مسجد اقصیٰ کے متولی کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسجد اقصیٰ کس کی ملکیت ہے؟ پہلے تو اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ اسلام میں مسجد کی انسان کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی راہ میں وقف ہوتی ہے۔ یہودی کہتے ہیں کہ یہ مسجد ہماری ہے اور ہم ہی اس کے وارث ہیں۔ اس کے حق میں ان کی سب سے قوی دلیل یہ ہے کہ یہ مسجد حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعمیر کی تھی۔ یہودی خود کو بنی اسرائیل کہتے ہیں اور قرآن مجید نے بھی انہیں اسی نام سے موسوم کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کی اولاد۔

اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے جو عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ اسرا کا مطلب بندہ جبکہ ایل، اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔ اس لحاظ سے اسرائیل کا مطلب اللہ کا بندہ ہوا۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی ہماری ملکیت ہے کیونکہ ہم حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ یہ مسجد ہمارے باپ نے بنائی تھی اور باپ کی وراثت اولاد ہی کا ورثہ ہوتی ہے۔

یہ وہ طریقہ استدلال ہے جو کچھ عرصے سے سر اٹھا رہا ہے اور آیا صوفیا کو بطور مسجد بحال کرنے پر بھی یہی استدلال سامنے آیا تھا جس کا شافی جواب ایک کالم میں دیا گیا۔ اسی طرح کا ایک اور استدلال پچھلے دنوں نظر سے گزرا جس میں ایک ہندو محقق نے لکھا کہ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو اس وقت بھی بیت اللہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے جس پر مسلمانوں کی مستند کتب گواہ ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیت اللہ کے متولی بھی بت پرست تھے اور ہندو بھی بت پرست ہیں تو کعبہ تولیت ہندوؤں کا حق ہے۔ اسی طرح کے دلائل کی بنیاد نے یہود نے یونیسکو میں بھی ایک کوشش کی جسے بالغ نظر افراد نے مسترد کر دیا اور یونیسکو نے مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی تولیت تسلیم کی۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت یعقوب علیہ السلام نے نہیں بلکہ حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی جیسا کہ حضرت ابوذر غفاری سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا : روئے زمین پر سب سے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسجد الحرام۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: مسجد الاقصیٰ۔ اگر مسجد اقصیٰ سب سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعمیر کی تھی تو اس ضمن میں چند ایک سوالات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

جبکہ حضرت یعقوب علیہ السلام مذہب یہودیت پر تھے تو کیا پوری دنیا میں یہود کی کوئی اور بھی عبادت گاہ موجود ہے جو مسجد اقصیٰ کی ہیئت پر موجود ہو؟ یہود کہتے ہیں کہ اسے متعدد بار گرایا گیا اور تعمیر کیا گیا تو ہر دور میں تعمیر کرنے والے نے اسے اپنی مرضی کی شکل دی۔ چلیں مان لیا لیکن پھر بھی سوال یہی پیدا ہوتا ہے جن لوگوں نے تعمیر کیا ہوگا وہ ہمدرد ہی ہوں گے کیونکہ اسے گرانے والے دشمن نے اسے اگر تعمیر ہی کرنا ہوتا تو گراتا کیوں تو وہ کیسا ہمدرد ہے جس نے طرز تعمیر کے معاملے میں یہودیوں کی ایک نہ سنی؟

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب یہ مسجد فتح ہوئی تو اس وقت یہ عیسائیوں کے زیر انتظام تھی۔ کیا اس پورے عرصے میں یہودیوں کے پاس کوئی ایک بھی شہادت ہے کہ انہوں نے عیسائیوں سے اس کی طرز تعمیر پر کوئی اعتراض کیا ہو کہ ان کی اہم مذہبی عبادت گاہ کا نقشہ کیونکر تبدیل کیا؟ مزید ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہود سمیت عیسائی اور مسلمان بھی اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انبیاء کا ایک نہ ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ منہ کر کے عبادت کیا کرتے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کی تو حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام بلکہ مزید آسانی کے لیے حضرت اسحاق یا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے تک جتنے بھی انبیاء بھی گزرے ہیں ان کا قبلہ کون سا تھا؟ وہ کس طرف منہ کر کے عبادت کیا کرتے تھے؟ کیا نبی اسرائیل سے پہلے وہ تمام اقوام جو کسی نہ کسی نبی پر ایمان لائیں، ان کا کوئی قبلہ نہیں تھا؟ اس کا مطلب ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی اور وہی ان کا قبلہ تھا۔

ان کے بعد جو نبی آیا مسجد اقصیٰ بحیثیت قبلہ اس کی تولیت میں رہی یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے متولی بنے اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ اگر مسجد اقصیٰ یہود کی وراثت ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے اپنا اپنا قبلہ تسلیم نہ کرتے جبکہ یہودی ان کے جانی دشمن بھی تھے اور یہی انبیاء کی سنت مبارکہ بھی ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ نے بھی کسی کی عبادت گاہ کو اپنے لیے مساجد میں تبدیل نہ کیا۔

یہی وجہ تھی کہ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر دعوت کے باوجود حضرت عمر ؓ نے کنیسہ میں نماز پڑھنے سے انکار کر دیا کہ طاقت کے زور پر عبادت گاہوں کو تبدیل کرنے کا رواج نہ پڑ جائے۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی۔ بلکہ نبی کریم ﷺ ایک عرصے تک مسجد اقصیٰ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حالانکہ اس وقت وہاں عیسائی قابض تھے اور مسجد اقصیٰ تقدیس کی بجائے تثلیث سے بھری ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ مسجد اقصیٰ ایک نبی سے دوسرے نبی کو بحیثیت قبلہ منتقل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسیٰ والی ہوئے اور ان کے بعد حضرت محمد ﷺ اور اب قیامت تک ان کے کلمہ گو اس کے متولی رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *