سگریٹ نوشی ترک کرنے کے عالمی دن پر


سفر بڑی عجیب چیز کا نام ہے، یہ آپ کو بھانت بھانت کے لوگوں سے ملا دیتا ہے اور اگر آپ کے پاس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل ہے تو آپ کو قدم قدم پر نت نئی کہانیاں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔

ایک دفعہ میں لاہور سے خانیوال جانے کے لیے ریل میں سوار ہوا۔ میری ساتھ والی خالی سیٹ پہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے ایک انتہائی مناسب قیمت والی سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور دیا سلائی جلا کر ایک سگریٹ سلگا لیا۔ میں نے اس نیت سے کہ شاید وہ میرے چہرے پہ ناگواری کے آثار دیکھ لے، اس شخص کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ مگر وہ ان اخلاقی باریکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کش پہ کش لگانے لگا اور میں غریب اس شش و پنج میں مبتلا رہا کہ اس کو کیسے روکوں۔ میں مروت کی رکاوٹ کو راہ سے ہٹانے کی کوشش میں مگن تھا کہ پچھلی نشستوں سے ایک بھاری بھرکم نسوانی آواز نے ہمیں چونکا دیا ”اے بھائی صاحب یہ کس نے سگریٹ لگائی ہے سارا ڈبہ بدبو سے بھر دیا ہے، فوراً اسے بجھاؤ، پتہ نہیں ہے کہ گاڑی میں سگریٹ نوشی منع ہے“

میں نے اور ادھیڑ عمر کے سگریٹ نوش نے اپنی گردنیں گھما کر پیچھے دیکھا، وہ بڑی لحیم شحیم خوفناک قسم کی عورت تھی اور وہ اکیلی ہر گز نہیں تھی اس کے ساتھ پورے خاندان کی فوج ظفر موج تھی۔ سگریٹ نوش شخص اس خاتون کے پہلے حملے میں ہی پسپا ہو گیا اور کچھ بڑبڑاتے ہوئے سگریٹ کو رگڑ کر بجھا دیا

اس لمحے میری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو بنا لڑے میدان مار لے۔ میں سگریٹ نوش شخص کی حالت دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا جس کے دل میں سگریٹ کی خواہش کچوکے لگا رہی تھی مگر وہ بے بس تھا۔

ریل گاڑی ابھی مشکل سے ساہیوال پہنچی ہوگی کہ ریل کا ڈبہ مرغن کھانوں کی دلفریب خوشبوؤں سے بھر گیا۔

ہمارے عقب میں بیٹھے جنگجو قبیلے کی عورتوں نے درجن بھر ٹفنز کے منہ کھول لیے تھے اور انواع و اقسام کے کھانوں کی اشتہا انگیز مہکار نے نیم خوابیدہ مسافروں کے منہ پانی سے بھر دیے تھے۔ اور مجھے یہ شعر یاد آ رہا تھا

ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسنؔ
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے

بہر حال کچھ دیر کے بعد آب و طعام کا دور تمام ہوا اور ایک بار پھر مردانگی سے بھرپور نسوانی آواز نے ہمیں چونکا دیا

” اے بھائی صاحب اے بھائی صاحب“ وہ ایک بار پھر میرے ساتھ بیٹھے سگریٹ نوش مسافر سے مخاطب تھی۔ اس بار اس کے لہجے میں قدرے ملائمت تھی جو مجھے مصنوعی معلوم ہو رہی تھی۔

ادھیڑ عمر مسافر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بولی ”آپ کے پاس ماچس ہوگی“
” نہیں ہے میرے پاس ماچس“ مسافر نے نہایت درشتی اور روکھے پن سے جواب دیا ”

عورت اس غیرمتوقع طور پر سخت جواب سے قدرے شرمندہ ہوئی اور خاموش ہو کر بیٹھ گئی۔ میں اس ساری صورتحال سے دل ہی دل میں محظوظ ہو رہا تھا۔

میں نے کچھ دیر بعد مسافر سے سوال کیا، بھائی صاحب آپ کے پاس ماچس ہے تو سہی پھر آپ نے اس خاتون کو کیوں نہیں دی؟ مسافر نے بڑا خوب جواب دیا ”مکار کہیں کی سگریٹ پینے نہیں دیتی، دانت میں مارنے کو ماچس مانگتی ہے“ ۔

Facebook Comments HS