الوداع سر نواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طب کی تعلیم کے ابتدائی دو برسوں میں پڑھایا جانے والا علم الابدان مجھے نہیں بھاتا تھا۔ انسانی لاشوں کی چیر پھاڑ، ڈائسیکشن ہال میں فارملڈی ہائیڈ سے محفوظ کردہ سکڑی اور اکڑی ہوئی برہنہ لاشوں کا منظر اور مذکورہ مادے اور مردہ ابدان کی ملی جلی بو جو مجھے بہر صورت بدبو لگتی تھی میری طبع نازک پہ گراں گزرتی تھی۔

پھر اس شعبہ کی سربراہی کے لیے پروفیسر نواب محمد خان صاحب کا تقرر ہوا۔ ان کی وجاہت، ان کی تمکنت، ان کا ملیح رنگ چہرہ، کھلتی ہوئی قامت، بھوری آنکھوں کی چمک، نرم روی، پڑھانے کا انداز سب ہی تو بھاتا تھا۔ لیکچر تو میں سن لیتا مگر ان کے یہ تمام اوصاف مجھے چیر پھاڑ والے ہال میں جانے پر راغب نہیں کر سکے تھے۔

اس علم کو تین حصوں میں پڑھایا جاتا تھا۔ ایک تو چیر پھاڑ کر کے عضلات، رگ و ورید، جوڑ و طناب کو آنکھوں سے دیکھ کر، دوسرے انسانی ہڈیوں کو سامنے رکھ کر، علاوہ ازیں زندہ انسانی بدن پر جسم کے اندر موجود اعضاء کو واضح کر کے بتاتے ہوئے، تیسرا حصہ خوردبینی تھا جسے ہسٹالوجی کہتے ہیں۔

ہڈیاں انہیں لاشوں جو چیری پھاڑی جا چکی ہوتی تھیں کو کسی کیمیائی عمل سے گزار کر خشک حالت میں حاصل کیا جاتا تھا۔ ایسی ہڈیاں اس قدر صاف اور خشک ہوتی تھیں کہ ایک بار میں نے اپنے ہم جماعت کو چائے کی پیالی میں شکر گھولنے کی خاطر انسان کے بازو کے پہلے سرے کی پچھلی انگلی والی طرف کی ہڈی جسے النا کہتے ہیں، استعمال کرتے دیکھا تھا۔

پھر لاوارث لاشیں کم پڑنے لگی تھیں اور ہڈیوں کا فقدان ہو گیا تھا کیونکہ ایک ہڈی پہ ان دنوں دو سے زیادہ طالبعلم نہیں پڑھا کرتے تھے۔ بلکہ کچھ پڑھاکو لڑکے لڑکیاں علم کو صیقل کرنے کی خاطر ہڈیاں چرا کر لے جاتے تاکہ ان کی ملکیت رہیں۔ پلاسٹک سے بنی ہڈیاں مناسب قیمت پر بہت بعد میں میسر آ سکی تھیں۔

چنانچہ ایک لیکچر کے دوران پروفیسر نواب صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ ہمیں پڑھانے کی خاطر انہیں کیا کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا تھا۔ وہ قبرستانوں کے چکر لگاتے تھے اور پرانی قبروں سے ہڈیاں لایا کرتے۔ اس کے لیے وہ گورکن کو اپنی جیب سے معاوضہ بھی دیتے۔ ایک باقاعدہ نمازی اور مذہبی شخص کی علم عام کرنے کی یہ لگن مجھے بھا گئی تھی یوں میں نے نہ صرف چیر پھاڑ والے ہال کی بساند برداشت کرنا شروع کر دی تھی بلکہ میں ان کے پڑھائے اس مضمون میں پہلی ہی کوشش میں کامیاب بھی ہو گیا تھا۔

مگر پروفیسر نواب صاحب کی علم دوستی کے علاوہ ادب دوستی مجھ پہ تب کھلی تھی جب میں نے چائے کی پیالی میں انسانی ہڈی ہلانے والے اپنے دوست اقبال لمبو کی انگیخت پر کلاس میں موجود انیس کی انیس لڑکیوں میں ہر ایک کے لیے ایک ایک مناسب شعر لکھا تھا جیسے :

تیکھی نظریں، بھولا چہرہ اس پہ مست ادائیں
بول۔ ہم بے چارے پھر کیوں نہ مر جائیں
( مرنے والا اقبال تھا جو بعد میں خودکشی کر گیا اور جس کا نام حذف کر دیا وہ نانی دادی ہوگی اب )

یہ اشعار اقبال نے نوٹس بورڈ پر چسپاں کر دیے تھے۔ لڑکیوں نے شکایت کر دی تھی۔ پرنسپل خود اشعار پڑھنے پہنچے تھے۔ پروفیسر نواب نے ہنگامی کلاس بلا لی تھی۔ ایسا کرنے والے کے گرفت میں آ جانے کی صورت میں کڑی سزا دیے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ میں بہت ڈر گیا تھا۔ جب وہ کلاس روم سے باہر نکلے تو میں نے انہیں جا لیا تھا اور عرض کی تھی، ”سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔“ انہوں نے کہا تھا کہ کرو۔ میں نے کہا تھا کہ سر آپ کے دفتر میں جا کر۔

کہنے لگے آو۔ دفتر میں اپنی کرسی پہ بیٹھ کے کہا تھا کہ کہو کیا کہنا ہے؟ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ ”سر میں بیٹھ جاؤں“ میں نے پوچھا تھا۔ انہوں نے اجازت دے دی تھی۔ میں نے بیٹھتے ہی کہا تھا، ”سر اگر میں اقرار کر لوں کہ اشعار میں نے لکھے تھے“ اس فقرے میں میرا استفسار تھا کہ کیا اس صورت میں مجھے معاف کر دیا جائے گا؟ اگرچہ اقرار کر چکا تھا۔ وہ میری اس بوکھلاہٹ پہ ہنسے تو نہیں تھے البتہ مسکراتے ہوئے کہا تھا ”اگر تم میں یہ صلاحیت ہے تو اس کا مثبت استعمال کرو۔ میرا مشورہ بھی ہے اور اجازت بھی کہ“ حلقہ ادب ”بنا لو۔ ہفتہ میں ایک کلاس اس کے اجلاس کے لیے مختص ہوگی۔

یوں نشتر میڈیکل کالج کے شعبہ اناٹومی میں پہلا اور شاید آخری حلقہ ادب بنا تھا جو ان کے جانے کے بعد بھی کچھ عرصہ چلا تھا۔ چار ماہ بعد ان کا تبادلہ ہو گیا تھا۔ ان سے پہلے پروفیسر راجہ صاحب تھے۔ چنانچہ نواب صاحب کی الوداعی پارٹی میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کو میں نے جو نظم لکھی تھی اس کا پہلا بند یوں تھا:

راجہ کا راج گیا، دور نوابی آیا
شاید اللہ کو یہ دور بھی نہ کچھ بھایا
ایک سو بیس دنوں کی تری نوابی میں
کچھ بھی کھویا نہ مگر بہت سا ہم نے پایا

کل خبر موصول ہوئی کہ پروفیسر نواب محمد خان صاحب 84 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال فرما گئے چنانچہ سر نواب الوداع اور علم عام کرنے والے بہترین استاد کو خراج تحسین پیش کرنے کو تالیاں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *