حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


رنگ برنگی روشنیاں ریسٹورنٹ کے ماحول کو بقعہ نور بنائی ہوئی ہیں۔ غلام علی کی آواز میں موسیقی نے ماحول کو مسحور کن بنا رکھا ہے ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریاز میں لش پش گاڑیوں کے ٹائروں کی چرچراہٹ فضاء میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ زرق برق لباس میں ملبوس فیملیز ڈنر کرنے آ رہی ہیں۔ ریسٹورنٹ کا مالک میرا اچھا دوست ہے میں کچھ وقت بتانے اس کے پاس چلا جاتا ہوں۔

میں جب بھی گاڑی ایک مخصوص ایریا میں پارک کرتا ہوں وہ بھاگ کر میرے پاس آتا ہے۔ صاب آپ پنج سورۃ خریدیں گے میرے پاس پینسل بھی ہیں۔ سورۃ یاسین بھی ہے۔ مجھے کچھ نہیں خریدنا۔ صاب لے لیں یہ سورۃ یاسین تو بیس روپے کی ہے یہ تو لے لیں۔

کہا نہ نہیں لینی کوئی چیز۔ یہ سب تم لوگوں کے بھیک مانگنے کے طریقے ہیں۔ گاڑی کو لاک کرتے ہوئے باہر نکلا بچے سے کہا۔ چلو جاؤ شاباش تنگ نہ کرو۔

میں جھوٹ نہیں بول رہا صاب میری ماں مر گئی۔ باپ بیمار ہے بس ایک جوان بہن ہے۔ میں نے اسے کہا کہ یہاں ہر کوئی کارڈ دے رہا ہے۔ کسی کو ماں کے لیے دوائی کے پیسے چاہے اور کسی نے باپ کا آپریشن کروانا ہے۔ ان میں کہاں تک سچ ہے مجھے کیا معلوم؟

لیکن صاب جی میرے پاس تو کوئی کارڈ نہیں، میرے پاس تو سورۃ یاسین ہے، پینسل ہیں آپ لے لیں میں بھیک نہیں مانگ رہا۔ تم پڑھتے کیوں نہیں ہو۔ صاب میرے پاس کتاب خریدنے پیسے نہیں ہیں۔ مجھے پڑھنے کا شوق ہے اور سچ بہت شوق ہے۔ صاب ہم سچ مچ گھر کے تین فرد ہیں میرا باپ دمے کا مریض ہے۔ ماں بیمار ہوئی وہ مر گئی۔ بہن لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھتی ہے۔ بڑے لوگ پیسے کم دیتے ہیں گھر کا نظام چلنا مشکل ہے میں کچھ کمانے لگا ہوں تو باپ کی دوائی اور گھر کا نظام چلتا ہے۔

صاب میں اپنی چیزیں فروخت کرنے سکول جاتا تھا ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنے بچے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ماں کہتی ہوتی تھی بچے سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ میرے پاس کتابیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ میری بہن نے گھر کے قریب ایک سکول میں بات کی ہے وہاں پڑھوں گا۔ تھوڑے پیسے بچا کر تین کتابیں خرید لی ہیں۔ محنت کروں گا وظیفہ حاصل کروں گا اور پڑھوں گا۔

جب بچہ مجھ سے باتیں کر رہا تھا تو مجھے لیو ٹالسٹائی کا جملہ یاد آیا جو اس نے اپنے ناول ”اینینا کرینینا“ میں لکھا ہے کہ ہر سکھی گھر ایک جیسا ہوتا ہے لیکن ہر دکھی گھر کی کہانی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔

بچے کی باتیں غور سے سن رہا تھا کہ ایک لگژری گاڑی سے فیملی اتری۔ دو بچے بھی ساتھ تھے جنھوں نے اترتے ساتھ ہی ملازم سے اٹکھیلیاں کرنا شروع کر دی۔ پنج سورۃ فروخت کرنے والا بچہ بھاگ کر ان کے پاس پہنچا صاب سورۃ یاسین لے لیں۔ پنج سورۃ لے لیں۔ صاب نے منہ ہی منہ میں کچھ کہا اور جیب سے کچھ ریزگاری نکال کر بچے کو دینے لگے۔ صاب میں بھیک نہیں مانگتا۔ مجھ سے کچھ خرید لیں۔ بچہ پلٹ کر میرے پاس آیا بولا صاب مجھے سو روپے بھیک میں دے رہے تھے میں نے نہیں لیے انھوں نے پچاس روپے کی سورۃ یاسین لے لی۔

ابھی چند دن قبل حکومت نے اعلان کیا کہ ہماری معیشت فروغ پذیر ہے گروتھ ریٹ بڑھ گیا ہے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مہنگائی ضرور ہوئی ہے مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ لوگوں کی قوت خرید بھی بڑھ گئی ہے۔ اگر حکومت کے دعووں میں رتی برابر سچائی ہوتی تو ہر چوک چوراہوں، ڈھابوں میں لوگ مہنگائی کا رونا نہ رو رہے ہوں۔ چائے خانوں میں بیٹھے عام لوگ حکمرانوں کو غلیظ گالیوں سے نواز رہے ہوتے ہیں۔

لوگ خود کو کوس رہے ہیں کہ ”تبدیلی سرکار“ کو ووٹ کیوں دیا تھا؟ حکومت پر سے عوام کا اعتماد تیزی سے اٹھ رہا ہے۔ حکومت کو سب سے پہلے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہیے۔ مہنگائی کے جن کو قابو کرنا ہو گا عوام کی قوت خرید کو حقیقی معنوں میں بڑھانا ہو گا۔ بنیادی انسانی حقوق بحال کرنا ہوں گے بار دیگر حکمران ماضی کی داستان بن جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 138 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *