غزہ کے آنسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امن کے شہر کی شہزادی محبت کے سٹیشن پر اپنے شہزادے کی منتظر تھی۔

حال ہی میں ملائکہ اپنے من چاہے شخص کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک ہوئی تھی اس کے محبت کا ہر اسٹاپ پہلے اسٹاپ جیسا تھا اور کیوں نہ ہوتا آخر اس کی پہچان اب اس کا من چاہا شخص تھا۔

پہاڑوں سے عشق ملائکہ کی کمزوری تھی اور اس کی خاص وجہ اس کی محبت بھی تھی اونچی پہاڑی کی ٹاپ پر ایک چھوٹی سی جھونپڑی نما رہائش گاہ کی پری گلابی رنگ کی شوقین برستی بارش میں بلبل کی طرح چہکنے والی پری جو محض بارش اور آسمان کے رشتے پر رشک ہی نہیں کرتی تھی بلکہ ہر صبح و شام قدرت کے حسین مناظر سے گفتگو کرتی کتنی ہی دیر آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھتی اور کتنی ہی دیر آسمان سے گفتگو کرتی اس پری کی زندگی کی کوئی صبح سورج کے بغیر نہیں تھی اور نہ ہی رات چاند کے بغیر قدرت سے انتہائی گہرے تعلق کی وجہ سے طبیعت کی تھوڑی حساس تھی ملائکہ۔

اطہر اس کی زندگی میں آنے والا پہلا شخص نہیں تھی مگر محبت کے سٹیشن پر ملنے والا پہلا شخص تھا۔

اطہر سے ملاقات بھی پہاڑوں میں ہوئی تھی اور اطہر اس پری کو دیکھ کر اپنے دل کو محبت میں گرفتار ہونے سے روک نہیں سکا یہ وہ ہی لمحہ تسکین تھا جب بلبل کی طرح چہکتی پری سے اطہر نے اظہار وفا کیا اور ملائکہ کو لگا یہ ہی وہ شخص ہے جس کی عمر بھر منتظر رہی۔

اطہر اور ملائکہ ایک دوسرے کو شہزادے اور شہزادی کی طرح چاہنے لگے تھے اور ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے کے بعد اطہر گھر کا بادشاہ اور ملائکہ ملکہ سی۔

اطہر غزہ سے تعلق رکھتا تھا پہاڑوں کے شہر کی پری اطہر کے ساتھ بیاہ کروا کر غزہ شفٹ ہو چکی تھی کیوں کے ان کی محبت نے پہاڑوں پر جنم لیا تھا اور اس ہی وجہ سے پہاڑوں کو وہ محبت کے سٹیشن سے جانتے تھے ویسے تو ملائکہ اور اطہر غزہ ہی رہتے تھے مگر شادی کے چند روز بعد ہی ملائکہ امید سے تھی۔

محبت کرنے والے محبت کے سوا کسی بھی شہ کے واقف نہیں ہوتے ملائکہ اور اطہر بھی محبت اور سکوں کے سوا کسی بھی شہ کے واقف نہیں تھی مگر ایسا کیا تھا جو ان کی محبت میں آیا۔

کچھ غم دیمک کی طرح ہوتے ہیں آتے آتے بتاتے ہیں آہستہ آہستہ وار کرتے ہیں لیکن کچھ حادثات ایک ہی بار آپ کو غم سے نڈھال کر دیتے ہیں کس طرح آپ کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں آپ کا سکوں عذاب بن جاتا ہے غزہ شہر کی آگ میں لپٹنے کی خبر بھی ملائکہ کو جیتے جی مار دینے سے کم نہیں تھی

محبت حاصل کرتے وقت ہم محبت کے لاحاصل ہو جانے کو بھول جاتے ہیں ہم کبھی یاد نہیں رکھتے ہمارے ہاتھ آنے والا ہاتھ چھوٹ بھی سکتا ہے ہمارے حصے اگر خوشیاں ہیں تو غم بھی آ سکتے ہیں اور سکوں ہے تو بے سکونی بھی دنیا ہی میں ہے ہم کبھی یاد نہیں رکھتے زندگی کے بعد موت بھی ہے یہ محبت انسان کو بہت لالچی کر دیتی ہے۔

ملائکہ کے لیے غزہ کے شہر کی خبر درد ناک کیوں نہ ہوتی؟ اس کو یہ بھیانک خواب کیوں نہ لگتا؟
یہ محض خبر نہیں تھی!

یہ اس کی اور اطہر کی جدائی کا سبب تھی اطہر آخری سانس لے کر دم توڑ چکا تھا اور ملائکہ جب کے اتنا دور بیٹھی تھی کے اپنی محبت کی آخری رسومات بھی ادا نہ کر سکی۔

اور وہ محبت کا سٹیشن آج بھی ان کا منتظر تھا۔

ملائکہ ننھی چڑیا کے ساتھ جس کی چال ڈھال بالکل اپنے باپ اطہر جیسی تھی محبت کے سٹیشن بیٹھی اس کے ساتھ کھیل رہی تھی اور اس کی نگاہیں آج بھی اطہر کی منتظر تھی۔

محبت کے سٹیشن پر۔

Latest posts by مریم چودھری، لاہور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *