گالی صرف خواتین کی ہی کیوں ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کچھ دنوں پہلے سڑک سے گزرا تو چند دو ہٹے کٹے مردوں میں لڑائی ہو رہی تھی، دونوں کی عمریں چالیس پچاس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ شاید گاڑی والے نے بائیک کو ہلکا سا ٹھوک دیا تھا اور یہ ہی وجہ پھڈے کی بنی۔ وہ دونوں لڑائی شدگان تھوڑے فاصلے پر کھڑے تھے اور ایک دوسروں پر گالیوں سے حملے کر رہے تھے۔ انواع و اقسام کی گالیاں دونوں جانب سے جاری تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسروں کو تھوڑی ہی دیر میں قتل کردیں گے مگر ایسا تو نہ ہوا البتہ 5، 6 منٹس تک گالیوں کی بارش ہوتی رہی۔ عوام بھی انتظار میں موبائل کیمرا لئے ویڈیو بنانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔

جب دونوں نے اک دوسرے کو درجنوں گالیاں دے دی تو لوگوں نے آ کر بیچ بچاؤ کرایا اور پھر دونوں واپسی اپنی سواری کی جانب ہو لیے۔ ہم جو لڑائی کے تماشا کا انتظار کر رہے تھے ہمیں تو دھوکا ہو گیا۔ لیکن گالیاں ذہن نشین ہو گئی، ذہن پر زور دینے پر پتا چلا کہ بکی جانے والی گالیوں میں 90 فیصد خواتین پر محیط تھی۔ دماغ وہیں رک گیا کہ یہ کیا حرکت ہے لڑائی مردوں کی اور ذکر گھر کی عورتوں کا وہ بھی اتنے گندے لفظوں میں۔ میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ گالی صرف عورتوں کی کیوں ہوتی ہے؟ مردوں کی گالی کیوں نہیں ہوتیں بھلا؟

مردوں کی لڑائی، غلطی بھی مردوں کی، لیکن گالیاں عورتوں کو کیوں؟ یہ سوال اب تک میرے ذہن میں گھوم رہا ہے لیکن مجھے جواب نہیں مل رہا۔ ایک تو گالی ہمارے معاشرے میں بالکل عام سی بات ہو گئی ہے روز مرہ زندگی میں گالی یعنی مغلظات کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے اور ان مغلظات میں ماں، بہن کا گھٹیا لفظوں کے ساتھ ذکر کرنا بھی بالکل معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ سوال میرا یہ ہے کہ گالی خواتین سے متعلق کیوں ہوتی ہے؟ آخر گالی میں مردوں کا ذکر کیوں نہیں ہو سکتا۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ خواتین گھر کی عزت ہوتی ہیں اس لئے سامنے والے کو مشتعل کرنے کے لئے اس کی عزت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مگر میرا سوال یہ ہے کہ گھر کے مرد کی بھی تو عزت ہوتی ہے نہ تو آخر کیوں باپ کا ذکر نہیں ہوتا یا بھائی کا ذکر نہیں ہوتا۔ لیکن اس کا جواب مجھے آج تک نہیں مل پایا۔ اب غور کریں جو اس طرح کی گالی دیتا ہے یا گالی سنتا ہے وہ بھی پلٹ کر وہ ہی گالی دیتا ہے۔ مطلب ہمیں اگر معلوم ہے کہ وہ بھی گالی پلٹ کر دے گا تو آپ کی عزت پر بھی تو آنچ آئے گی، اب نہ آپ

وہ گالی دیجئے نہ سامنے والا پلٹ کر آپ کو دے گا۔ لیکن سوال اب تک وہ ہی ہے کہ آخر صرف خواتین سے متعلق ہی کیوں گالی ہوتی ہے؟

میں نے بہت کوشش کی اس بات کو سمجھنے کی مگر اب تک میں یہ بات سمجھ نہیں پایا۔ میں نے ان لوگوں سے بھی پوچھا جو اس طرح کی گالیاں دیتے ہیں مگر انھوں نے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔ میں نے اہل نظر اور اہل فکر لوگوں سے بھی پوچھا تو ان کے جواب بھی مجھے تسلی نہ دے پائیں۔ ایک تو گالی اور وہ بھی صنف نازک سے متعلق اور دینے والا مرد۔ یعنی مضبوط مرد اور گالی خواتین کی۔ گالی دینے والا مرد اور جس کو دی جائے وہ بھی مرد مگر گالی خواتین سے متعلق۔

بھئی ایک طرف اپنے گھر کی خواتین کی عزت پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے دوسری جانب دوسرے گھر کی خواتین کے بارے میں مغلظات بکتے ہیں اب وہ پلٹ کر دے گا تو کیا عزت رہ جانی ہے؟ بہرحال سب سے پہلے تو ان گالیوں سے پرہیز کریں اور اگر دینا بہت ضروری ہے تو کم سے کم مخالف صنف کا ذکر تو نہ لائے۔ کیونکہ اخلاقی طور پر یہ مردانگی نہیں کیونکہ مردوں کی لڑائی میں عورت کیوں؟ اور دوسری یہ ہے کہ یہ عورتیں کسی گھر کی بھی ہو قابل عزت و احترام ہوتی ہیں اور اگر آپ عزت دیں گے تو پلٹ کر آپ کے گھر والوں کو بھی ملیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *