اسد طور پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرلیں تو معافی مانگنے کو تیار ہوں: حامد میر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے آف ایئر ہونے والے صحافی حامد میر نے معافی مانگنے کی مشروط پیش کش کی ہے۔

حامد میر نے منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں اشارتاً کہا ہے کہ “اگر وہ صحافی اسد طور پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیں تو میں معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔”

حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں لفظ ‘وہ’ کا استعمال کیا جس کے بعد ایک مرتبہ پھر بات ہو رہی ہے کہ ان کا اشارہ کس کی جانب ہے۔

حامد میر کی جمعے کو سیکیورٹی اداروں سے متعلق اشاروں کنایوں میں کی جانے والی ایک تقریر کے بعد انہیں جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ کی میزبانی سے روک دیا گیا تھا۔

جیو نیوز سے پیر کی شب آٹھ بجے نشر ہونے والے پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ کی میزبانی حامد میر کی جگہ مارننگ شو کے میزبان عبداللہ سلطان نے کی۔ تاہم، انہوں نے اس پروگرام میں حامد میر کے آف ایئر ہونے کے معاملے کا ذکر نہیں کیا۔​

البتہ دیگر نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں نے پرائم ٹائم کے دوران اپنے پروگرامز میں حامد میر کو آف ایئر کیے جانے کے معاملے کو اٹھایا۔

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے ‘آج’ ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ حامد میر کو کہا گیا ہے کہ اگر وہ معافی مانگ لیں تو انہیں پروگرام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

صحافی نسیم زہرہ نے اپنے پروگرام کے دوران کہا کہ ملک میں قوانین اور عدالتیں موجود ہیں۔ اگر کسی کو صحافی کی کوئی بات پسند نہیں آئی، رپورٹ ٹھیک نہیں لگی تو اس طرح کے معاملات کو عدالتوں میں لے کر جایا جائے۔ لیکن صحافی کو اٹھانا، مارنا، پیٹنا اور پھر ان کی تضحیک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

صحافی ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں کہا کہ اگر حامد میر اور طلعت حسین صحافت کی تعریف پر پورا نہیں اترتے تو کون اترتے ہیں؟ ان کے بقول، یہ لوگ کئی برسوں تک ٹی وی اور اخبارات کے ہر شعبے سے وابستہ رہے اگر وہ اب بھی جرنلسٹ نہیں تو کون جرنلسٹ ہے؟ اور یہ معیار مقرر کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کو برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کے پروگرام ‘ہارڈ ٹاک’ میں انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ طلعت حسین کو صحافی نہیں مانتے۔

حامد میر کو کیوں آف ایئر کیا گیا؟

حامد میر کو چینل انتظامیہ کی جانب سے آف ایئر کرنے کا معاملہ ان کی ایک تقریر کے بعد سامنے آیا تھا۔ جمعے کو انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک احتجاج کے دوران اشاروں کنایوں میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اگر آپ ہمارے گھر میں گھس کر ماریں گے تو ہم آپ کے گھر میں نہیں گھس سکتے۔ لیکن ہم آپ کے گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے۔’

حامد میر نے صحافیوں کے جس احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا تھا وہ صحافی اسد علی طور پر گزشتہ ہفتے تین نامعلوم ملزمان کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

جنگ و جیو گروپ کا مؤقف

‘جنگ و جیو’ گروپ نے منگل کو شائع ‘جنگ’ اخبار میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حامد میر کی تقریر اور اس کے بعد سامنے آںے والے عوامی ردِ عمل پر ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلا کے ساتھ صورتِ حال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہے۔

البتہ جیو نیوز سے منسلک تجزیہ کار اور سینئر صحافی مظہر عباس نے انتظامیہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں حامد میر کو آف ایئر کرنے کے فیصلے کی منطق سمجھ نہیں آئی۔

دوسری جانب صحافتی تنظیموں اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حامد میر کو آف ایئر کرنے کی مذمت کی ہے جب کہ بعض حلقے حامد میر کے آف ایئر کیے جانے کو چینل انتظامیہ پر حکومتی دباؤ کا شاخسانہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

تاہم وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کس نشریاتی ادارے نے کیا پروگرام نشر کرنا ہے اور اس کی ٹیم کیا ہوگی یہ فیصلہ ادارے خود کرتے ہیں۔ ہمارا اداروں کے اندرونی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔

وائس آف امریکہ کے عاصم علی رانا کی رپورٹ کے مطابق جنگ گروپ کے ایک سینئر کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حامد میر کو فی الحال آف ایئر کیا گیا ہے لیکن وہ بدستور گروپ کا حصہ رہیں گے۔

ان کے بقول پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ کسی اور اینکر کے ذریعے جاری رہے گا اور حالات بہتر ہونے پر حامد میر ہی اس پروگرام کو دوبارہ کریں گے۔

اسد طور کے الزامات اور اس کی تردید

یاد رہے کہ صحافی اسد طور نے الزام عائد کیا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے تین ملزمان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے ہے۔

لیکن حکومت کا مؤقف تھا کہ اسد طور پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، قبل از وقت کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔

دوسری جانب آئی ایس آئی نے بھی وزارتِ اطلاعات کے توسط سے جاری ایک بیان میں اسد طور پر ہونے والے مبینہ تشدد سے اظہارِ لاتعلقی کیا تھا۔

آئی ایس آئی کا مؤقف تھا کہ وہ کیس کی تفتیش میں تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اسد طور پر ہونے والے حملے کے الزامات ظاہر کرتے ہیں کہ سازش کے تحت آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ آئی ایس آئی سمجھتی ہے کہ سی سی ٹی وی میں ملزمان کی شکلیں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں تو پھر کیس کی تفتیش کو آگے بڑھانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *