آزادی ملنے کے بعد بھی کیا ہم آزاد ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک گاؤں کے چوپال کے ساتھ درختوں میں گھرا ایک بڑا سا میدان تھا، بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مجمع جمع تھا اس مجمع میں درجنوں افراد کے ہاتھوں میں آتشیں اسلحہ تھا، زمین سے دو تین فٹ کی اونچائی پہ مٹی کی بھرائی کر کے ایک سٹیج بنایا گیا تھا اور اس اسٹیج پہ کھڑا ایک شخص گاؤں والوں سے مخاطب تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ”جب ایک مینڈک کو کھولتے ہوئے پانی کی کڑاہی میں ڈالیں گے تو وہ اچھل کر باہر آنے کی کوشش کرے گا، مگر جب آپ اسے نارمل پانی کی کڑاہی میں ڈال کر آہستہ آہستہ پانی کو گرم کریں گے تو مینڈک پانی کی گرماہٹ بڑھنے کے ساتھ اپنی جسمانی گرمی کو ایڈجسٹ کرنا شروع کر دے گا۔

آہستہ آہستہ پانی کی گرمائش بڑھتی جائے گی اور مینڈک اس کی گرمائش کے مطابق ایڈجسٹ کرتا جائے گا، لیکن جب پانی گرم ہو کر کھولنے لگے گا، اتنا کہ کچھ بھی کرلو کتنی ہی ایڈجسٹمنٹ کرلو اس کے اندر رہنا ناممکن ہو جائے گا تو مینڈک باہر نکلنے کی پوری کوشش کرے گا لیکن اس وقت تک وہ کڑاہی میں پانی کی گرمائش کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے دوران اپنی ساری توانائی، باہر نکلنے کے لیے درکار قوت کھو چکا ہوگا اور کڑاہی سے نکل نہیں پائے گا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دے گا، اب بتاؤ مینڈک کو کس نے مارا، کھولتے پانی نے، پانی کے برداشت سے باہر ہوتے ٹیمپریچر نے یا شروع میں مینڈک کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش نے۔

تینوں چیزیں مینڈک کی موت کی ذمے دار ہیں۔ آزادی کے بعد اس ملک کی اشرافیہ، اقتدار کا فیصلہ کرنے والی طاقتوں اور اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے ساتھ بھی مینڈکوں والا سلوک کیا۔ ہم پر حکومت کرنے والوں نے آہستہ آہستہ آگ بڑھا کر ہمیں کڑاہی سے نکلنے ہی نہیں دیا اور ہم بھی ایڈجسٹ کرتے چلے گئے کرتے چلے گئے یہاں تک کہ اب حالات اس نہج پہ آ پہنچے ہیں کہ ہماری عزت، خودداری، ہماری اظہار رائے کی آزادی، ہمارے بال بچوں کی روزی روٹی، ہماری عزت نفس، ہماری قوت برداشت ختم ہونے کو ہے اور ہم اب بھی کڑاہی سے باہر نکلنے کو تیار نہیں، اب تو باہر نکلو تم اشرف المخلوقات ہو مینڈک نہیں“

یہ بھاشن مجھے میرے ملک کی کہانی لگی حالانکہ یہ ایک ویب سیریز کا سین تھا جس میں طاقتوروں کے ہاتھوں نسلوں سے ظلم نا انصافی کا شکار ایک طبقہ اس طاقتور استحصالی طبقے کے خلاف اعلان جنگ کر رہا تھا۔ آج ارض پاک کے جو سیاسی، سماجی اور معاشی حالت ہیں وہ اس مینڈک کے مثال جیسے ہی ہیں، ہمیں بھی ہماری مقتدر قوتوں، ملک کی دونوں اسٹیبلشمنٹوں اور اقتدار اعلیٰ پہ قابض اشرافیہ نے مینڈک سمجھ کر چہتر سالوں سے کڑاہی میں ڈالا ہوا ہے اور آہستہ آہستہ کڑاہی کے نیچے آگ بھڑکاتے جا رہے ہیں اور ہم اس کی حدت کو برداشت کرتے چلے جا رہے ہیں اور ہم مینڈکوں کی طرح کڑاہی سے باہر نکلنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اپنی طاقت و توانائی کھو دینے کے باعث اب تک نکل نہیں پا رہے اور اب یہ گرماہٹ برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

اس دوران بیچ بیچ میں کچھ ایسے حاکم بھی آئے جو ہماری مشکلات اور ضروریات کو سمجھتے تھے، ہمارے واقفان حال تھے، انہوں نے بے زبانوں کو زبان دی، ان میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی جرئت پیدا کی، انہیں اپنے ساتھ ہونے والے مظالم، نا انصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کا حوصلہ عطا کیا، ان کے بنیادی انسانی شرعی حقوق کو آئینی شکل دے کر ملک میں رائج کیا مگر ان عظیم رہنماؤں نے بے بسوں، بے کسوں کی ترقی، مضبوطی اور استحکام کی کوششوں کی قیمت اپنی جانیں دے کرچکائی۔

آج پاکستان میں ایک بار پھر ان ہی طاقتوں کا نمائندہ جمہوریت کا چولا پہنے اقتدار کی کرسی پہ براجمان ہے، بظاہر ملک میں جمہوریت ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے، ملک میں تاریخ کا بدترین جبر ہے نا انصافی اور ظلم سرعام ہے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ملک کا آئین کہتا ہے کہ ریاست رعایا کو صحت، تعلیم انصاف سمیت ہر سہولت گھر کی دہلیز تک پہنچانے کی ذمے دار ہے، ریاست عوام کی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کی ضامن ہے مگر یہی ریاست اس وقت صحت انصاف و تعلیم سمیت عوام کے بنیادی حقوق غصب کرنے میں پیش پیش ہے، جان و مال کے محافظ ہی جان و مال کے درپے بنے ہوئے ہیں، عزت و آبرو سر راہ لٹ رہی ہے اور اشرافیہ لوٹنے والوں کی ڈھال بنی ہوئی ہے۔

قانون خاص کے لیے الگ اور خاک کے لیے الگ ہے، بکری چوری کا ملزم سالہا سال تک عدالتوں کے دکھے کھا کر بھی جیلوں میں سڑتا ہے جب کہ اربوں کھربوں روپے لوٹنے والے سرکاری سرپرستی میں دندناتے پھررہے ہیں۔ منصف اپنے مناصب سے اترنے کے بعد انتہائی بھاری بھرکم سرکاری مراعات حاصل کر کے عیش کر رہے ہیں اور قانون اور ملکی سرحدوں کے محافظ ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک جزیرے خریدتے پیزوں کے کاروبار کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی اقتدار اعلیٰ سے اپنی گرفت ڈھیلی ہونے نہیں دیتے مختلف اداروں میں ملکی سلامتی اور نظریہ ضرورت کے تحت براجمان ہو جاتے ہیں، طاقتور سزایافتہ مجرم سرکاری سرپرستی میں جب چاہیں قانون سے رعایت مانگ کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، اس طبقاتی تفریق، انصاف و قانون کے دوہرے معیار نے ارض پاک کو ایک ایسی کڑاہی بنایا ہوا ہے جس میں پانی ہے اور نیچے آگ اور عام بے بس و مجبور لوگ اس میں مینڈکوں کی طرح آہستہ آہستہ جل بھن رہے ہیں، بے حس بنے کڑاہی کی حدت برداشت کیے جا رہے ہیں اور طاقتور باہر کھڑے ان کی بے بسی پہ قہقہے لگا رہے ہیں

پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پہ دسترس رکھنے والوں نے آج جنہیں ہماری تقدیروں کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہوا ہے انہوں نے پچھلی کئی دہائیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے ہمیں اسی آگ کا ایندھن بنا کر رکھا ہے جس آگ میں ہم پچھلے چہتر سالوں سے جھلستے آ رہے ہیں، آج کے سوشل میڈیا کے جدید دور میں جب جھوٹ بولنا مشکل اور سچ چھپانا ناممکن ہو چکا ہے ہمارے حاکموں نے ایسے میں بھی ہمیں سچ کو چھپانے اور جھوٹ کو پھیلانے پہ مجبور کیا ہوا ہے، رائے کے اظہار پہ قدغنیں لگی ہوئی ہیں، سچ بولنا جرم سنگین بنا ہوا ہے۔

مگر اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ ہم مینڈک نہیں بلکہ انسان ہیں آج آزادی کے بعد پہلی بار خود پہ ظلم کرنے والوں اظہار خیال اور رائے کی آزادی سلب کرنے والوں، بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کے ذمے داروں، اپنی ہی رعایا کو جبری طور پر گمشدہ کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے کیونکہ ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے کی طرح ہمیں بھی اب مزید اس آہستہ آہستہ گرم ہوتی کڑاہی میں مینڈکوں کی طرح جھلسنا قبول نہیں ہے۔

اے صبح کے غمخوارو، اس رات سے مت ڈرنا
جس ہات میں خنجر ہے اس ہات سے مت ڈرنا
خورشید کے متوالو ذرات سے مت ڈرنا
چنگیز نژادوں کی اوقات سے مت ڈرنا
روداد سر دامن کب تک نہ عیاں ہو گی
نا کردہ گناہوں کے منہ میں تو زباں ہو گی
جس وقت جرائم کی فہرست بیاں ہو گی
اس وقت عدالت کے اثبات سے مت ڈرنا
اے صبح کے غمخوارو، اس رات سے مت ڈرنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *