دیتے ہیں یہ بازی گر دھوکا کھلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے ہمدرد سیاسی رہنما موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں وہ حکمران تھے انہوں نے بھی قرضے لئے تھے نئے نئے ٹیکس لگائے تھے یہ سب وہ عالمی مالیاتی اداروں کے حکم پر کرتے۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ان کے ادوار میں بدعنوانی بھی ہوتی تھی کمزور لوگوں کی زمینوں پر قبضے بھی ہوتے تھے غنڈے بھی شریف شہریوں کو ڈراتے دھمکاتے۔ مہنگائی مافیا بھی من مرضی کرتا الغرض ان کی حکومتوں میں اذیت ناک حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جس سے عوام سہم سہم جاتے رہے مگر کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ جن کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے ہیں ان کے بھی احساسات ہیں اور ضروریات ہیں۔

ان موجودہ ہمدردوں میں سے ایک جو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ہوتے تھے اب وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہے ہیں کا تازہ تازہ کہنا ہے کہ عوام دشمن بجٹ نہیں پاس ہونے دیں گے کیا کہنے جی کیا کہنے۔ یہ اچھی بات ہے کہ عوام دشمن بجٹ کی مخالفت ہونی چاہیے اور حکومت کو ایسے ٹیکس نہیں لگانے چاہیں جس سے عوام کی سانسیں رک جاتی ہوں وہ تو پہلے بھی ادھ موئے ہو چکے ہیں جتنا ظلم اس حکومت کے دور میں ہوا پچھلوں کی حکومتوں میں کم ہی ہوا تھا مگر ہوا ’عوام دہائی دیتے رہے باں باں کرتے رہے مگر ان کی ایک نہ سنی گئی کیونکہ انہیں بھی عالمی مالیاتی اداروں کا حکم ہوتا تھا جس پر من و عن عمل درآمد کرنا پڑتا لہذا میاں شہباز شریف نے جو بیان داغا ہے وہ درشنی ہے غریب عوام سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں۔

ان سے معذرت کے ساتھ پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ”عوام کی خاطر“ جو بھاری قرضے لے کر بڑے بڑے منصوبے بنائے ان سے عوام کو بنیادی ریلیف ملا یعنی ان کی بے روزگاری میں کمی واقع ہوئی مہنگائی کم ہوئی پٹوار خانے اور تھانے درست سمت کی طرف رواں ہوئے رشوت ستانی و بد عنوانی کا خاتمہ ہوا سینہ زوروں نے الٹے کان پکڑ لئے اور میرٹ پالیسی پر سختی سے عمل ہوا جواب ہوگا نہیں۔

یہ محض بیانات ہوتے ہیں جو سیاسی شخصیات دیتی رہتی ہیں ان سے عوام کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا

یادش بخیر انہوں نے تو آصف علی زرداری کے بارے میں جس سنسنی خیز انداز سے کہا تھا کہ وہ پیٹ پھاڑ کر ملک کا لوٹا ہوا مال برآمد کریں گے مگر کچھ نہ کر سکے اذاں بعد انہوں نے اس بیان کو واپس لے لیا۔

قارئین کرام! یہ حکمران طبقہ ایک ہے اس کے مفادات مشترک ہیں لہذا میں ایک جملہ اکثر بولتا ہوں کہ یہ سب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے ان سب نے طے کر رکھا ہے کہ جدید اداکاری کے ذریعے اقتدار اپنے پاس ہی رکھنا ہے اور عوام کو بھی راضی رکھنے کی کوشش کرنی ہے لہذا اس تناظر میں ان کی سیاست کاری ہو رہی ہے وگرنہ بجٹ نے تو پاس ہونا ہے۔ کسی میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی بھی سیاسی رہنما ایسا نہیں کہ جو درد دل رکھتا ہو سبھی پتھر دل ہیں لہذا کوئی جتنے چاہے روپ بدلے وہ متاثر نہیں کر سکتا جب تک یہ نظام زر نہیں بدلتا تب تک عوامی فلاح کا کام ناممکن ہے مگر اس طرف کوئی بھی نہیں آ رہا بس گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی جاتی ہے اس سے اب تک کیا حاصل ہوا۔

دراصل حکمران طبقہ دانستہ صورت حال کو جوں کا توں رکھنا چاہتا ہے اور اس کے پیچھے عالمی ساہوکار ہیں کیونکہ وہ کسی بھی ملک میں تبدیلی نہیں آنے دے رہے لہذا وہ اپنے ہم خیال سیاسی شخصیات کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں جو اپنی مداری اور چرب بیانی سے ووٹ حاصل کرتے ہیں ویسے انتخابات کی تصویر جو اب سامنے آئی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ انتخابات ایک ڈھونگ ہے جنہیں اقتدار میں آنا ہوتا ہے وہ با آسانی آ جاتے ہیں۔ وہ احتساب کی چھلنی سے بھی گزر جاتے ہیں اور راستے کی ہر رکاوٹ کو بھی دور کر لیتے ہیں۔

یہ سلسلہ گزشتہ چوہتر برس سے جاری و ساری ہے شاید یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے حالات نہیں بدلے وہ ہر آنے والے دن میں غربت و مفلسی کی دلدل میں دھنسے جا رہے ہیں۔ اگرچہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا مگر وہ بھی بری طرح سے ناکام ہو گئے ان کے پہلو میں سٹیٹس کو ’کی حامی قوتوں نے ایسے لوگ بٹھا دیے جو اپنی جاگیروں اور سرمائے میں کمی نہیں چاہتے لہذا اب عوام تبدیلی کا مذاق اڑانے لگے ہیں۔

بہر حال بجٹ نے آنا ہے اور آگے بڑھ جانا ہے رہی بات اس کے عوام دشمن ہونے کی تو عرض ہے کہ یہاں شاید ہی کوئی بجٹ عوام دوست آیا ہو گا مگر کبھی بھی نہیں رکا تو پھر اب کیوں رکے گا جبکہ اس میں تو نئے ٹیکس نہ لگانے کی یقین دھانی بھی کرائی گئی ہے ایسا ہو گا نہیں یہ حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ آئی ایم ایف کو ناراض کر سکے اس نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس کی قسط ہر صورت ادا کرنی ہے منت ترلا نہیں کرنا آپ کو یاد ہو گا کہ پچھلے برس کرونا میں بھی اس نے قسط ادا کر دی تھی جبکہ اس معلوم تھا کہ عام آدمی کی حالت بہت خراب ہے اس کی مدد کرنے کی ضرورت ہے اگر مخیر حضرات آگے نہ آتے تو صورت حال مزید خراب ہو جاتی۔

اب جب مہنگائی نے ہڈیوں کا گودا بھی کھینچ کھایا ہے تو بھی ان پر ایک کاریگری کے ساتھ ٹیکس لگائے جائیں گے تاکہ آئی ایم ایف کا پیٹ بھرا جا سکے اور یہ نہیں خیال کہ حکومت کو لانے میں انہوں نے کیا کیا خواب دیکھے تھے مگر یہاں ان کے خوابوں کی کون پروا کرتا ہے جو کوئی بھی آتا ہے ان کی جمع پونجی پر جھپٹا مارتا ہے اور اسے اپنے کسی من پسند ملک میں پہنچا دیتا ہے عوام بے چارے اسے پورا کرنے کے لئے اپنے اعضا تک بیچ ڈالتے ہیں ائندہ بھی یہی ہوگا کیونکہ مافیا راج میں خوشحالی کی صبح طلوع ہونے میں وقت لگے گا اور وہ صبح تب طلوع ہوگی جب محکوم لوگ خود اقتدار میں آئیں گے یہ کھرب پتی سیاستدان و حکمران ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے لہذا ان کے بیانات ایک پانی کے بلبلے کے سوا کچھ نہیں۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں یہ بازی گر دھوکا کھلا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *