خواب سراب اور جنوبی پنجاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی طرف سے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کا آغاز ایک خوش آئند عمل ہے جس کا آغاز پنجاب کے دو ڈویژن ڈیرہ غازیخان اور ساہیوال سے کر دیا گیا ہے۔ لیہ میں اس پروگرام کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہر شہری کا مفت علاج ہو پنجاب کے دو ڈویژن میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو 7 لاکھ 20 ہزار کی ہیلتھ انشورنس دے دی گئی ہے جو کہ ملک کے کسی بھی ہسپتال سے مفت علاج کرا سکیں گے۔

اگلے چند ماہ میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کا دائرہ کار پورے پنجاب تک بڑھا دیا جائے گا۔ یقیناً صحت جیسے بنیادی شعبے حکومت کا یہ اقدام انتہائی قابل تحسین ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کیا ہی بہتر ہو کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں کو علاج معالجہ کی جدید سہولتوں سے آراستہ کر کے ان کا معیار بہتر کر دے اور ڈاکٹرز کو سختی کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں ایمانداری سے کام کرنے کا پابند کر دے تو یقیناً لوگ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کو ترجیح دیں گے۔

خاص طور پر اس بات کی جنوبی پنجاب میں ضرورت کہیں زیادہ ہے کیونکہ سرائیکی وسیب جدید طبعی سہولیات سے آراستہ بڑے ہسپتالوں سے محروم ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پورے جنوبی پنجاب سے مریضوں کو ملتان نشتر ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے اور پھر بلوچستان سے بھی سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو ملتان نشتر بھیجا جاتا ہے جس کی وجہ سے نشتر ہسپتال پر بہت بوجھ رہتا ہے۔ یقیناً اگر حکومت ملتان کے علاوہ وسیب کے دیگر اضلاع میں جدید طبعی سہولیات سے آراستہ ہسپتال قائم کرنے کو ترجیح دے تو اس سے نہ صرف نشتر ہسپتال پر پڑنے والا بوجھ کم ہو سکتا ہے بلکہ لوگوں کو دور دراز کی سفری مصائب سے نجات اور گھر کی دہلیز پر علاج کی سہولیات دستیاب ہو سکیں گی۔

مگر تبدیلی سرکار ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نیا کچھ کرنے کے بجائے فی الحال پرانے منصوبوں پر تختیاں تبدیل کرنے میں مصروف ہے جس کی ایک مثال لیہ میں اعلان کردہ منصوبہ جات ہیں جن یونیورسٹی آف لیہ، ماں بچہ ہسپتال، لیہ چوک اعظم دو رویہ روڈ سمیت بہت سے منصوبہ جات جو پہلے سے جاری تھے جس ان کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں ترقیاتی کام ہونے چاہیے اعلان جو بھی کرے، فنڈ جو بھی دے، سنگ بنیاد جو بھی رکھے، افتتاح جو بھی کرے اور کریڈٹ جو بھی لے مگر ترقیاتی کام ہونے اور جاری رہنے چاہیے یہ عوام کا بنیادی حق ہے۔

حکومت جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں جس طرح بھر پور ترقیاتی پیکجز کا اعلان کر رہی ہے۔ اگر یہ فنڈز میرٹ پر خرچ کیے جائیں تو کوئی شک نہیں کہ اس خطے کی تاریخ بدل سکتی ہے۔ مگر جنوبی پنجاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں ہر دور میں ہر خواب ہی سراب ثابت ہوا ہے۔ اعلان کردہ فنڈز کبھی بھی مکمل طور خرچ نہیں ہوئے عام طور پر کچھ خرچ ہوتے ہیں۔ کچھ کمیشن کی نظر ہو جاتے ہیں اور باقی تمام واپس چلے جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلی پنجاب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ”انھوں نے جنوبی پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 33 فیصد بجٹ مختص کر کے رنگ فینسنگ کر دی ہے تاکہ جنوبی پنجاب کا فنڈ کہیں اور استعمال نہ ہو سکے انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں جنوبی پنجاب پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔

ہم اس سفر کی منزل کو حاصل کر کے دم لیں گے۔“ اللہ‎ کرے ایسا ہی ہو فنڈز بھی مکمل خرچ ہوں اور جنوبی پنجاب کو منزل بھی مل جائے کیونکہ تین سال گزرنے کے باوجود ابھی تک جنوبی پنجاب کی منزل دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ 100 دنوں سے شروع ہونے والی جنوبی پنجاب صوبے کی کہانی ”پھر اور پھر“ کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکومت نے صوبے کو سیکرٹریٹ تک تو محدود کیا ہی مگر ساتھ تقسیم بھی کر دیا یعنی حکومت نے صوبائی سب سیکرٹریٹ کو ملتان اور بہاول پور کے درمیان تقسیم تو کر دیا مگر اس میں اختیارات تقسیم نہیں کیے اب سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد تو رکھا جا چکا ہے۔ مگر اختیارات کا سنگ میل باقی ہے۔

کچھ ایسا ہی حشر لیہ ڈویژن اور چوک اعظم تحصیل کے مطالبے کے ساتھ بھی ہوا پچھلے کافی عرصے سے یہ مطالبات شدت کے ساتھ کیے جا رہے تھے۔ مقامی سیاستدان یہ مطالبات پورے ہونے کی یقین دہانی بھی کرا چکے تھے جس کی وجہ سے وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے دورے کے موقع پر یہ امید کی جا رہی تھی کہ اس دورے میں نہ صرف لیہ کو ڈویژن اور چوک اعظم کو تحصیل بنانے کا اعلان کیا جائے گا بلکہ مظفر گڑھ، میانوالی روڈ کو دو رویہ کرنے کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

مگر وزیر اعظم اور وزیر اعلی نے ایک بار پھر ان مطالبات کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں کافی حد تک مایوسی دیکھنے کو ملی مگر اس کے باوجود یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ راجن پور کے بعد لیہ اور پھر بھکر میں اربوں روپے کے جس طرح کے ترقیاتی پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگر حکومت ماضی کی روایت کو توڑتے ہوئے مکمل فنڈز جاری کر کے اعلان کردہ منصوبہ جات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے خصوصی دلچسپی لے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور اس سے خطے میں پایا جانے والا احساس محرومی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جنوبی پنجاب صوبے کا قیام اور پسماندہ علاقوں میں احساس محرومی کا خاتمہ تحریک انصاف کے منشور اور انتخابی وعدوں میں شامل تھے۔ مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے۔ یہ خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ ماضی کی طرح تحریک انصاف کی طرف سے جنوبی پنجاب کو دکھائے جانے والے خواب بھی سراب بنتے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی وسیب کے خواب پورے نہ ہوئے تو پھر اگلے الیکشن میں جنوبی پنجاب سے جیتنے کے تحریک انصاف کے خواب بھی ادھورے رہ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *