فیس بکی بلبلے اور رشتوں کی ڈوبتی ہوئی ناؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے جس کے ہمارے معاشرے پر حسب معمول مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

میں اپنا تجربہ شیئر کرتا ہوں۔ کتب بینی کا جنون کی حد تک شوق رکھتا تھا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے سابق ڈی جی شہید صدیق سالک لکھتے ہیں جب انڈین جیل میں تھے تو مجھے سب سے زیادہ تکلیف کتابوں سے دوری سے ہوئی۔ پھر یہ کرتا کہ ہمیں واش روم کے لیے ایک بوتل پانی ملتی تھی میں اس کا لیبل اتار کر بار بار پڑھتا تھا اور مطالعہ کی پیاس بجھاتا تھا۔

میرا بھی کتب سے کچھ ایسا ہی لگاؤ تھا۔ ممتاز مفتی کے افسانے الکھ نگری اور علی پور کا ایلی میری ایک دن کی خوراک تھے۔ ناول، تاریخ اور اسلامی کتب کا اچھا خاصا ذخیرہ بھی تھا۔

لیکن پھر یہ ہوا 2010 میں PTCL براڈ بینڈ کا کنکشن لیا۔ سارا دن فیس بک پر بیٹھا رہتا۔ اس دوران میں نے کوئی دو درجن کتابیں منگوائی تھیں لیکن آج گیارہ سال ہو گئے ہیں ان کتابوں کو کھول کر دیکھا تک نہیں۔ پچاس کلو وزن سے پچاسی کلو ہو گیا کولیسٹرول لیول بارڈر لائن کراس، آئی سائٹ پہلے سے زیادہ ویک۔ اب ٹویٹر واٹس ایپ جیسی ایپس نے نیند بھی ختم کر دی ہے۔ رات کو دس بجے سونے والے کو دو بجے تک نیند کا احساس تک نہیں ہوتا۔ زندگی بے ڈھنگ اور ان بیلنسڈ ہو کر رہ گئی ہے۔ نیند سے کروٹ بدلتے جہاں اللہ کا نام لیتے تھے وہاں اب موبائل چیک کرتے ہیں کسی کا میسج تو نہیں آیا۔ اب اس کھلونے اور ان ایپس کے آگے ہم کھلونے بن کر رہ گئے ہیں۔ انسانیت، احساس عمل عبادت سب چھوٹ گئے ہیں۔

میرے خیال میں یہ ہر فرد کی کہانی ہے سب کے 12 سے 15 گھنٹے اس کی پوجا پاٹ میں گزرتے ہیں۔ ہم سے مطالعہ، عملی جدوجہد، سماجی سرگرمیاں، جسمانی ورزش سب ان سوشل ایپس نے چھڑوا دی ہیں۔

حالت یہ ہے کہ ہمارے حیدر آباد کے ایک دوست کو کافی بار کالیں کر کے بلاتے ہیں لیکن جب وہ تشریف لاتے ہیں تو ہر ایک اس فیس بک کے گٹر میں گھسا ہوتا ہے وہ دوست کافی دیر انتظار کے بعد کہتے ہیں یار ہم تو روز ملتے ہیں آپ ف ب استعمال کر لیں ہم پھر کبھی ملیں گے۔

ہر بندہ اوسطاً پانچ منٹ کے بعد تو فیس بک کا ضرور چکر لگاتا ہے۔ کچھ دوست تو ایسے ہیں جن کا کھانا پینا اوڑھنا ہی فیس بک ہے۔ فیس بک کے ان نقصانات کے علاوہ ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے ہمارے تعلقات میں کشیدگی اور تلخیاں بڑھائی ہیں۔ مذہبی، لسانی، سیاسی اشو کا بلبلہ دو دن کے لئے اٹھتا ہے لیکن ہمالیہ سے بلند اور مضبوط رشتوں کو تنکوں کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔

آپ کسی بھی اشو کو دیکھ لیں سوشل میڈیا پر اس کی زندگی ایک ہفتے سے زیادہ نہیں ہوتی ہے لیکن اس ایک ہفتے کی زندگی ہمیں ایک دوسرے سے کوسوں دور پہنچا دیتی ہے۔

امر جلیل اشو پر دو دوستوں نے مجھے بلاک کیا تین کو میں نے ان فالو کیا۔ جی ایم سید، پلیجو زرداری نواز عمران پر تنقید کی وجہ سے اچھے اچھے دوستوں سے محروم ہونا پڑا۔

سمجھ نہیں آ رہی کہ فیس بکی بلبلے کب تک ہمیں تنکوں کی طرح بہاتے رہیں گے اور ہم کب اس کے آگے ڈٹ کر رشتوں کو بچائیں گے۔ ہم کب ان ایپس سے آزاد ہو کر نارمل انسان بنیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *