افواؤں کے بازار میں بیچاری کورونا ویکسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تویل عرصہ وبا میں گزارنے کے بعد لوگوں نے نظام زندگی سے اس وبا کو جوڑ لیا ہے۔ مجھے کرونا کے شروعاتی دن یاد آتے ہیں جب ہمارے شہر میں ایک کرونا مریض ہونے کی افوا اڑائی گئی تھی۔ شہر میں خاموشی سی چھا گئی تھی، ہر طرف خوف تھا، اس محلے میں لوگ جانے سے گھبراتے تھے، علاقہ مکین گھروں تک محدود ہو گئے تھے اور شاید اس قسم کا احتیاط بہتر بھی تھا۔ وبا کے ساتھ جھوٹ، مکاری اور فریب کا بازار جیسے گرم ہوا۔ لوگوں میں بیماری کی تشویش اور سنجیدگی بھی ختم ہونے لگی، ہوتی بھی کیوں نہیں اب اس خطرناک وبا کا علاج دیواروں پر لگے اشتیارات والے باباؤں، اور جعلی حکیموں نے ڈھونڈ لیا تھا۔ رہی سہی کمی سستی شہرت پانے والے لوگوں نے سوشل میڈیا کے زریعی پوری کی۔

صحت سے متعلق معلومات کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک عام ذریعہ بن چکے ہیں۔ وبائی مرض کے دوران، لوگ اس بیماری، ٹرانسمیشن اور روک تھام کے طریقہ کار کے بارے میں اپنے معلومات میں بہتری لانے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارم پر گردش کرنے والی صحت کی معلومات اکثر افواہوں اور سازشی نظریات کے ذریعہ بڑھائی جاتی ہیں جو ہمیشہ سائنسی شواہد پر مبنی نہیں ہوتی۔

2020 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ جن لوگوں کو سوشل میڈیا پر ویکسین سے متعلق معلومات کا سامنا کرنا پڑا ان کے غلط معلومات ہونے اور ویکسین سے ہچکچاتے بننے کا زیادہ امکان ہے۔ تاہم کرونا سے بچاؤ کی ویکسین پر بہت ہی بڑھا چڑھا کے رد عمل دیکھنے کو ملا ہے۔ کئی ممالک کے اعلی حکام سے منسوب باتیں بھی گردش میں رہیں ہیں۔ حکومت کی غیر سنجیدگی بھی ملکی حالات ادھیڑ کر رکھ سکتے جس کی مثال ہم برازیل اور پڑوسی ملک انڈیا سے لے سکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ویکسین سے متعلق کافی غیر سنجیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی ویکسین کے بارے میں حیران کردینے والے انکشاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ شروع شروع میں کہا گیا کہ یہ ویکسین لگوانے والے آنے والے وقت میں اولاد جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ یہ بات کرونا سے پہلے پولیو کے دو قطروں پر سالوں تک چلتی رہی۔ دنیا سے پولیو ختم ہو گیا لیکن پاکستان میں ابھی تک یہ بات پروان چڑھی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں آج بھی پولیو کا مرض سر اٹھائے بیٹھا ہے۔

ویکسین کے مرحلے شروع ہوتے ہی افواؤں کی بازار لگ گئی۔ بات مائکرو چپ سے شروع ہوئی کہا گیا یہ بل گیٹس کی سازش ہے انجیکشن کی مدد سے ہمارے جسم میں ایک چپ ڈالی جائے گی، جس سے بل گیٹس ہم پر کنٹرول کرلے گا اور ہمارے دماغ کو استعمال بھی کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو یقیناً وہ ہم سے پہلے اپنی بیوی میلنڈا گیٹس کو کنٹرول کرتا تاکہ بات طلاق تک نہ پہنچتی۔ اور ہم یا ہمارا دماغ اتنا ہی پسند ہوتا تو ہم میں سے بہت سارے آج مائکروسافٹ میں جاب کر رہے ہوتے۔

اس چپ والی بات کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے لوگوں نے ٹیکہ لگوانے والی جگہ پر میگنیٹ لگا کر عوام میں اپنا لوہا بھی منوایا۔

کچھ دن قبل ایک نوبل انعام یافتہ سائینٹسٹ اور وائرولاجسٹ کے ایک بیان نے گمراہی کی راھ پر کھڑی عوام کی عقل کو دھکا دے دیا۔ ان کے بیان میں سارے فیکٹ نکال کر اس کی پیشین گوئی کو خبر بنا کے پیش کیا گیا، کہ ویکسین لگوانے والے تمام افراد دو سال کے اندر فوت ہوجائیں گے۔ وہ تمام لوگ جو نشے سے وابستہ ہیں۔ سگریٹ بنانے والی کمپنی بھی سگریٹ کی ڈبی پر موت کی وارنگ لکھ کر دیتی ہے۔ اس کو استعمال کرنے والا بھی اس بیان سے ڈر کے ویکسینیشن سے کترا رہا ہے۔

ہمیں ایک بات بنا ثبوت کے بنا دلیل کے پہلے بتائی جائے، اس کے بعد ہزار ثبوت ہزار دلیلں اس بات کے خلاف ورزی کریں مگر مجال ہے کہ ہم اپنا قبلہ درست کریں۔

سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے جس وبا پر ایک سال دنیا کے تمام سائینٹسٹ انیک تجربات کے بعد ویکسین کے کلینکل ٹرائل مکمل کر کے اس میں بہتر سے بہترین نتیجے نکال کر عوام کی فلاح اور زندگی کو معمول کے راستے پر لانے کہ لیے کوشاں ہے، جس میں ہمیں صرف سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ رندگی اور موت اللہ تعالی کے ہاتھ میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *