آئندہ جہاز میں اپنا کمبل ساتھ لے کر جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابا جی مرحوم سکول میں استاد تھے اور درسی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں کے بھی رسیا تھے۔ گھر میں اخبار بھی پڑھنے کو لازمی ملتا تھا۔ مذہبی، سیاسی، نیم سیاسی ہر قسم کے رسائل بھی گھر میں ہر طرف بکھرے ہوتے تھے۔ ہم نے ہوش سنبھالا تو گھر میں ریڈیو بھی موجود تھا۔ ٹی۔ وی بھی ہمارے گھر میں نسبتاً جلدی آ گیا تھا۔ خبروں کے شوقین حضرات کے لئے بی بی سی کو سننا تو لازمی تھا۔ ابا جی کے علاوہ بڑے بھائی بھی ان تمام چیزوں سے شوق فرماتے تھے۔

ہم ہونہار بروا نہ سہی، پر اس ماحول نے ہمیں بھی شروع سے ہی اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا۔ اخبار کا مطالعہ تو لازمی ہوتا تھا۔ دوسری خبروں کے علاوہ دو چیزیں ہمارے لئے بہت پرکشش ہوتی تھیں۔ ایک تو فلمی اشتہارات اور دوسری ”فلاں جگہ پر جوڑا سر عام بوس و کنار کرتے پکڑا گیا“ والی خبریں۔ اس عمر کے تمام لڑکوں کی طرح ہم یہ دونوں چیزیں بڑوں سے چھپا کر ہی پڑھتے تھے۔ ہو سکتا ہے بڑے بھی چھوٹوں سے نظریں بچا کر ہی فلمی اشتہارات دیکھتے ہوں کہ ہماری بھی چوری نہ پکڑی جائے۔

فلمی اشتہارات تو واضح ہوتے تھے۔ ان میں کوئی اتنی ڈھکی چھپی بات نہیں ہوتی تھی کہ سمجھ میں نہ آئے۔ بعض اوقات اس حوالے سے جو سوالات ذہن میں پیدا ہوتے تھے، ان کے جوابات کے لئے میں اپنے سکول کے ملازم نذیر مسیح عرف جیرا سے رابطہ کرتا تھا۔ نزدیکی شہر کے ”کچے“ سینما میں ہر ہفتے نئی فلم لگتی تھی۔ جیرا شاید ہی کوئی نئی فلم مس کرتا تھا۔ اس لئے اس کے پاس فلمی خبروں اور معلومات کا قابل قدر ذخیرہ ہوتا تھا۔ چناں چہ وہ اکثر میری تشفی کروا دیتا تھا۔

جیرے ہی نے ایک بار یہ خبر ”بریک“ کی تھی کہ گلوکار محمد رفیع کی موت کے بعد اس کی آواز والی نالی آپریشن کر کے کسی اور گلوکار کے گلے میں فٹ کر دی جائے گی اور وہ اسی کی سریلی آواز میں گانے گائے گا۔ ہم اکثر اس کی ایسی معلومات پر مسحور رہتے تھے۔ بوس و کنار کی البتہ مکمل سمجھ نہیں تھی کہ یہ کیا ہے۔ ہاں یہ تو معلوم تھا کہ یہ کوئی خاص اور چھپانے والی چیز ہے۔ اسی وجہ سے خواہش کے باوجود اس کے بارے میں کسی بڑے سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

ذرا بڑے ہوئے تو بوس و کنار کے معنی سمجھ میں آئے۔ یہ سمجھ البتہ نہ آئی کہ اخبار والوں کو ایسے جوڑے کہاں سے مل جاتے ہیں جو یہ اہم فریضہ سر عام انجام دینے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اتنی عمر گزر گئی ہمیں تو حسرت ہی رہی کہ ہمیں بھی کوئی ایسا جوڑا نظر آئے۔ مزید معلومات ملیں تو پتا چلا کہ اخبارات میں چھپنے والی ایسی زیادہ تر خبریں اخبارات کے کرائم رپورٹرز پولیس سے لیتے ہیں جس میں ”سر عام بوس و کنار“ کا ذکر لازمی ہوتا ہے۔ یہ فقرہ صرف پولیس رپورٹ میں ہی ہو سکتا ہے، ورنہ عام آدمی تو ایسا رسک نہیں لے سکتا۔

ماضی کی یہ ساری باتیں ہمیں اس لئے یاد آ گئیں کہ گزشتہ دنوں پاکستان میں ایک نجی ائر لائن کی اندرون ملک پرواز کے دوران ایک جوڑا واقعی سر عام یہ حرکت کرتا نظر آیا جو پہلے صرف پولیس رپورٹ میں نظر آتی تھی۔ ہمارے علاوہ بہت سے لوگ جو وہاں موجود نہیں تھے، اس گھڑی کو دیکھنے سے محروم رہ گئے۔ کم از کم زندگی میں ایک بار تو ایسا جوڑا دیکھ ہی لیتے جو ”سر عام“ کی تعریف پر پورا اترتا تھا۔ اس براہ راست منظر سے ہمیں ایک قصہ اور بھی یاد آ گیا:

بہت سال پہلے اپنے ایک دوست سے ملنے لاہور گئے تو اس نے ہمیں ایک اور کام کی کچھ سرعام سرگرمیوں بسے آگاہ کیا تو ہمارے لئے یقین کرنا مشکل تھا کہ پاکستان میں ایسا کیسے ممکن ہے۔ اس نے ہمیں ”وقوعہ“ دکھانے کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ ہم دونوں اس کے اسکوٹر پر بیٹھ کر گلبرگ کی ایک مشہور شاہراہ پر آئے تو وہاں چیدہ چیدہ مقامات پر ”رنگ و نور“ کی محفلیں آباد تھیں۔ ان میں دونوں قسم کا مال تھا۔ ”دوسری“ جنس کے علاوہ ”تیسری“ جنس بھی میسر تھی، پر بہروپ ایسا کہ اناڑی تو آسانی سے دھوکا کھا سکتا تھا کہ دوسری کون سی اور تیسری کون سی۔

بہت سال پہلے شورش کاشمیری کی کتاب ”اس بازار میں“ حسب معمول چوری چھپے پڑھی ہوئی تھی۔ اس لئے اس جہان رنگ و بو سے واقفیت تو تھی، پر یوں سر عام جو دنیا آباد تھی، اس کا تصور نہیں تھا۔ پتا چلا کہ لاہور میں فوڈ سٹریٹ میں صرف کھانے ہی نہیں ملتے، یہ مال بھی فٹ پاتھ پر بکتا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں تھی اور ادھر بھاؤ تاؤ بھی طے ہو رہا تھا اور وہ بھی سر عام جیسے کوئی مویشی منڈی۔ میرے دوست نے میری تسلی کے لئے جھوٹ موٹ کا بھاؤ تاؤ بھی کیا۔

ایک پارٹی ہماری منتظر تھی کہ ہماری ”بارگیننگ“ ختم ہو تو وہ میدان میں آئیں۔ بالآخر انہوں نے ہم سے پوچھ ہی لیا کہ اگر آپ کی بات نہیں بن رہی تو سائیڈ پہ ہو جائیں، ہمیں موقع دیں۔ چنانچہ ہم اپنے اسکوٹر سمیت ایک طرف ہو گئے اور وہ ہمارے سامنے چند منٹ کی ”من من“ کے بعد ”انہیں“ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ ہمیں عرش صدیقی مرحوم یاد آئے :

میں کھڑا فٹ پاتھ پر کرتا رہا رکشا تلاش
میرا دشمن اسے موٹر میں بٹھا کر لے گیا۔

رکشے سے اب واپس جہاز کی طرف آتے ہیں۔ خبر کے مطابق ائر ہوسٹس کے روکنے کے باوجود جب وہ جوڑا ٹس سے مس نہیں ہوا تو اس نے ان کو ایک کمبل مہیا کر کے ”سر عام“ والی سہولتوں سے محروم کر دیا۔ آئندہ اگر کسی امتحان میں ”کمبل کے فوائد“ پر مضمون آئے تو اس میں اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ جہاز کے مسافروں سے ہماری گزارش ہے کہ آئندہ دوسرے سامان کے ساتھ ساتھ ایک عدد کمبل بھی ساتھ رکھ لیا کریں کہ اگر ان کا سامنا بھی کسی ایسے ”سرعامی“ جوڑے سے ہو جائے تو ان کو کوسنے کی بجائے اپنے آپ کو ”کمبل نشین“ کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *