نمبروں کی دوڑ، تحقیق ناپید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی اسکول میں ایک استانی صاحبہ پھول کی پتیاں توڑ کر لے گئیں تاکہ وہ تجربے کے ذریعے طلبہ کو کچھ سمجھا سکیں ’مگر انہیں سختی سے منع کر دیا گیا کہ یہ کورس کا حصہ نہیں‘ لہٰذا اسے پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ گویا تعلیمی اداروں میں صدیوں پرانا ناقص اور فرسودہ نظام تعلیم رائج العمل ہے اور یہ نظام ہماری تحقیقی میدان میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ہر درجے میں ریسرچ کا فقدان ہے۔ متعلقہ کورس سے ہٹ کر غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مخصوص کورس، محدود سلیبس، خلاصہ جات، حل شدہ پیپرز اور چند نوٹس کے ذریعے ذہین و فطین طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو دبا کر انہیں محض نمبروں کی دوڑ میں لگا دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا، ڈگری کا حصول اور ملازمت تک رسائی رہ گیا ہے اور نقل جیسی علمی بد دیانتی کا رجحان بڑھنے کے ساتھ محنتی اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کر رہی تھی کہ ایک طالبہ نے انگریزی مضمون میں 100 میں سے 100 نمبر حاصل کر کے پورے پاکستان میں اول درجہ حاصل کر لیا ہے۔

شاید یہ ایک عالمی ریکارڈ ہو ’بلاشبہ ایک قابل اور باصلاحیت طالب علم ہی زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر سکتا ہے مگر افسوس ہمارا ایجوکیشن سسٹم فاسد خطوط پر استوار ہے کہ ایک ذہین طالب علم اپنی تمام تر توانائیاں صرف نمبروں کی حصول میں ضائع کر دیتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ سو نمبروں کا عملی زندگی میں 20 فیصد بھی اطلاق نہیں ہوتا۔

نمبروں کی اس مسابقت میں ہم علم و تحقیق سے کافی دور ہو چکے ہیں۔ اسکول بچوں میں قائدانہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان نہیں چڑھاتے۔ یہاں صرف نمبرز اور گریڈ کا کھیل ہوتا ہے اور تعلیمی ادارے نمبروں کی بنیاد پر ڈگری بانٹنے کی فیکٹریاں بن چکی ہیں۔ جہاں محض فارمولے رٹنے اور اچھی یادداشت رکھنے والے طوطے پیدا ہوتے ہیں۔ یوں طلبہ میں سوچنے، سمجھنے، غور و فکر، تحقیق و تجسس اور کسی چیز کو درک کرنے کی حس مات پڑ جاتی ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ ہمارا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہے۔ ہم امتحان میں ناکامی کو زندگی کی ناکامی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جس بچے کے نمبر کم آتے ہیں اسے دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کر کے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس سے وہ احساس محرومی کا شکار ہوتا ہے اور اس کی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ کبھی بھی نہیں دیکھا گیا کہ کسی بچے کی ناکامی پر اس کے والدین، رشتہ دار یا خود اساتذہ نے دلاسا دیا ہو یا اگلے سال بہترین کامیابی کی امید دلائی ہو۔ ہمارے اداروں میں دیکھا گیا ہے کہ ماہرین نفسیات کی نگرانی میں طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ یوں والدین اور اساتذہ کی امیدوں پر پورا نہ اترنے کے سبب طلبہ میں خودکشی کا رجحان بھی جنم لیتا ہے۔

راقم الحروف کی رائے یہ ہے کہ جس طرح ہاتھ کی انگلیاں برابر نہیں ہیں، اسی طرح انسان کی صلاحیتیں بھی یکساں نہیں ہوتیں۔ اللہ رب العزت نے تمام انسانوں کو مختلف صلاحیتوں اور کمالات سے نوازا ہے۔ اسی لیے امتحان کو بچوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنانے اور تمام بچوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی بجائے ان کی فطری صلاحیتوں کو جان کر تحقیق و تجسس پر مبنی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

امریکی ارب پتی  ایلان مسک نے اپنا ایک سکول بنا رکھا ہے جس میں بچوں کو ان کی شوق کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے اور ان کی بھر پور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ بچے اپنے ٹیلنٹ کے بل بوتے پر کچھ کر دکھائیں۔ علامہ اقبال بھی ایسی ہی تعلیم کے حامی تھے جو محض درسی کتاب اور کمرہ جماعت تک محدود نہ ہو بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ یعنی علم برائے تسخیر کائنات۔ جب ہم یہ سمجھیں گے تو ہمارے طلبہ نمبر گیم سے نکل کر آزادانہ طور پر اپنی صلاحیتوں کو آزما سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقبال حسین اقبال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *