خود کشی مسائل کا حل نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معبود نے انسان کو دنیا میں اکیلے نہیں بھیجا بلکہ اس کے ساتھ مسئلے مسائل، غموں اور پریشانیوں کو بھی حکم دیا کہ انسان کو اکیلا نہیں چھوڑنا اس کے ساتھ ساتھ رہنا۔ غم ساتھ اس لیے رکھے تاکہ انسان مضبوطی سے ان سے نبرد آزما ہو جائے اور ان پر فتح پاکر آہنی ذہن اور مضبوط سوچ رکھنے والا بن جائے۔ جب انسان ان پر فتح پا لیتا ہے تو بڑی مسرت، جوش اور ایک خاص قسم کا انبساط اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ ان غموں اور پریشانیوں سے مقابلے میں جو ہار گیا وہ گویا زندگی سے جنگ ہار گیا اور بعض دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان مسائل کو قابو نہیں کر پاتا اور وہ ایسا سنگین قدم اٹھاتا ہے جس سے زیاں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

بیٹے نے زہر کھا لیا جب یہ خبر بوڑھے والدین تک پہنچی ہوگی تو ان کا کلیجا پھٹ گیا ہوگا۔ یہ خبر سننے کے بعد بھی یہ امید قائم رہی ہوگی کہ شاید جاں بر ہو جائے گا اور پھر سے اس کا چہرہ آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا رہے گا۔ دوسری خبر جب والدین تک یہ پہنچی ہوگی کہ ان کا بیٹا اب وہاں چلا گیا ہے جہاں سے کوئی واپس لوٹ کر نہیں آتا تو وہ زندہ درگور ہوئے ہوں گے۔ فقط اس لیے انیس سال کے شاب نے خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھا کر زندگی کا خاتمہ کیا کہ والد کی تنخواہ بند تھی اور گھر میں معاشی مسائل نے تنگ کر رکھا تھا۔ پریشانیاں کس گھر میں نہیں ہوتی۔ پریشانیوں اور مسائل سے گبھرا کر ہر بندہ خود کشی کرنے لگ جائے تو ان سے مقابلے کون کرے گا۔ ان مسائل سے ڈھٹ کر مقابلہ کرنے کے بجائے بزدلی کا مظاہرہ کرنا عقلمندی نہیں بلکہ احمقانہ فعل ہے۔

خودکشی مسائل کا حل نہیں ہے اگر ہر فرد اپنے غموں، پریشانیوں، مسائل اور الجھنوں سے گبھرا کر خود کشی کرنے لگ جائے تو مستقبل اور دنیا کا کیا ہوگا۔ دنیا میں انسان جینے کے لیے آیا ہے اور اسے اس امتحان کی نگری میں قدم قدم پر جینے کے لیے آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس طرح ہلکے ہوا کے جھونکوں سے پیڑ اکھڑ نہیں جاتے اسی طرح معمولی مسائل سے گبھرا کر سنگین اقدام نہیں اٹھائے جاتے۔ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے اپنے والدین، پیاروں، دوستوں احباب کو رنج و غم میں یوں مبتلا نہیں کیا جاتا کہ وہ جیتے جی ہی مر جائیں۔

جوان اور گرم خون تو حوصلہ مند ہوتا ہے۔ لوہے کی طرح مضبوط ہوتا ہے۔ کم ہمتی کا مظاہرہ تو نا امید شخص بھی نہیں کرتا۔ وہ بھی دنیا کے سرد گرم کو برداشت کرتا ہے۔ ہر غم و پریشانی کا مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے۔ کبھی کبھار نا امید تو ہوتا ہے لیکن زندگی کا خاتمہ نہیں کرتا۔ جن رگوں میں تازہ خون دوڑ رہا ہو، بلند حوصلے ہوں، ہمت اور جذبوں کا امڈتا ہوا سمندر ہو وہ ایسے اقدام اٹھانا تو کجا ان کے ذہن میں ایسا خیال آنا بھی جائز نہیں۔

معاشی مسائل کا سامنا صرف اس کو نہیں تھا گھر کے سارے افراد اس پریشانی سے لڑ رہے تھے۔ اسے چاہیے تھا کہ والدین کی ہمت بڑھاتا انہیں حوصلہ اور دلاسا دیتا۔ اس نے تو خود کشی کر کے والدین کی کمر ہی توڑ دی۔ اب ان کا سنبھلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ جیسے تیسے وہ مالی مشکلات اور پریشانیوں سے مقابلہ کر رہے تھے اب ان میں وہ ہمت اور حوصلہ نہیں کہ بیٹا کھو جانے کے پہاڑ جیسے غم کو برداشت کر سکے۔

جس طرح کسی انسان سے خوشی کی ملاقات زیادہ دیر تک نہیں رہتی ویسے ہی پریشانی، تکلیف، اذیت زیادہ دیر تک اسے تنگ نہیں کرتی۔ دھوپ کے بعد چھاؤں سردی کے بعد گرمی اور دن کے بعد رات آنا فطری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ خالق اپنے بندوں کا صبر آزما رہا ہو۔ ایسے میں صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ پر بھروسا رکھنا چاہیے وہ کسی بھی حال میں اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ زندگی کو حسین و جمیل صرف خوشیاں نہیں بناتی بلکہ وہ غم اور پریشانیاں بھی اس میں رنگ بھرتی ہیں جن سے بعض گبھرا کر خودکشی کرتے ہیں۔ ذہنی الجھنوں پر قابو پانے، بڑے بوڑھوں کی صحبت میں رہنے، اللہ کے قریب ہونے اور خود کو ہر مشکل اور پریشانی کے لیے تیار رکھنے سے انسان ایسے سنگین اقدام اٹھانے سے رک سکتا ہے۔ ورنہ یوں ہی گھر اجڑتے جائے گے اور والدین خون کے آنسو روتے رہے گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *