا دے دی گئی لیکن سنہ 1450 تک ان کو بہت ستائش کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ جولیٹ کے مطابق اس کا تعلق بھی سیاست سے تھا۔ 1450 تک پورے فرانس سے انگریزوں کو نکال دیا گیا۔ یہ کام چارلس ہفتم کے جرنیلوں نے کیا اور اس کے بعد جون آف آرک پر چلائے جانے والے مقدمے کی دستاویزات ان کے ہاتھ لگیں۔

اس وقت یہ سوال کھڑا ہونے لگا کہ چارلس ہفتم کی تاج پوشی ایک ایسی خاتون نے کروائی جس کو بدعتی قرار دے کر موت کی سزا سنا دی گئی۔

اس کے بعد اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کروائی گئیں تاکہ جون آف آرک پر لگائے گئے الزامات کو رد کیا جا سکے۔

اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کروائی گئیں تو کن لوگوں سے بات کی گئی۔ ژاوئے نے بتایا کہ اس مرتبہ تحقیقات میں بڑے دلچسپ لوگوں کو شامل کیا گیا۔ اس مرتبہ ان کے آبائی گاؤں میں لوگوں سے بات کی گئی جو جون آف آرک کو بچپن سے جانتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے بتایا کہ بچپن سے وہ عام بچے بچیوں سے مختلف تھیں اور ان کی شخصیت بڑی کرشماتی تھی۔

جون آف آرک پر مقدمہ چلا پھر اس مقدمے کی از سر نو تحقیقات ہوئیں اور ان کو ان الزامات سے بری کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود پانچ صدیاں گزر جانے کے بعد سنہ 1920 میں ان کو سینٹ یا خدا کے ولی ہونے کا درجہ دیا گیا۔

وہ فرانس میں اتحاد کی علامت بن گئیں جب سنہ 1870 کی دہائی میں اور پھر پہلی عالمی جنگ میں فرانس حملوں کی زد میں آیا۔ پہلی عالمی جنگ میں فرانسیسی فوجی جان آف آرک کی تصاویر لے کر محاذ جنگ پر جاتے تھے۔

جون آف آرک کیسے ایک ایسی شخصیت یا کردار بن گئی جن کے پیچھے پوری فرانسیسی قوم متحدہ ہو گئی اس بارے میں ژاوئے کا خیال تھا انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے شروع میں جون آن آرک کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا۔ دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی تفریق کی دونوں جانب کے لوگوں میں وہ یکساں مقبول تھیں۔

بائیں بازو کے لوگوں میں وہ اس لیے مقبول ہوئیں کہ وہ ایک معمولی کسان کی بیٹی تھیں اور انھوں نے فرانس کی سلطنت کو بچایا۔ دائیں بازو کے لوگوں میں وہ اس لیے مقبول تھیں کہ وہ بڑی نیک اور پارسا تھیں۔

دوسری عالمی جنگ میں فرانس کے لیے صورت حال بہت سنگین تھیں۔ فرانس کو شکست ہو چکی تھی اور فرانس پر جرمنی نے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ صورت حال پندرہویں صدی سے مطابقت رکھتی تھی جب فرانس کے تقریباً نصف حصے پر انگریز قابض تھے۔

جرمن فوج کے خلاف مزاحت کرنے والوں کے لیے جون آف آرک ایک ہیروئن کا درجہ رکھتی تھیں اور ان کے لیے مشعل راہ تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp