ہنی بال کے ہاتھی ہی اچھے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اطالیہ میں فیشن کے مرکز اور معروف شہر میلان سے روانہ ہو کر جب سوئیٹزر لینڈ کی سرحد عبور کی تو میرے ہمراہی فطری حسن کو دیکھ دیکھ کر مسحور ہوتے ہوئے ایلپس کی برف پوش چوٹیوں، پہاڑوں کے پہلووں کو ڈھانپے ہوئے سرو و شمشاد کے درختوں، چٹانوں کے بطن سے پھوٹتے ہوئے چشموں، سینکڑوں میٹر بلند سنگی چٹانوں سے نیچے بہتی ہوئی آبشاروں، زمردیں جھیلوں اور ڈھلانوں پہ سجے انگور کے باغوں پر تبصرے کر رہے تھے لیکن میں اداس تھا کیونکہ مجھے بالکل ہی دوسری چیزیں حیران و پریشان کر رہی تھیں جو حسن فطرت سے حظ اٹھانے کو عام کرنے کی خاطر اس ملک کے انسانوں کے فن، محنت، حب الوطنی اور اخوت کی گواہی تھیں یعنی کلومیٹرز لمبی روشن اور ہوا دار سرنگیں، بہترین سڑکیں، مسافروں اور سیاحوں کی تفریح و آرام کی خاطر تعمیر اور مجہز کیے ہوئے مستقر، پہاڑی علاقوں میں بسنے والوں کے لیے شہروں جیسے انصرام، ویسے ہی جدید گھر اور شادمانی کے انتظام، لوگوں کے ابدان پہ اچھے ملبوسات اور ان کے چہروں پہ طمانیت۔ فطری حسن کی ہمارے ملک کے شمالی علاقوں میں کون سی کمی ہے، کمی ہے تو انسانوں کی محنت، صناعی، حب الوطنی اور اخوت کی بنا پر کیے گئے کاموں کی۔

ایسے میں جب گائیڈ خاتون ایلیسا (ایلس) نے بتایا کہ کہا جاتا ہے ”ہنی بال“ نے اپنے ہاتھیوں کے ساتھ یہ پہاڑ عبور کیے تھے، تو مجھے نہ جانے کیوں لگا کہ ”ہم سے تو ہنی بال کے ہاتھی ہی اچھے تھے جو برصغیر سے ترک وطنی کر کے یہاں پہنچ گئے تھے، چاہے موسم کی تاب نہ لاتے ہوئے مر ہی کیوں نہ گئے ہوں۔“

اٹلی کے شہر میلان اور سوئیٹزر لینڈ کے سب سے بڑے شہر زیورچ کے درمیان، جس کی کل آبادی نو لاکھ ہے، صرف پانچ ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل ایک آزاد ریاست لیچٹن سٹائن آتی ہے، جہاں سیاحوں کی بسیں خصوصی طور پر رکتی ہیں تاکہ لوگ استراحت کر لیں اور چاہیں تو خریداری بھی۔ مجھے وہاں ہندوستانی سیاحوں سے بھری ایک بس سے باہر تصویریں کھینچتے ہوئے ایک سردار جی دکھائی دے گئے۔ علیک سلیک کے بعد ان کا پہلا فقرہ یہ تھا، ”مجھے تو یہ دیکھ کر غصہ آ رہا ہے کہ ہمارے لوگ سب کچھ ایسے کیوں نہیں کر سکتے جیسے یہاں ہوا ہوا ہے، سڑک دیکھو یا چوک کا فرش، سب کچھ ایسے ہے جیسے جوہریوں نے آنک آنک کر بنایا ہو، جب کہ ہمارے لوگ یہاں کے لوگوں سے زیادہ جان توڑ محنت کرنے والے اور بہتر کاریگر ہیں۔“ میں کیا جواب دیتا بس یہی کہہ کر چپ ہو رہا تھا، ”سردار جی، بس ایسا ہی ہے، کیا کریں؟“

سوئیٹزر لینڈ کا دارالحکومت شہر ”برن“ ہے۔ یقین نہ آئے تو انٹرنیٹ پہ دیکھ لیجیے کہ یہاں کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ زیادہ نفوس پر مشتمل ہے اور یہاں دسیوں عجائب گھر اور دسیوں لائیبریریاں ہیں۔ پارک اور بازار اپنی جگہ۔ یونیورسٹی کا معیار پرانے وقتوں سے اتنا بلند کہ آئین سٹائن بھی یہاں ملازمت حاصل نہ کر پائے تھے اور برن کے ”پیٹنٹ آفس“ میں کلرک کی نوکری کر لی تھی۔ برن میں رہنے کے لیے اگر مجھے بھی کلرکی کرنی پڑ جائے تو سودا برا نہیں ہوگا۔

اس کے برعکس میری جنم بھومی علی پور ضلع مظفر گڑھ کی آبادی چار لاکھ سے کچھ زیادہ ہوگی۔ یہاں ایک ہی میونسپل لائیبریری ہے، جہاں شاید ہی کوئی کبھی جاتا ہو۔ موٹر سائیکلوں کی ہڑ بونگ، لوگوں کی توتکار اور شام سات بجے کے بعد ذیلی سڑکوں پہ جانے سے خوف کھانے کے علاوہ، وہاں اور ہے کیا؟ لوگوں کو دیکھو تو بنا کچھ ہونے کے ویسے ہی اینڈ رہے ہوتے ہیں۔ علی پور جیسے قصبات پورے ملک میں اگر ہزار نہیں تو سینکڑوں ضرور ہوں گے۔

سات روز کے بعد لوٹا تو پاکستان کے اخبارات سے رجوع کیا۔ سلنڈر کے پھٹنے سے سکول کے بچوں کی پک اپ میں آگ لگنے کے باعث استاد سمیت انیس بچوں کی موت اور مرضی کی شادی کرنے والے جوڑے کو سمن آباد میں سرعام قتل کرنے کے سے متعلق خبریں پڑھیں تو سوچ نے ایک بار پھر سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت شہر برن جو دراصل ”بیئرن“ یعنی ”ریچھوں کی کچھار“ ہے، کا رخ کر لیا۔ ہمارا گائیڈ بتا رہا تھا کہ آج ورکنگ ڈے ہے۔ ہم پارلیمنٹ کی جانب جا رہے ہیں جہاں ممکن ہے آپ کی ملاقات کسی وزیر یا شاید صدر مملکت سے بھی سڑک پہ ہو جائے۔

ہماری حیرت کو کم کرنے کی خاطر اس نے کہا، ”میں فی الواقعی سچ کہہ رہا ہوں۔ ایک بار میں اپنی سائیکل کو محفوظ رکھنے کے لیے زنجیر باندھ رہا تھا، تو میرے قریب سے گزرتے ہوئے سوئٹزر لینڈ کے صدر نے کہا، سائیکل کو احتیاط سے مقفل کرنا ( وہاں آپ زر ضمانت رکھ کر دن بھر کے لیے مفت سائیکل لے سکتے ہیں، نوجوان شغلا“ غیر محفوظ سائیکل کو اڑا لیتے ہیں۔ سیر کر کے اسے کہیں اور جا کھڑا کرتے ہیں۔ چوری کا تصور نہیں ہے ) ، تو میں نے کہا، ”جناب صدر! میں آپ کے ساتھ تصویر بنا سکتا ہوں۔“ انہوں نے جواب دیا، ”کیوں نہیں!“ گائیڈ بتاتا ہے کہ میں نے جب اپنی ماں کو ارکتسک سائبیریا میں ایس ایم ایس کیا کہ میری آج صدر سے ملاقات ہوئی تو وہ بیچاری پریشان ہو گئی تھی کہ نہ جانے مجھ پر کیا افتاد پڑی ہے کہ مجھے صدر سے ملنا پڑ گیا۔

سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ 27 افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ کابینہ کے اراکین کی تعداد 7 ہوتی ہے، جن میں ہر سال کوئی ایک صدر ہوتا ہے۔ دو بار یا تین بار بھی صدر بنا جا سکتا ہے لیکن مسلسل نہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں جس فریق کو پھر سے اقتدار نہ ملے تو ان کے اراکین کے چہرے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور جن کو اقتدار مل جائے ان کی طمانیت کا عالم نعروں اور ہلڑ بازی کے ذریعے مد مقابل فریق کو بے سکون کر دینے پر مبنی ہوتا ہے۔

تھے نہ ہنی بال کے ہاتھی ہم سے اچھے جو کوہ ایلپس عبور کر کے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے تھے اور ان میں شاید کچھ یا سارے مر بھی گئے ہوں جن کی لاشوں کی مٹی اب ”آبشار رہائن“ ، جو یورپ کی سب سے بڑی اور حیران کن آبشار ہے، سے گرنے والے پانی کے ساتھ کہیں دور چلی گئی ہو، ممکن ہے بحیرہ ایڈریاٹک کی تہہ میں۔ تو کیا ہوا۔ اچھے تو رہے ناں، مرنا تو سبھی کو ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *