سر ظفراللہ خان نے فلسطین کے لئے پاکستان کی پالیسی کیسے طے کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل اسرائیل اور فلسطین کے قضیہ کے بارے میں یاسر پیرزادہ صاحب کا ایک معلوماتی کالم شائع ہوا۔ ان معلومات کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کس طرح امریکہ اور سوویت یونین دونوں نے اقوام متحدہ کو استعمال کر کے اسرائیل کو قائم کروایا تھا۔

1897 سے صیہونی تنظیم کوشش کر رہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ یہودی فلسطین میں آباد ہوں۔ 1917 میں حکومت برطانیہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک قومی گھر کے قیام کی حمایت کرے گی۔ سلطنت عثمانیہ کا سورج غروب ہوا تو یورپی طاقتوں نے اس کے حصے بخرے آپس میں تقسیم کیے۔ فلسطین کو سنبھالنے کا مینڈیٹ برطانیہ کو ملا۔

اس کے بعد برطانیہ نے ہر سال یہودیوں کی ایک مخصوص تعداد کو وہاں آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ اور یہودی اس سے بھی زیادہ تعداد میں وہاں آباد ہوتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1922 میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی 12 فیصد تھی اور 1946 میں وہاں پر یہودیوں کی آبادی بڑھ کر 33 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ اور اب وہاں پر برطانیہ کے مینڈیٹ کی مدت ختم ہو رہی تھی۔ اور وہ مزید وہاں کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اگر فلسطین متحدہ صورت میں آزاد ہوتا تو اب بھی وہاں پر عرب آبادی کی اکثریت ہوتی۔

صیہونی تنظیم کا منصوبہ یہ تھا کہ فلسطین کو تقسیم کر کے وہاں پر ایک یہودی اور ایک عرب ریاست قائم کی جائے۔ اور یہ عجیب منصوبہ پیش کیا گیا کہ فلسطین کو تین یہودی اور تین عرب ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے۔ اور یہ ٹکڑے غیر متصل بھی تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک غیر منصفانہ تجویز تھی کہ پہلے ایک ملک میں دنیا بھر سے لوگ لا کر زبردستی آباد کرو اور پھر ملک کا ایک بڑا حصہ انہیں عطا کر کے ایک اور ملک بنا دو۔ امریکہ اور سوویت یونین دونوں اس تجویز کی حمایت کر رہے تھے اور عرب ممالک اس کی مخالفت کر رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ فلسطین کو متحد حالت میں آزاد کیا جائے۔

یہ مسئلہ جنرل اسمبلی میں پیش ہوا تو ایک ایڈہاک کمیٹی بنا دی گئی۔ اسی مرحلہ پر پاکستان آزاد ہو کر اقوام متحدہ کا رکن بن گیا۔ اس موقع پر قائد اعظم نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو [جو چند ماہ بعد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے ] پاکستان کے مندوب کے طور پر اقوام متحدہ بھجوایا۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنی خود نوشت میں تحریر کرتے ہیں

”جب پاکستان کی طرف سے نے میں نے پہلی بار تقریر شروع کی تو عرب نمائندگان کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میری تقریر کا رخ کس طرف ہو گا۔ پاکستان ایک دو دن قبل ہی اقوام متحدہ کا رکن منتخب ہوا تھا۔ عرب ممالک کے مندوبین ہمیں خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے اور ہماری طرف سے بالکل بے نیاز تھے۔ میری تقریر کا پہلا حصہ تو تاریخی اور واقعاتی تھا جس کے بعض حصوں سے بعض عرب مندوبین بھی ناواقف تھے۔ جب میں نے تقسیم کے منصوبے کا تجزیہ شروع کیا اور اس کے ہر حصہ کی ناانصافی کی وضاحت شروع کی تو عرب نمائندگان نے توجہ سے سننا شروع کیا۔ تقریر کے اختتام پر ان کے چہرے خوشی اور اطمینان سے چمک رہے تھے۔ اس کے بعد اس معاملے میں عرب موقف کا دفاع زیادہ تر پاکستان کا فرض قرار دے دیا گیا۔“

[تحدیث نعمت مصنفہ چوہدری ظفر اللہ خان ص 533 اور 534 ]

اس ایڈہاک کمیٹی نے دو سب کمیٹیاں قائم کیں۔ ایک میں سوویت یونین اور امریکہ دونوں شامل تھے اور اس کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ صیہونی تنظیم کے موقف کے مطابق تجاویز تیار کرے۔ اور دوسری سب کمیٹی عرب موقف کے حامیوں کی تھی۔ اس نے عرب موقف کے مطابق تجاویز تیار کرنی تھیں۔ پہلے کولمبیا کے مندوب کو اس کمیٹی کا صدر اور پاکستان کے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اس کا رپورٹر مقرر کیا گیا۔ مگر جلد ہی کولمبیا کے مندوب نے استعفیٰ دے دیا اور پاکستانی مندوب اس سب کمیٹی کے صدر اور رپورٹر دونوں کے فرائض ادا کرنے لگ گئے۔ گویا اس موقع پر فلسطینیوں کے موقف کا دفاع پاکستانی مندوب کی قیادت میں کیا جا رہا تھا۔

چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی سب کمیٹی نے یہ تجویز پیش کی کہ عالم عدالت انصاف سے استفسار کیا جائے کہ کیا اقوام متحدہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ فلسطین کے عوام کی منظوری کے بغیر ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ اس کے حق میں 20 مخالفت میں 21 ووٹ آئے اور 13 ممالک غیر جانبدار رہے۔ گو کہ اس ایڈہاک کمیٹی میں عرب ممالک کی تجاویز مسترد تو ہو گئیں لیکن یہ ظاہر تھا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود ابھی بھی پچاس فیصد ممالک بھی مکمل طور پر بڑی طاقتوں کے ہمنوا نہیں بنے تھے۔ جب ایڈہاک کمیٹی میں صیہونی تجویز کے حامیوں کی تجاویز پر رائے شماری ہوئی تو اس کے حق میں 25، اس کے خلاف 13 ووٹ آئے اور سترہ افراد نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اور جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے قیام کے لئے دو تہائی ووٹوں کی اکثریت درکار تھی۔

اس اکثریت کو حاصل کرنے کے لئے تمام ہتھکنڈے اس بے تکلفی سے استعمال کیے گئے کہ لائبیریا کے مندوب نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو کہا کہ کسی طرح آج ہی رائے شماری کرا لو میرا ملک ایک اور روز امریکہ کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتا لیکن اسی روز رائے شماری نہیں کرائی گئی۔ سیام عربوں کے حق میں ووٹ ڈال رہا تھا، اس کی حکومت ہی تبدیل ہو گئی اور نئی حکومت نے پرانے مندوب کی نمائندگی منسوخ کر دی۔

اس صورت حال میں جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جنرل اسمبلی میں تقریر کی تو اس کا آغاز ان الفاظ سے کیا :

” جناب صدر یہ امر قابل اطمینان ہے کہ آپ اس مقصد کے لئے کوشش کر رہے ہیں کہ کم از کم یہاں پر اس سوال کے متعلق بغیر کسی خلل یا اثر کے بحث ہو۔ کیا ووٹنگ بھی اسی طرح آزادانہ اور بغیر کسی دباؤ کے ہو گی۔ اب اس بارے میں کسی قسم کا کوئی اطمینان نہیں پایا جاتا۔ میں اس پر زیادہ وقت نہیں لوں گا۔

وہ لوگ بھی جو اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ پس پردہ کیا کچھ ہو رہا ہے، پریس کے ذریعہ بہت کچھ جان چکے ہیں۔ یہ تو صرف ایک مسئلہ ہے، اب تو یہ اندیشہ پیدا ہو رہا ہے کہ جو عظیم ادارہ دنیا کی امیدوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اس عظیم ادارے میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش ہو گا اس پر غور و خوض کرنے کے عمل کو آزاد نہیں رہنے دیا جائے گا۔ یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ کم از کم ہمیں اس معاملہ میں پر امید رہنے دیں کہ یہ ایک عظیم ادارہ ہے۔ اقوام متحدہ آج کٹہرے میں کھڑی ہے۔ اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ یہ اپنے آپ کو بری کرانے میں کامیاب ہوتی ہے کہ نہیں۔ ”

کیوبا کے نمائندے نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے ملک پر اس غرض کے لئے دباؤ ڈالا گیا ہے کہ ہم صیہونی تجویز کے حق میں ووٹ دیں۔ لیکن سب سے دلچسپ تبصرہ لبنان کے نمائندے کا تھا انہوں نے کہا

My friends، think of these democratic methods، of the freedom in voting which is sacred ’to each of our delegations۔ If we were to abandon this for the tyrannical system of tackling each delegation in hotel rooms، in bed، in corridors and anterooms، to threaten them with economic sanctions or to bribe them with promises in order to compel them to vote one way or another، think of what our Organization would become in the future۔

میرے دوستو ان جمہوری طریقوں یعنی آزادی سے ووٹ ڈالنے کے متعلق سوچو، یہ اقدار ہم میں سے ہر ایک وفد کو عزیز ہیں۔ اگر ہم ان کو چھوڑ کر اس قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کو اپنائیں گے کہ مختلف ممالک کے وفود سے ہوٹل کے کمروں میں، ان کے بستروں کے اندر، اور کاریڈور اور ویٹنگ روم میں نمٹا جائے۔ انہیں اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دی جائیں اور انہیں وعدوں کی رشوتیں دی جائیں تا کہ وہ کسی ایک طریق پر ووٹ دیں تو سوچو ہماری اس تنظیم کا مستقبل میں کیا بنے گا؟

یہ الزام کہ اب مختلف وفود سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان کے بستروں کے اندر جا کر بھی ان سے نمٹا جا رہا ہے کسی اخبار میں نہیں لگایا گیا تھا بلکہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے اندر لگایا جا رہا تھا۔ اور کسی نے اس کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ اس طرح اسرائیل کے قیام کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی گئی۔ اور اقوام متحدہ کا کیا بنا؟ یہ انجام ہمارے سامنے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *