قبل از وقت انتخابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسے وقت میں جب معیشت ڈوب رہی ہو۔ سیاسی وضع داری اور استحکام کا دور دور تک نشان نہ ہو۔ جہاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ کمی ہو رہی ہو۔ جب خارجہ پالیسی ڈانواں ڈول ہو رہی ہو۔ جب اپنے چہیتے کرپشن کی غضب ناک منصوبوں میں ملوث ہو۔ تو ضد، نرگسیت اور میں نہ مانوں کا کالا کپڑا آنکھوں پر باندھنے کی بجائے حقیقت کو بھانپنا ہی عقلمندی ہوتی ہے۔

معاشی اشاریے خطرناک صورتحال پیش کر رہی ہیں۔ سالانہ ترقی کی شرح تباہی کی حد تک گر چکی ہے۔ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ ایک مہینہ پہلے ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے لیے روڈوں کو مسکن بنائے ہوئے تھے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں پچھلے 10 ماہ میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ٹیکس کی وصولی کرونا کے رحم و کرم پر ہے۔ ان حالات میں حکمران وقت کی حقائق سے چشم پوشی سانحات کو جہنم دی سکتی ہے۔

دوسری طرف کرپشن کرپشن کی رٹ سے کارکردگی پر فرق نہیں پڑھنے والا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی اس گھناونے کھیل میں کود پڑے ہے۔ رنگ روڈ کیس ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ تلاشی لینے پر بہت سے وزیروں سے خزانے نکل آئیں گے۔ دریچے کھولے گے تو رسوا ہو گے۔ کیونکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ نے موجودہ حکومت کے کرپشن کی ڈھونگ کو رسوا کر دیا ہے۔

دوسری طرف حکومتی پارٹی میں نئے گروپوں کا ابھرنا، خاص کر مرکز، پنجاب اور بلوچستان میں، اپنے ہی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ کیا خان صاحب اس طرف توجہ فرمائیں گے کہ اپنے پارٹی کے لوگوں کو این آر او دیں گے یا پارٹی سے نکال دیں گے۔ دونوں صورتوں میں حکومت کا رہنا اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

رہ گئی کارکردگی، اس کا اندازہ، اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان 3 سالوں میں کتنے وزیروں کو ایک وزارت سے ہٹا کر دوسرے میں کھپایا گیا ہے۔ شوکت ترین کی مثال سامنے ہے جن سے پہلے تین اور وزیروں نے خزانہ کا چارج سنبھالا ہوا تھا۔ ایک طرف بیوروکریسی کو کام کرنے میں روڑے اٹکائے گئے۔ دوسری طرف مختلف کے سیکرٹریوں کو بار بار تبدیل کیا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹری 9 بار تبدیل ہوئے۔ ایف بی آر کے 6 چیرمین تبدیل ہوئے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور کامرس کے 4، 4 بار سیکریٹری تبدیل ہوئے۔

ان حالات میں کیا کوئی خاک کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔

حکومت لوگوں کی امیدیں پوری کرنے کا دوسرا کا نام ہے۔ جب ملک ترقی کو ریورس گیر لگ جائے اور جب تمام معاشی اور معاشرتی اشاریے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہو۔ تو جمہوریت میں قبل از وقت انتخابات کا طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس حقیقت کو عملی جامہ پہنائے۔ ضد، اور انا کی روش سے ہٹ کر عوام اور ملک کی فلاح کے لے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہی عقلمند کی نشانی ہوتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *