عالمی وبائیں اور بے بس انسان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا وقفے وقفے سے کئی ایک وبائی بیماریوں کا شکار ہوتی رہی ہے۔ ہر وبا کی اپنی ایک خاص نوعیت رہی ہے اور ہر ایک نے روئے زمین کے تھوڑے یا بہت حصے کو متاثر کیا۔ انسان نے مختلف وباوں سے گزر کر بہت سارے جانی و مالی نقصان کے بعد وبا سے محفوظ رہنے کا طریقہ ضرور ڈھونڈ لیا، لیکن ان وباوں کے ذریعے خالق کائنات کی طرف سے یہ اعلان بار بار دہرایا گیا کہ:

ان یشاء یذھبکم ویات بخلق جدید،
وما ذالک علی اللہ بعزیز!

یعنی اگر اللہ چاہے تو تمہیں ختم کر کے نئے لوگوں کو زمین پر لا سکتا ہے اور ایسا کرنا اللہ تعالٰی کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے!

تاریخ عالم میں اس نوعیت کی کئی ایک بیماریاں درج ہوئی ہیں جنہوں نے انسان کو بالکل بے بس کر دیا۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وبا اس متعدی مرض (انفکشس ڈسیز) کو کہا جاتا ہے جو ایک خاص آبادی میں بہت کم وقت کے اندر بہت تیزی کے ساتھ پھیل جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایک لاکھ کی آبادی میں 15 لوگ دو ہفتوں کی مدت میں کسی مہلک ترین چھوت کی بیماری (مننگوکل انفکشن) کا شکار ہوجائیں تو وہ ایک وبا (اپیڈمک) ہوتی ہے۔ اگر یہی وبا پوری انسانی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو اسے عالمی وبا (پینڈمک) کا نام دیا جاتا ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں درج ہونے والی وباوں، جن سے دنیا کے مختلف حصوں کی پوری یا اکثر آبادی متاثر ہوئی، میں سے چند ایک وبائی بیماریوں کو یہاں زمانی ترتیب کے ساتھ درج کیا جا رہا ہے۔

1۔ جسٹینی طاعون (پلیگ آف جسٹینین)

اس طاعون کا احوال بیان کرنے سے پہلے یہ بات درج کرنا بہت ہی ضروری ہے کہ تین مہلک ترین وبائیں صرف ایک جرثومے (بیکٹیریم) یعنی یرسینیا پسٹیس سے پھیلیں جن کو طاعون یعنی پلیگ کا نام دیا گیا۔ جسٹینی طاعون (پلیگ آفجسٹینین) بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ میں 541 عیسوی میں پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طاعون بحر اوسط کے راستے مصر، جسے بازنطینی سلطنت نے تازہ ہی فتح کیا تھا، سے منتقل ہوا۔ اس طاعون کا باعث وہ طاعون زدہ مکھیاں بنیں جو ان کالے چوہوں میں پیدا ہوئی تھیں جو مصر سے آنے والے خراج، جو شہنشاہ جسٹینی کو جا رہا تھا، کے غلے کے ساتھ موجود تھے۔

اس طاعون نے قسطنطنیہ کو تباہ و برباد کیا اور یہ جنگل کی آگ کی طرح یورپ، ایشیا، شمالی افریقہ اور عرب ملکوں میں پھیل گیا، جس سے تخمینا ”3 سے 5 کروڑ لوگ ہلاک ہو گئے۔ تاریخ کے مشہور پروفیسر ٹامس موکیٹیس کے مطابق لوگ اس بیماری سے بچاو کے طور طریقوں سے بالکل ناواقف تھے۔ لوگ صرف یہ جانتے تھے کہ بیمار لوگوں سے دور رہا جائے۔ یہ وبا کیسے ختم ہوئی اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ شاید وہی لوگ ہلاک ہونے سے بچ گئے جن میں آہستہ آہستہ قوت مدافعت پیدا ہو گئی۔

2۔ طاعون عمواس (پلیگ آف عموئس)

یہ وبا جسے اسلامی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں پیدا ہونے والے جسٹینی طاعون کا ہی نیا ظہور تھا۔ یہ بھی دراصل بوبونک طاعون تھا جو (شام) فلسطین کے شہر، عمواس سے پھوٹا تھا اور اسی وجہ سے اس کو طاعون عمواس کہا گیا۔ اس وبا سے مسلمانوں کی 25,000 فوج اور ان کے رشتہ دار جان بحق ہوئے۔ مسلمان فوج کے سپہ سالار، ابو عبیدہ ابن الجراح (رض) کی دو بیگمات بھی اس وبا میں اللہ کو پیاری ہوئیں۔

چودھویں صدی کی بلیک ڈیتھ وبا تک یہ وبا مسلمان مورخوں، عالموں حتی کہ متکلمین تک کا موضوع بحث بنی رہی۔ اس وبا کے پس منظر میں ہونے والے عمر (رض) اور ابو عبیدہ ابن الجراح (رض) کے فوج کے ذمہ داروں اور دیگر اصحاب رائے کے ساتھ ہونے والے مکالمے بہت دیر تک جبر و قدر کے مناظروں میں استعمال کیے جاتے رہے۔ اس ضمن میں عمر (رض) کے یہ الفاظ، جو انہوں کئی اصحاب رائے حضرات کے مشورے پر عمواس شہر میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہے تھے، کافی دلچسپ ہیں کہ ”میں اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جا رہا ہوں!“ اس کے بعد وہ مدینہ منورہ واپس لوٹ گئے۔

3۔ سیاہ موت (بلیک ڈیتھ)

کہا جاتا ہے کہ بوبونک طاعون کلی طور پر ختم نہیں ہوا تھا بلکہ یہ 800 سال بعد 1347 عیسوی میں پھر ظاہر ہوا۔ ازمنہ وسطی کے اس طاعون نے صرف چار سال کے عرصے میں 20 کروڑ لوگوں کو ہلاک کیا۔ اس وبا کا نام اس وجہ سے بلیک ڈیتھ پڑا کیونکہ جونہی جراثیم جلد کے اندر داخل ہوتے تھے تو لمف نوٹس متورم ہو کر کالے پڑ جاتے تھے۔

چونکہ لوگوں کو اس چھوت (کنٹیجین) کے بارے میں کوئی سائنسی واقفیت نہیں تھی، اس لئے اس سے بچنے کی کوئی خاص تدبیر نہیں کی جا سکی۔ البتہ لوگوں کو یہ اندازہ ہو ہی گیا کہ انسانوں کے درمیان فاصلے سے اس بیماری کے پھیلاؤ کا ضرور تعلق ہے۔ اس لئے وینس کی بندرگاہ کے ساحلی شہر، رگاسا میں نئے ملاحوں اور تاجروں کو شہر میں داخلے سے پہلے علیحدہ رکھا جانے لگا۔ 30 دن کی علیحدگی، جس کو ٹرنٹنو کہا جاتا تھا، کو بعد میں بڑھا کر 40 دن کر کے قارنٹنو کہا جانے لگا۔ اسی کو قارنطین کی ابتداء سمجھا جاتا ہے۔

4۔ لندن کا بڑا طاعون:
(دی گریٹ پلیگ آف لندن)

تاریخی طور پر اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ لندن کو اس طاعون سے شاید ہی کبھی نجات مل سکی۔ 1348 سے 1665 تک کے 300 سالہ عرصے میں 40 بار یہ طاعون وقفے وقفے سے نمودار ہوتا رہا۔ ہر بار اس سے % 20 مرد و زن اور اطفال لقمہ اجل بنے۔

1500 عیسوی کے بعد انگلستان میں پہلی بار متاثرہ لوگوں کو نشان زدہ کر کے علیحدہ رکھنے کے قوانین بنائے گئے۔ متاثرہ گھرانوں کے افراد سفید پٹی باندھ کر ہی گھر سے باہر آسکتے تھے۔ یہ تاثر عام تھا کہ یہ بیماری بلیوں اور کتوں کے ذریعے پھیلتی ہے، اس لئے احتیاط کے طور پر لاکھوں جانوروں کو ہلاک کیا گیا۔

1665 کے اس طاعون میں صرف سات ماہ کے اندر ایک لاکھ لندن کے باسی ہلاک ہو گئے۔ ہر طرح کی سیروتفریح پر پابندی عائد کی گئی اور متاثرہ افراد کو زبردستی اپنے گھروں میں بند کیا گیا۔ متاثرہ لوگوں کی رہائش گاہوں کو ریڈ کراس کے نشان لگا کر نمایاں کیا گیا، جس کے ساتھ ساتھ ان پر ”خداوند! ہم پر رحم فرما!“ جیسے دعائیہ کلمات بھی لکھے گئے۔ مہلوکین کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ انسان کے پاس وبا کو روکنے کے یہی ذرائع دستیاب تھے!

5۔ چیچک (اسمال پوکس)

یہ وبا یورپ، ایشیا اور عرب دنیا کے لئے ایک مخصوص وبا یعنی اینڈمک تھی۔ اس بیماری کے ہر دس افراد میں سے تین کی موت ہوتی تھی۔ تاہم دنیائے قدیم (اولڈ ورلڈ) میں اس کی شدت نئی دنیا (نیو ورلڈ) کے مقابلے میں بہت کم تھی۔

پندرہویں صدی میں یہ وبا پوری نئی دنیا کے متلاشیوں (ایکسپلورز) کی بستیوں میں پھیل گئی۔ باور کیا جاتا ہے کہ میکسیکو اور امریکہ کے باشندوں میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے درکار قوت مدافعت صفر کے برابر تھی۔ اس لئے ٹامس موکیٹس کے مطابق 90 سے 95 فیصد امریکہ کی سودیشی آبادی ختم ہو گئی۔ میکسیکو کی ایک کروڑ دس لاکھ کی آبادی میں سے فقط دس لاکھ افراد باقی رہے۔

صدیوں بعد اٹھارہویں صدی میں چیچک جیسی وائرس سے پھیلنے والی مخصوص وبا یعنی وائرس اینڈمک کا علاج ایک ویکسین سے ممکن ہوسکا۔ اگرچہ ایڈورڈ جنر نے 1801 عیسوی میں چیچک کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین بنا کر اس وبا کے خاتمے کی ابتدا کا اعلان کیا، تاہم دو صدیوں بعد ڈبلیو ایچ او نے 1980 عیسوی میں چیچک کے خاتمے کا اعلان کیا۔

6۔ ہیضہ (کولرا)

انیسویں صدی کی ابتدا میں اس بیماری نے انگلستان میں لاکھوں کو ہلاک کیا۔ اس زمانے کے سائنسی نظریے کے مطابق تعفن آمیز (گندی) ہوا (مائزما) اس بیماری کی بنیادی وجہ تھی۔ تاہم ایک برطانوی طبیب، جان سنو نے اس خدشے کا اظہار کیا اس بیماری کی اصل وجہ لندن کا پینے کا پانی ہو سکتا ہے۔ اپنی تحقیق کے ذریعے اس طبیب نے یہ ثابت کیا کہ ہیضہ کی بنیادی وجہ لندن کے براڈ اسٹریٹ پمپ سے آنے والا پینے کا پانی ہے۔ اپنے دلائل سے افسران کو مطمئن کر کے جان سنو نے پمپ کو ہٹوایا۔ پمپ کے ہٹنے کی دیر تھی کہ انفکشن ختم ہونا شروع ہوا۔

اس طبیب کی کوششوں سے اگرچہ ہیضہ راتوں رات ختم نہیں ہوا تاہم اس وبا کو ختم کرنے کا لائحہ عمل ضرور دریافت ہوا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہیضہ ترقی یافتہ ممالک سے ختم ہو چکا ہے۔ تاہم تیسری دنیا اور ترقی پذیر ممالک کو گندے پانی کے نکاس اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

7۔ ہسپانوی نزلہ (اسپینش فلو)

اس وبا کو 1918 انفلوئنزا بھی کہتے ہیں۔ یہ بہت ہی مہلک وبا تھی جو ایچ۔ ون۔ این۔ ون۔ انفلوئنزا اے وائرس سے پیدا ہوئی تھی۔ یہ وبا فروری 1918 سے اپریل 1920 تک جاری رہی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی چار لہروں میں اس سے 50 کروڈ لوگ (اس وقت کی دنیا کی ایک تہائی آبادی) متاثر ہوئے۔ اس وبا سے مہلوکین کی تعداد 2 کروڈ سے 5 کروڈ بتائی جاتی ہے، اگرچہ کچھ اندازے اس سے مختلف بھی ہیں۔

اس وبا کو اس وجہ سے اسپینش فلو کا نام دیا گیا کیونکہ اسپین، جو اس زمانے میں جاری جنگ عظیم اول میں غیر جانبدار تھا، سے اس وبا سے متعلق بلا روک ٹوک اطلاعات آنے کی وجہ سے یہ ظاہر ہونے لگا تھا کہ یہی ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہوگا۔ واضح رہے کہ اسپین کے بادشاہ، کنگ الفانسو تیرہ کے اس وبا سے شدید بیمار ہونے کی خبر نے بھی سنسنی مچائی تھی۔

یہ وبا ایچ۔ ون۔ این۔ ون۔ انفلوئنزا اے وائرس سے پیدا ہونے والی پہلی بیماری تھی۔ 1977 کا رشین فلو بھی ایچ۔ ون۔ این۔ ون۔ وائرس سے پھیلا تھا۔ 2009 کا اسوائن فلو بھی اسی وائرس کا نتیجہ تھا۔

اینٹی بیوٹکس اور انٹی وائرل ادویات کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس وبا کی روک تھام کے لئے اسپرین، کوینائن، کیسٹر آئل وغیرہ کا استعمال کیا گیا۔ ساتھ ساتھ مختلف روایتی علاج معالجے بھی آزمائے گئے۔

اب جہاں تک موجودہ عالمی وبا کوڈ۔ 19 کا تعلق ہے تو 19 نومبر 2019 کو چین میں چند لوگ بخار کی شکایت لے کر اسپتال پہنچے۔ ڈاکٹروں نے اس کو پہلے عام فلو قرار دیا۔ تقریباً ایک ماہ کا عرصہ وائرس کی تشخیص میں صرف ہوا۔ 12 جنوری 2020 تک چین کے پاس وائرس کا پورا جینوم آ چکا تھا اور اسی کے ساتھ اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

22 جنوری 2020 کو انسانوں کے درمیان اس وائرس کا پھیلاؤ ثابت ہوا۔ 31 جنوری 2020 کو جب چین سے باہر وائرس سے متاثر 500 افراد کی تشخیص ہوئی تو ڈبلیو۔ ایچ۔ او۔ نے اسے ایک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا۔ تاہم اس کا ہلاکت خیز پھیلاؤ دیکھ کر اس کو 11 مارچ 2020 کو ایک علمی وبا قرار دیا گیا۔

تب سے اب تک 35 لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا سے ہلاک اور کروڑوں لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ ماضی کے مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماجی دوری سے لے کر قرنطینہ کے تجربات کو آزمایا گیا۔ سائنسی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کئی قسم کے ویکسین بھی دستیاب کیے جا چکے ہیں۔ پھر بھی پوری دنیا اس وقت اس وبا کی دوسری لیکن شدید تر لہر سے گزر رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اس خدا کی طرف رجوع کرے جس سے سرکشی کر کے نہ وہ آسمانوں میں پناہ لے سکتا ہے اور نہ ہی زمین کے اندر چھپنے پر قادر ہے! البتہ اس کی رحمت کے دروازے انسان کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور وباوں کے لئے علاج کی دریافت بھی دراصل اسی کی رحمت کا نتیجہ ہوتا ہے جسے انسان اس صلاحیت سے پا لیتا جو خدا نے اس کے اندر ودیعت کی ہوئی ہے!

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو
کہاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفو بندہ نواز میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *