چند صدارتی ایوارڈ یافتہ لوگوں سے جڑی کچھ تلخ کچھ شیریں یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


خاکسار پی ٹی وی لاہور سنٹر کی کینٹین میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک وہاں معروف لوک فنکار پٹھانے خان تشریف لے آئے ان کے پاؤں میں سادہ اور سستی سی چپل ان کی مالی حالت کی کہانی کہہ رہی تھی، ان کے ساتھ ایک بڑے بڑے بالوں والا نوجوان لڑکا تھا جو کہ ان کا بیٹا بتایا گیا تھا، ہم نے موقع غنیمت جانا اوت ان سے گفتگو شروع کردی اور وہ جیسے پھٹ سے پڑے اور عطا اللہ عیسی خیلوی کے خلاف بولنے لگ گئے کہ

”عطا اللہ کا سر، لے اور تال سے کیا تعلق؟ لیکن پھر بھی وہ پجارو میں پھر رہا ہے اور جو موسیقی کی خیر خبر رکھتے ہیں وہ رل رہے ہیں اور کسمپرسی کا شکار ہیں، ظاہر ہے اس ضمن میں ان کا اشارہ اپنی طرف تھا لیکن ہم سننے کے علاوہ بھلا کر بھی کیا سکتے تھے؟ اس لیے سنتے رہے اور چپ رہے کہ منظور تھا“ پردہ عیسی خیلوی ”کا۔

دوسری یاد ہمیں صدارتی ایوارڈ یافتہ اور حال ہی وفات پا جانے والے دبنگ آواز والے لوک گلوکار شوکت علی کے حوالے سے آ رہی ہے، ان دنوں خاکسار روزنامہ خبریں لاہور میں سب ایڈیٹر تھا۔ ایک روز اپنے آفس سے سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی ہم استقبالیہ کے پاس پہنچے تو وہاں گلوکار شوکت علی ریسپشنسٹ کی منتیں کر رہے تھے کہ ”مجھے اوپر جانے دو۔ میں نے ضیا شاہد سے ملنا ہے“

لیکن ریسپشنسٹ بغیر اپائنٹمنٹ کے انہیں اوپر نہ جانے دے رہا تھا جس پر گلوکار شوکت علی نے اوپر سے آتے خاکسار کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا کر ملتجیانہ سے لہجے میں کہا ”یار! توں ایہنوں کہہ کے مینوں اوپر جان دے“ (یار تو اسے کہہ کہ مجھے اوپر جانے دے)۔

خاکسار اتنے بڑے فنکار کی یوں منت سماجت کو عجیب سا محسوس کرتے ہوئے ریسپشنسٹ کی طرف دیکھا لیکن اس نے کہا ”سر! چیف صاحب (ضیا شاہد) کے سخت احکامات ہیں کہ کوئی بھی بغیر اپائنٹمنٹ لیے اوپر ان کے پاس نہ آئے“

جس پر خاکسار نے بھی گلوکار شوکت علی سے معذرت کی اور باہر کی طرف چل دیا لیکن آج بھی وہ لمحات یاد آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ شاید شوکت علی سے ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔

تیسرا واقعہ اس وقت کا ہے جب خاکسار ضیا شاہد مرحوم کی دعوت پر روزنامہ خبریں میں جاب کے لیے ان کے آفس پہنچا تو وہاں ہیں دو صدارتی ایوارڈ یافتہ فلم سٹارز افضال احمد، اداکار عجب گل اور فلم پروڈیوسر حسنین بیٹھے تھے (یہ حسنین وہی تھے جن کی اہلیہ اداکارہ چاندنی ان دنوں سٹیج اداکار نسیم وکی کی گھر والی ہیں ) ۔ جیسے ہی خاکسار ضیا شاہد کے کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے شوبز کی ان تینوں شخصیات سے مخاطب ہو کر کہا ”میرے مہمان آ گئے ہیں، اب آپ لوگ چلے جائیں“

خاکسار کے لیے اتنے بڑے فنکاروں کے ساتھ ضیا شاہد صاحب کا ایسا رویہ اچنبھے کا باعث تھا لیکن بعد میں دیکھا کہ شوبز اسٹارز صحافیوں کے آگے بالکل بجھ سے جاتے ہیں اور ان کے سامنے ان کی ساری بتیاں گل ہوجاتی ہیں۔ ضیا شاہد کی اس بات پر افضال احمد نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پنجابی میں کہا ”بس آ سگرٹ پی لین دیو ایتھے۔ فیر چلدے آں“ (بس یہ سگریٹ پی لینے دیں یہاں پھر چلتے ہیں)۔

لیکن جناب ضیا شاہد نے ان کی ایک نہ سنی اور بالآخر انہیں جانا ہی پڑا حالانکہ وہ روزنامہ خبریں کا آفس نئی بلڈنگ میں منتقل ہونے کی خوشی میں مٹھائی کی ٹوکری بھی لے کر آئے تھے جو کہ ان کے سامنے شیشے کے میز پر رکھی ہوئی تھی۔ خاکسار کو آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ اداکار عجب گل ضیا شاہد صاحب کی بات کو ”محسوس“ کر رہے تھے اور فوراً جانے کو تیار تھے لیکن افضال احمد وہاں بیٹھنے پر اصرار کر رہے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے تھے۔

ایک دلچسپ واقعہ ان دنوں پیش آیا جب خاکسار ڈاٹ کام جناب ضیا شاہد کے بلاوے پر ”روزنامہ خبریں لاہور“ میں ”سب ایڈیٹر“ کی حیثیت سے کام کر رہا تھا، روزنامہ خبریں کے زیراہتمام ”پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے“ ؟ کے عنوان سے ملک بھر میں مذاکرہ ہو رہا تھا۔ لاہور کے الحمرا ہال میں بھی اسی سلسلے میں پروگرام تھا اور رپورٹنگ ملک کے آج کے معروف تجزیہ نگار عامر رانا، خاکسار اور چند دوسرے دوستوں کے ذمے تھی، اس وقت سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد مہمان خصوصی تھے اور مقررین میں دیگر لوگوں کے علاوہ اداکار جاوید شیخ، مزدور لیڈر خورشید احمد اور نیلام گھر فیم کمپیئر طارق عزیز بھی شامل تھے۔

خورشید احمد تقریر کے لیے آئے تو ان کی تقریر کے دوران ان کے ساتھ آئے لوگوں نے زور زور سے نعرے لگائے اور تالیاں بجائیں۔ خورشید احمد کے بعد طارق عزیز آئے اسٹیج پر لیکن ان کی پوری تقریر کے دوران کسی نے تالی نہ بجائی تو وہ جاتے ہوئے پنجابی میں کہنے لگے

”جے مینوں پتا ہندا کہ انج ہونا اے تے میں خورشید صاب وانگوں تالیاں مارن آلے اپنے بندے نال لے کے آندا“ (اگر مجھے پتہ ہوتا کہ اس طرح ہونا ہے تو میں خورشید صاحب کی طرح تالیاں مارنے والے اپنے بندے ساتھ لے کے آتا)
اس پر پورا الحمرا ہال قہقہائی ہو گیا تھا۔

اور آج نہ وہ پٹھانے خان ہے نہ شوکت علی، نہ وہ خورشید احمد، نہ ضیا شاہد اور نہ ہی طارق عزیز۔
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *