الفا، بیٹا، گاما، کیپا؛ کرونا کی اقسام کو نئے نام مل گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں اب تک کرونا وائرس کی کم از کم چار ایسی اقسام ہیں جو ان ممالک  کے ناموں سے پکاری جاتی ہیں جہاں یہ پہلی بار پائے گئے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے ویرینٹس (اقسام) کو یونانی حروف تہجی کے ناموں سے پکارا جائے گا تا کہ اس سے ان ملکوں کا نام تحقیر سے محفوظ رہے جہاں یہ ویرینٹ پہلی بار دریافت ہوئے ہیں۔

دنیا میں اب تک کرونا وائرس کی کم از کم چار ایسی اقسام ہیں جو ان ممالک کے ناموں سے پکاری جاتی ہیں جہاں یہ پہلی بار پائے گئے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کرونا کے مخصوص ویرینٹس کو ان ناموں سے موسوم کیا جائے گا، جیسے برطانوی ویرینٹ ‘B.1.1.7​’ کو ‘الفا’ کہا جائے گا جب کہ جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے ویرینٹ ‘B.1.351’ ​کو ‘بیٹا’ اور برازیل کے ویرینٹ ‘P.1’ کو ‘گاما’ کہا جائے گا۔

بھارت میں پائی جانے والی کرونا کی قسم ‘B.1.617​’ کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے۔ یعنی اب ‘B.1.617.2’ کو ویرینٹ کو ‘ڈیلٹا’ جب کہ ‘B.1.617.1’ ویرینٹ کو ‘کیپا’ کہا جائے گا۔

ڈبلیو ایچ او کی کرونا وبا سے متعلق تکنیکی ماہرین کی قائمہ کمیٹی کی سربراہ ماریا وان کرخوو کا کہنا ہے کہ کرونا ویرینٹ کے ناموں کے لیے یونانی حروف کا مقصد عام بات چیت میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ماہرین موجودہ سائنسی ناموں کو تبدیل نہیں کریں گے۔

یونانی حروف تہجی کے لحاظ سے وضع کردہ ان ناموں کے علاوہ دو قسم کی جینیاتی تبدیلیوں یعنی ‘میوٹیشنز’ کو جغرافیائی ناموں کے لحاظ سے پکارا جاتا تھا۔

مثال کے طور پر برطانیہ کے اندر برطانوی ویرینٹ کو ‘کینٹ ویرینٹ’ کہا جا رہا تھا۔

کینٹ انگلینڈ کے جنوب مشرق کا علاقہ ہے جہاں یہ میوٹیشن پہلی بار دریافت ہوا تھا۔

تاہم، سائنسی حلقوں میں ‘B.1.1.7.2’ قسم کو اسی نام سے یاد کیا جاتا رہے گا جس سے ان کی میوٹیشن سے متعلق معلومات ظاہر ہوتی ہے۔

تحقیر یا امتیاز سے محفوظ رہنے کی تدبیر

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سائنسی اصطلاح کے اپنے فوائد ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مشکل ہوا کرتی ہیں جن میں ذرہ برابر فرق سے غلطی اور ابہام کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر تحقیر یا نسلی امتیاز سے بچنے کے لیے ان مقامات کا نام استعمال کیا جاتا ہے جہاں وائرس کا ویرینٹ پہلی بار دریافت ہوا۔

اس ضمن میں ڈبلیو ایچ او نے ان ملکوں کے حکام اور ذرائع ابلاغ پر زور دیا ہے کہ وہ عام رابطوں کے لیے درست انداز اپنانے کو ترجیح دیں اور اسے عام فہم اور سہل بنائیں۔

یاد رہے کہ یونانی حروف تہجی کی تختی 24 حروف پر مشتمل ہے۔ ماہرین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اگر کووڈ-19 وائرس کے ویرینٹس کی تعداد 24 سے تجاوز کر جاتی ہے تو پھر مزید نئے نام کہاں سے آئیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2252 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *