مرسوں مرسوں کراچی نہ ڈیسوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ سالوں پہلے سندھ کے بادشاہوں نے ایک نعرہ لگایا تھا ”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“ اب اس کا نیا ورژن جاری ہو چکا ہے۔ بظاہر نعرہ تو نہیں لگایا گیا مگر حالات اور واقعات کے مطابق اب یہی نعرہ بنتا ہے ”مرسوں مرسوں کراچی نہ ڈیسوں“ ۔

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال، مہاجر قومی موؤمنٹ کے آفاق احمد اور پھر متحدہ قومی موؤمنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے دھواں دھار اور الزامات سے بھرپور پریس کانفرنسز نے مبہم ہی سہی، ایک منزل کا اشارہ ضرور دے دیا ہے۔

اب پھر سے مہاجر کارڈ کھیلنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ مہاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے اندرون خانہ بہت سی ملاقات بھی ہو چکی ہیں۔ مقتدر حلقوں کی جانب سے کئی ناموں پر غور ہو رہا ہے۔ الائنس کی شکل میں ایک نیا اتحاد کراچی اور حیدرآباد کے مظلوم عوام کو سندھ کے بادشاہوں سے آزادی دلوانے کے لئے متحرک ہونے والا ہے۔ پرانے چہرے تھنک ٹینک کا کردار جبکہ نئے چہروں کو سامنے لایا جائے گا۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی حیدرآباد کے ساتھ ظالمانہ سلوک کے باعث اب صبر کی تمام حدیں پار ہو چکی ہیں۔ عوام میں شدید غم و غصہ کی کیفیت ہے۔ جو کسی بھی وقت لاوے کی سلوک میں پھٹ سکتی ہے۔ کاروبار پر سوگ کی کیفیت برقرار رہے۔ نان شبینہ کے لئے محتاج عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مگر مافیاز کی جانب سے شہریوں کو لوٹنے کا سلسلہ بدستور پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ حکومت اور شہری حکومتیں بے بس ہیں اور تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

پہلے صرف کے الیکٹرک کی صورت میں مافیا مسلط تھا، اس کے بعد دودھ مافیا، مرغی اور گوشت فروش اور ذخیرہ اندوزوں نے بھی اپنے اپنے مافیاز کو طاقتور بنالیا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں سرکاری نرخ سے دو گنا اضافے کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں، ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، ایک دو جرمانے کر کے کمشنر صاحب ائرکنڈیشنڈ روم میں بیٹھ کر پریس ریلیز جاری کر دیتے ہیں۔ ڈھائی کروڑ کے شہر کو پہلے ہی ڈیڑھ کروڑ بنا دیا، وسائل کی کٹوتی کردی مگر ”جگا ٹیکس“ سود سمیت وصول کیا جا رہا ہے۔

کہنے کو تو یہ بڑا آسان ہے کہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے، منی پاکستان ہے، معاشی حب ہے اور پتہ نہیں کیا کیا اس شہر لاوارث کے لئے القابات بیان کیے جاتے ہیں مگر حقیقتاً اس کے لئے کوئی بھی ایک لقب پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ہر کوئی اس کو فتح کرنے کے خواب سجائے آتا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت کراچی کو عضو معطل سمجھتی ہے تو شہری حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کی نا اتفاقیوں کے باعث قائد کا شہر تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ سڑکوں کو نظام بوسیدہ ہو چکا ہے تو انگریز دور کا نکاسی آب کا نظام کو مردہ ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں۔

واٹر بورڈ کی نا اہلی کے باعث ہائیڈرنٹ مافیا نے ظلم کی انتہا کردی ہے۔ اگر صورتحال مزید اسی طرح برقرار رہی تو کچھ سالوں میں یہ معاشی حب کسی دور افتادہ گاؤں دیہات کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آئے گا۔ جس شہر کے لئے پوری دنیا میں مثالیں دی جاتی ہیں وہ اب اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے۔ جس کی سڑکیں صاف شفاف ہوتی ہیں، اب ٹوٹی پھوٹی، اور گندے پانی کے جوہڑ میں بدل چکی ہیں۔ جسے معاشی حب کہہ کر صنعتوں کا جال بچھایا گیا تھا، اب صنعتیں کھنڈر ہو رہی ہیں۔

ان سب مظالم کے باوجود ایک باپ کی طرح کراچی آج بھی پورے پاکستان کو پال رہا ہے۔ اس باپ طرح جو کڑی دھوپ میں مشقت کرتا ہے، اپنے لئے کچھ نہیں خرچ کرتا، بچوں کے لئے لے کر جاتا ہے۔ اس باپ کی طرح جس کے ہاتھوں اور پیروں پر چھالے پڑ گئے ہیں مگر اپنے کی ہر خواہش کو پورا کرتا ہے۔ اور پھر جب وہی بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو اس باپ کی دمڑی بھی کھینچ لیتے ہیں۔ کراچی کی مثال آج ایسی ہی ہے۔ جس پر پورے ملک سے ذریعہ معاش اور لنگر و خیرات اور بھیک مانگ کر گزارا کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ کراچی کی آبادی اگر حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بھی مان لی جائے تو اس میں سے 30 فیصد اب غیر مقامی ہیں۔ جو صرف اور صرف روزگار کے لئے یا خیرات کے حصول کے لئے اس شہر کے مکین بنے ہوئے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن کو پال رہا ہے وہی اس کے پر نوچ رہے ہیں۔

نوچنے سے یاد آیا، وطن عزیز کے قیام سے لے کر اب تک ضمیر فروشوں، لٹیروں کی ایک پوری فوج موجود ہے، جنہیں صرف اور صرف غرض ہے تو جائیداد بنانے کی، عیاشیاں کرنے کی، عوام کو غلام سمجھ کر ان پر حکمرانی کرنے کی، وہ اس ملک کو 75 سال سے نوچ ہی رہے ہیں اور ان سب کا پہلا نشانہ کراچی ہی رہا ہے۔ دارالحکومت کی منتقل سے لے کر کاروباری مراکز کو یہاں سے لے جانے تک، سب نے اس کو لوٹا۔

منگولوں نے جب ایشیاء میں مکمل تباہی پھیلا دی، کسی جسم پر سر نہیں رہنے دیا، کوئی املاک باقی نہیں چھوڑی تو انہیں احساس ہوا کہ اگر ہم سب کو مارتے ہی رہے تو پھر ہم حکمرانی کس پر کریں گے، انہوں نے پینترا بدلا اور محصولات (ٹیکس) وصول کرنے لگ گئے۔ کئی کئی گنا محصول عائد کیا، لیکن بے بس و مجبور عوام کے پاس اس عذاب کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اسی طرح کراچی سے بھی صرف محصولات ہی جمع کیے جا رہے ہیں، اور آج کے منگولوں نے بھی ظلم کی انتہاء کی ہوئی ہے۔ مافیا، ڈاکوؤں، ضمیر و ایمان فروشوں کو ساتھ ملا کر اس شہر کے باسیوں پر زندگی اجیرن کردی ہے۔

چودھری اعتزاز احسن نے کہا تھا ”ریاست ہوگی ماں کے جیسی!“ حقیقتاً ریاست ہوتی ہی ماں کی طرح ہے۔ جو اپنے دامن میں لاکھوں دکھوں، غموں، تکلیفوں، پریشانیوں کو چھپا کر اپنے بچوں کو سایہ فراہم کرتی ہے۔ خود تکلیف سہ کر بچے کی درماں بنتی ہے۔

اور جب بچوں کو سکون اور آرام میسر نہ ہو سکے، رہزنوں کی بھرمار ہو جائے، عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ نہ ہوں۔ تنگ دستی اور تنگ حالی کا دور دورہ ہو۔ بد عنوانیت کا راج ہو۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق جنگل کا قانون نافذ ہو، جو صرف غریبوں کے لئے ہو۔ غریب امیر کی جوتیوں کی نوک پر ہو۔ دو وقت کی روٹی کے لئے محتاج ہو۔ تو سمجھ لینا چائے ماں مر چکی ہے۔ اور اب سوتیلی ماں کا راج ہے۔

وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ تاریک اندھیرے کے بعد روشنی کی کرنیں ضرور پھوٹتی ہیں۔ عروج کے بعد زوال آتا ہے، اور زوال کے بعد عروج۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ ایسے بھی کئی لوگ تھے جو اپنے آپ کو وقت کا فرعون سمجھتے تھے، ان کا انجام کیا ہوا سب کے سامنے ہے، مر ایسے گئے جیسے کبھی زندہ تھے ہی نہیں۔

ریاست اگر اپنے فرائض پورے کرنے میں ناکام رہے گی، عوام کی ضرورتوں اور انسانی بنیادی حقوق سے احتراز کرے گی، ظلم و ستم، نا انصافی، لاقانونیت پر قابو نہیں پائے گی، غریب کی عزت و آبرو کی اس کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہوگی، امراء اور اشرافیہ کے نزدیک غریب کیڑے مکوڑے ہوں گے، تعلیم اور شعور کی روشنیاں نہیں پھیلائی جائے گی تو یاد رکھیں ظلم کی اندھیری رات کبھی نہ کبھی تو ختم ضرور ہوگی۔ اور پھر جب آفتاب اپنی ضیاء پاشیاں پھیلائے گا تو پھر ہر سو اجالا ہی اجالا ہوگا۔ پھر ظالموں کے لئے اندھیری راتیں شروع ہوں گی، جس سے نکلنا ناممکن ہوگا۔

ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
(ساحرؔ لدھیانوی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *