تنہا رہنے والے افراد نارمل انسان ہوتے ہیں
ہم ایک روایتی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاندان کا تصور محض ایک کپل اور اس کے بچوں کی بجائے تین نسلوں کو ایک ہی جگہ پہ رہتے ہوئے تصور کرنا ہے۔ یہ ہماری خوشگوار زندگی کا ایک آئیڈیل ہے جس میں جوائنٹ فیملی سسٹم میں سب ساتھ رہ رہے ہوں۔ اگرچہ یہ خاندانی نظام انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا اسے اتنے رشتوں میں بانٹ دیتا ہے کہ اپنی ذات کھو جاتی ہے۔ اور ذاتی زندگی میں رشتہ داروں کی بے جا مداخلت اس کا ایک اور سیاہ ترین پہلو ہے۔ اس کے باوجود کہ ہم اس سے نالاں ہیں اور ہر کوئی اس سے جان چھڑوانا چاہتا ہے ایک قدامت پسند سماج کی وجہ سے ہم نہ صرف اسے بظاہر سراہتے ہیں بلکہ اس سیٹ اپ میں خوش رہنے کی ایکٹنگ بھی کرتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ جہاں شعور بڑھ رہا ہے وہاں اپنی تعلیمی یا پیشہ ورانہ مجبوریوں کی وجہ سے افراد کو دوسرے علاقوں میں منتقل بھی ہونا پڑ رہا ہے۔ اپنی اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے کسی ایک بیٹے یا بیٹی کے ساتھ پورا خاندان دوسرے شہر میں منتقل نہیں ہو سکتا تو تنہا رہنے کا رجحان بھی وجود میں آیا ہے۔ اب بہت سے افراد خواہ وہ مرد ہوں یا خواتین اکیلے رہتے ہیں۔ لیکن سماج کی پروردہ سوچ ان کے لیے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اس میں سماجی مسائل بھی ہیں اور جذباتی اور نفسیاتی مسائل بھی۔
سب سے پہلے سماجی مسائل کی طرف آتے ہیں۔ اکیلے مرد یا عورت کا وجود اس سماج کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کہ ایسا ممکن ہی کیوں ہے کہ کوئی اکیلا بھر پور زندگی گزار رہا ہو۔ گھر لینے سے لے کر، دوستوں کے سرکل میں یا کام کی جگہ پہ یہ بات باعث حیرت اور شکوک و شبہات کا باعث ہوتی ہے کہ کیوں آخر کیونکر کہ ایک انسان اکیلا رہتا ہے۔ اسے ایکسپٹ کرنا جان جوکھوں کا کام لگتا ہے۔ اس پہ عجیب عجیب سوالات۔ اور مفت کے مشورے الگ طرح کا درد سر ہوتے ہیں۔
ایسی ایسی باتیں کہ سن کے مشورہ دینے والے کو کہنے کا دل چاہتا ہے کہ بھائی کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرو تو بہتر ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی چیز خریدی جا رہی ہو تو سننے کو ملے گا آپ تو سنگل بندے یا بندی ہیں تو اتنی چیزوں کی کیا ضرورت۔ بندہ پوچھے کیا سنگل لوگ کھاتے نہیں، پیتے نہیں، کپڑا نہیں پہنتے، آپ منہ سے کھانا کھاتے ہیں وہ ناک سے یا ان کے سینگ ہوتے ہیں جو آپ کے نہیں ہیں یا پھر دم ہوتی ہے جو انہیں آپ سے منفرد کرتی ہے۔ چلیں یہ بات تو انسان ہنس کے اگنور کر دیتا ہے پھر ایسے احمقانہ سوالات کیے جاتے ہیں کہ اپنا سر پیٹنے کی بجائے پوچھنے والے کا سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔
جیسا کہ آپ کی ایکٹیوٹی کیا ہوتی ہے۔ جیسے خود کام کے بعد گھر والوں کے ساتھ چھم چھم کھیلتے ہوں، ہھائی آپ کے گھر میں سب کچھ ہے گویا پہلے آپ سے بھیک مانگی ہو۔ ارے واہ مکمل پورشن ہے گویا پہلے آپ کسی جھونپڑی میں رہتے ہوں۔ پھر سوال ہو گا کیا لوکیشن ہے، کتنے میں لیا، ایریا کتنا ہے جیسے خرچہ اٹھانا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ کہاں پیدا ہو گیا۔ اور کیوں آخر کیوں؟
پھر بات آتی ہے زہریلی قسم کی ہمدردی کی، پوچھا جائے گا دل نہیں گھبراتا اکیلے میں، تمہیں کچھ ہو گیا تو، کسی کو ساتھ رکھ لو، یار ایسے اکیلے میں تو بہت برے برے خیالات آتے ہیں تو ڈئیر کنسرن! جو آزاد خود مختار زندگی گزار رہا ہے اسے سب مینیج کرنا آتا ہے اور اسے آپ کے سوالات کے پیچھے چھپی حسرت بھی نظر آ رہی ہوتی ہے کہ اے کاش ہمیں بھی یہ آزادی میسر ہوتی اور اس کی دماغی حالات بھی آپ سے بہتر اور مضبوط ہے ورنہ ان حماقتوں پہ منہ توڑنا بنتا ہے کہ آپ نے اتنا تک نہیں سیکھا کہ اپنے کام سے کام کیسے رکھتے ہیں۔ دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرتے اور اگر آپ سے مداخلت والا کیڑا برداشت نہیں ہو رہا تو اس کے علاج کے لیے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرتے ہیں۔
پھر ایک ذہنی اذیت جو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جس اکیلے رہ رہے ہیں ان کے پاس بے تحاشا فرصت ہے اور ان کی کوئی ذاتی زندگی نہیں اس لیے جب دل چاہے انہیں ملنے کا کہا جا سکتا ہے اور انکار پہ سنایا جا سکتا ہے کہ تم نے کیا کرنا کون سے کام؟ یا پھر جب دل چاہے ان کے سر پہ دھماکہ کیا جا سکتا ہے بنا پوچھے یا طریقے سے پوچھ کے ان کے سر پہ آ دھمکا جا سکتا ہے۔ یہ ایک عجیب قسم کی صورت حال ہوتی ہے جس میں نہ انسان سمجھا سکتا ہے کہ اس کی اپنی کوئی مصروفیت ہے، رہن سہن کا طریقہ ہے نہ ہی وضع داری میں کھل کے ناپسندیدگی کا اظہار کر سکتا ہے نتیجہ ذہنی کوفت۔
پھر ان افراد کے تعلق یا رشتے کی بھی بڑی فکر ہوتی ہے بغیر کہے مشورے شروع کہ شادی کر لو، دوستی کر لو، تعلق بنا لو، بھئی آپ کو کس نے کہا کہ آپ رشتہ ماسی یا انکل بن کے یہ فکر کریں۔ آپ ان کے رشتے ڈھونڈیں ساتھی تلاشتے پھریں۔ وہ آپ سے زیادہ اس بات کو سمجھتے ہیں کیونکہ آپ نے کہیں نہ کہیں سماجی دباؤ میں فیصلہ لیا ہوتا ہے وہ اس سماجی دباؤ کا جم کے سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر انہیں آسان ہدف بھی سمجھا جاتا ہے خاص طور پہ خواتین کو کہ جب دل چاہے منہ اٹھا کے ان سے ملا جا سکتا ہے یا ڈورے ڈالے جا سکتے ہیں، بھئی جو بندی آپ کے پدر سری سماج میں دھڑلے سے رہ رہی ہے وہ آپ جیسے ٹھرکیوں کی نبضیں بھی خوب سمجھتی ہے اور طبعیت صاف کرنا بھی جانتی ہے۔
بات درست ہے ہماری تربیت ایسی ہوئی ہے کہ اس سے مکمل طور پہ سے نکلا نہیں جا سکتا۔ ڈی لرن کرنے کا عمل بہت مشکل ہوتا ہے لیکن آپ کو کوشش کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ پہلی بات اگر آپ اپنے اردگرد یہ رجحان فروغ پاتا دیکھ رہے ہیں تو اسے قبول کریں، دوسری بات ان لوگوں کو سپیس دیں جو آزادی اور خودمختاری کی زندگی گزار رہے ہیں، تیسری بات اپنی ٹانگ اپنے تک محدود رکھیں دوسروں کے معاملات میں نہ گھسائیں آخری بات آپ خود کو سمجھیں جو حسرتیں رہ گئی انہیں پورا کریں بجائے اس کے کہ خود ترسی کا شکار ہو کے دوسروں کی زندگی کو تکلیف دہ بنائیں۔ یہ سمجھیں کہ زندگی کو آپ سے ہٹ کے مختلف پیرائے میں جینے والے بھی بالکل نارمل انسان ہوتے ہیں۔ وہ عجوبے نہیں ہوتے کہ آپ ان کے متعلق اتنا تجسس رکھیں یا الٹے سیدھے سوالات کریں۔


