کٹو (kittu) کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فارسی کی کہاوت ہے ”غم نہ داری بز بخر“ یعنی اگر غم نہ ہو تو بکری خرید لے۔ پریم چند نے اسی عنوان سے ایک افسانہ لکھا تھا جس میں بکری خرید کر غم پالنے کی کتھا سنائی ہے۔ ناہید نے اپنے دادا سے موقع بہ موقع یہ کہاوت سنی تھی لیکن کسی نے بھی انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ بلی پالنا بھی مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بلی کو ہمیشہ مسکین، معصوم، بے ضرر، ٹانگوں سے لپٹنے اور پیروں کو چاٹنے والا نرم، مخملی پالتو جانور ہی سمجھا تھا۔

ناہید کی سہیلی نے بلیاں (بلی نہیں بلیاں) پالی ہوئی تھیں۔ تنہا رہتی تھیں اور بلیاں ان کی لاڈلی اولاد کی مانند تھیں۔ جب ہی ان کے ہاں جانا ہوتا، روفی میاں ایک بلی گھر لے جانے کی ضد کرتے تاہم شیریں اپنی کسی اولاد کو گود دینے پر راضی نہ تھیں۔ روفی میاں کی خواہش ہر بار دوچند ہوجاتی اور ایک دن تو موٹی موٹی آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو بھر کر پاپا سے فرمائش کی کہ کوئی کافر ہی ہوتا جو دل نہ پسیجتا۔ پاپا نے بلی لانے کا وعدہ کر لیا۔

ناہید تو سمجھی تھیں کہ ان سے کیے گئے وعدوں کی طرح یہ بھی صرف بہلاوے کو ہوگا لیکن وہ تو سچ مچ ہی لے آئے اور بھی بلی نہیں آدھے شیر کے برابر بلا۔ انگورہ نسل کا سنہری پوستین والا کٹو۔ روفی میاں نے فرط شوق سے لپک کے باسکٹ کا پٹ کھولا، مگر کٹو نے باہر آنے کا کوئی بھاؤ نہیں دیا تو وہ مایوس ہو گئے۔ پاپا نے سمجھایا ”تھوڑی دیر میں باہر اجائے گا“ ۔ روفی میاں پاس ہی بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں جھک کر باسکٹ کے اندر جھانکتے۔

اخر کٹو باہر نکلا مگر فوراً ہی دوڑ لگا دی اؤر صوفے کے پیچھے جا کر چھپ گیا۔ روفی کی مایوسی قابل دید تھی لیکن پاپا نے تسلی دی ”نئی جگہ ہے، ذرا خوفزدہ ہے تم جاکر سو جاؤ صبح تک ایڈجسٹ ہو جائے گا“ ۔ روفی میاں کا دل تو نہیں چاہتا تھا لیکن بادل نخواستہ کٹو کو شب بخیر کہ کر سونے چلے گئے۔ اگلی صبح اٹھتے ہی سیدھے ڈرائنگ روم میں آئے جس کے صوفے کے پیچھے وہ رات کو کٹو کو چھوڑ کر گئے تھے۔ کٹو سنٹر ٹیبل کے پاس قالین پر آرام سے لیٹا ہوا تھا اس کی موٹی جھالر دار دم ہولے ہولے فضا میں نصف دائرے بنا رہی تھی۔ اس کی بھوری آنکھوں میں کوئی خوف نہیں تھا۔

”پاپا میں اسے چھو سکتا ہوں“ ،
”ہاں ذرا پیار سے سہلاؤ“
روفی میاں نے ایسا ہی کیا اور کٹو نے دم ہلا کر اوکے کیا۔
”کیا میں اسے گود میں اٹھا سکتا ہوں“
”ابھی ٹھہر جاؤ دوستی تو ہونے دو“
”میں اسے کھانا تو کھلا سکتا ہوں ناں“

”کھانا اور پانی بالکونی میں ہے اور اس کا لٹر ٹب (litter tub ) چھوٹے باتھ روم میں رکھ دیا ہے۔ بلی کو بھی رہنے سہنے کے ڈھنگ سکھاتے ہیں۔“

”مجھے کٹو کے لیے شاپنگ کرنی ہے“ ، روفی میاں نے آخری مکالمے کو نظر انداز کر کے کہا۔
”شاپنگ؟“ ناہید نے حیرت سے پوچھا
”مجھے کٹو کے لئے خوبصورت برتن، اس کے بیٹھنے کے لئے گدی اور کھلونے لینے ہیں“

ناہید کو ہنسی آ گئی ”کیوں نہ تم اپنے پوہ Pooh والے پلیٹ اور پیالی، کار والی گدی اور بلی کی تصویر والی سافٹ بال کٹو کو دے دو“ انہوں نے جان بوجھ کر روفی میاں کو آزمایا اور حیرت زدہ رہ گئیں جب روفی میاں فوراً ہی اپنی زنبیل سے یہ چیزیں نکال کر لے آئے۔

کٹو نے روفی میاں کی دریا دلی کو خوشدلی سے قبول کیا اور روفی میاں کی ٹانگوں سے سر مسلنے لگے۔ روفی میاں نے خوشی سے نعرہ لگایا ”پاپا کٹو نے دوستی کرلی اب میں اسے اٹھا سکتا ہوں ناں۔“

کیمبرج میں پڑھنے والی کٹو کی بڑی بہن نے ناک بھوں چڑھا کر کہا ”کٹو کیسا گنوار نام ہے اس کا نام فلفی fluffy رکھنا چاہیے لیکن روفی میاں اور خود کٹو نے پرانے نام کو ہی پسند کیا۔

کٹو بہت پیارا اور تمیز کا بلا تھا۔ کہیں گندگی نہ پھیلاتا، کبھی صوفے نہ کھرچے، اپنے مخصوص کمبل کے علاوہ کبھی کسی کے بستر میں نہ گھسا۔ کٹو جس ویٹ کلینک میں رجسٹرڈ تھا۔ وہیں لے جایا گیا۔ اسے شیڈول ٹیکے لگے۔ ڈاکٹر جینی نے بتایا کہ کٹو کی موٹی فر کو جوؤں اور کیڑوں سے بچانے کے لئے ہر ماہ اینٹی فلی ویکسین لگانا ہوگی۔ کٹو کے گردے میں پتھری کی ہسٹری کے باعث اسے صرف سالٹ فری غذا دینی ہوگی۔ جو بازار میں دستیاب عام بلی کے کھانے سے تین گنا مہنگی تھی۔

کٹو کے منہ پر زخم پایا گیا جس پر صبح شام لگانے کے لیے مرہم دیا گیا۔ یہ تمام اشیاء ڈاکٹر جینی کے کلینک پر ہی دستیاب تھیں۔ علاوہ ازیں کٹو ہر ماہ گرومنگ کے لئے ڈاکٹر جینی کے کلینک پر لے جایا جاتا۔ تین چار گھنٹے کے بعد کٹو گروم ہوکے نکلتا اور خواتین کے بیوٹی پارلر جتنی رقم ڈاکٹر جینی کی نذر ہوجاتی۔ ہر ماہ کے یہ اخراجات تو تھے ہی، اب کی وزٹ پر ڈاکٹر جینی نے ایک اور مشورہ دے ڈالا۔ کٹو جوان ہو گئے ہیں لہذا یا تو کسی دوشیزہ بلی کا بندوبست کیا جائے یا پھر آپریشن کر کے نیوٹر کر دیا جائے۔ بلیوں والی سہیلی سے بات کی تو اس نے کہا اس کی بلیوں نے ایک وقت میں چار چار بچے دے کر اسے دق کر دیا تھا اس لئے اس نے spay کرا لیا۔ اس نے ناہید کو بھی castration کا مشورہ دیا۔ مگر یہ بات ناہید کو کچھ اچھی نہ لگی۔ کون سا کٹو کسی جنسی زیادتی کے کیس میں پکڑا گیا تھا کہ اسے کیسٹریشن کی سزا دی جاتی۔

انہی دنوں گھر کی پرانی ملازمہ چلی گئیں۔ وہ جانوروں سے بے حد پیار کرتی تھیں۔ کبوتروں کو دانہ ڈالتیں۔ مرغیوں کے پنجرے صاف کرتیں۔ اور کٹو کو تو بہت ہی چاہتیں۔ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے کٹو سے باتیں کرتیں اس کے منہ کے زخم پر انگلی سے مرہم لگاتیں اور گود میں اٹھا کر کاریڈور کی سیر کراتیں۔ نئی ملازمہ کو جانوروں سے اتنا ہی بعد تھا۔ اس کے آنے کے بعد کبوتروں نے کھڑکی پر آنا چھوڑ دیا۔ مرغیاں دوستوں کو گفٹ کردی گئیں جہاں وہ دسترخوان کی زینت بن گئیں۔

کٹو بھی ریحانہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا۔ ایک دن اس نے ریحانہ کے پاؤں سے لپٹنے کی کوشش کی تو اس نے جھڑک کر دھکیل دیا۔ وہ دوبارہ قریب آیا تو کشن اٹھا کے دے مارا۔ کٹو جانور تھا مگر محبت اور حقارت کا فرق سمجھتا تھا۔ ناہید نے ریحانہ کو سمجھایا مگر اس کا رویہ نہ بدلا۔ وہ کٹو کا کوئی کام کرنے کی رودار نہیں تھی۔ اسے کٹو کا ماہانہ بیوٹی کلینک جانا بھی بہت کھلتا۔ وہ کہتی ”نوج اس موئے بلے کے نہلانے دھلانے پر میری تنخواہ کا چوتھائی خرچ کر ڈالتی ہیں۔ یہ بات ناہید کے دل کو بھی لگی اور ایک بار جب روفی میاں کے پاپا ملک سے باہر گئے ہوئے تھے تو انہوں نے سوچا کہ اس بار گرومنگ گھر پر ہی کر لی جائے۔

دن کے گیارہ بجے جب موسم معتدل ہوا تو کٹو کو گود میں اٹھا کر غسل خانے میں لایا گیا۔ ذرا سا گنگنا پانی کٹو پر ڈالا اور آنسو نہ لانے والے بے بی شیمپو سے اس کے نرم نرم بالوں پر جھاگ بنائے۔ ”دیکھو تو کٹو تمہارے پیر کتنے گندے ہو رہے ہیں، وہ باتیں کرتے ہوئے شیمپو ملتی رہیں۔ کٹو آنکھیں بند کیے لیٹا رہا۔ لیکن جیسے ہی پانی بھر کے اس پر ڈالا وہ اچھل کے کھڑا ہوا اور دوڑ لگا دی۔“ ارے ارے شیمپو تو دھلوا لو، ناہید اس کے پیچھے بھاگیں۔

اب گھر بھر میں کٹو آگے آگے اور لوٹا لئے ناہید اس کے پیچھے پیچھے۔ کبھی پانی اس پر پڑتا کبھی فرش پر گویا چاند ماری کی مشق ہو رہی ہو اور رکھ رکھ کے نشانے خطا ہو رہے ہوں۔ اخر کٹو واشنگ مشین کے پیچھے جا چھپا اور انہوں نے پائپ کی بوچھاڑ کر کے شیمپو دھو ڈالا۔ اب دوسرا مرحلہ تھا خشک کرنے کا۔ ناہید غسل دینے کے خروش و جوش میں تھک چکی تھیں اس لئے ریحانہ سے کہ دیا۔ وہ یہ بھول گئیں کہ کٹو اور ریحانہ میں تو ازل کا بیر ہے۔

ریحانہ نے ایک بڑا سا تولیہ لے کر دور سے کٹو پر پھینکا۔ جیسے مرغی پکڑنے والے کپڑا ڈالتے ہیں۔ کٹو انتہائی خوفزدہ ہو کر اچھلا اور ریحانہ کی طرف غرایا۔ پہلی بار کٹو کو غصہ آیا تھا۔ ریحانہ صوفے کے اوپر پاؤں چڑھا کر بیٹھ گئی اور پاس پڑا برش اٹھا کر کٹو پہ دے مارا۔ روفی میاں نے کھا جانے والی نظروں سے ریحانہ کو گھورا۔ ان کی بہن گوگلی معلومات کے بل پر کہنے لگیں ”کٹو کے کان پیچھے کی طرف ہیں، اس کی دم کے بال کھڑے ہیں اور اس کی پتلیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ خوفزدہ ہے یا غصے میں ہے“

”یہ تم نے کون سی نئی بات بتائی یہ تو ہم بھی سمجھ رہے ہیں“ ناہید نے جھنجھلا کر کہا
”اینیمل سائکیٹرسٹ کے مطابق کٹو کو اس وقت پیار اور ٹریٹ کی ضرورت ہے“

ناہید سمجھ گئیں تھیں کٹو بڑے تولیے سے ڈر گیا تھا اس لئے اپنے گلابی فیس ٹاول سے اسے پونچھا اور پھر خشک غذا کے بجائے تازہ ابلی ہوئی مرغی کے ریشے کھانے کو دیے جو کٹو کو بہت مرغوب تھے۔ رات کو روفی میاں کے پاپا سے بات ہوئی تو ڈرتے ڈرتے احوال سنایا وہ بیچارے بس اتنا ہی کہہ سکے

”جس کا کام اسی کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے“

ناہید تو سمجھی تھیں، رات گئی بات گئی لیکن اگلی صبح جب ریحانہ ناشتہ بنانے کے لئے باورچی خانے میں جانے لگی تو کٹو جو باورچی خانے کے سامنے بظاہر سکون سے بیٹھا ہوا تھا، زقند لگا کر اس پر حملہ آور ہوا۔ اس کے بال ایک انچ اونچے اٹھے ہوئے تھے اور وہ لمبے لمبے ناخنوں سے اسے نوچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ریحانہ نے دوڑ کر باورچی خانے کا دروازہ بند کر کے جان بچائی۔ وہ اس وقت تک نہ نکلی جب تک اسے یہ یقین نہ دلا دیا گیا کہ کٹو بالکونی میں چلا گیا ہے۔

گھر کے باقی افراد کے ساتھ کٹو کا رویہ نارمل رہا۔ دن بھر وہ معمول کے مطابق بچوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ ریحانہ سارا دن سامنے نہیں آئی۔ رات کے کھانے کے وقت چاول کی قاب اٹھائے ریحانہ جونہی ڈائننگ ٹیبل کے نزدیک پہنچی کٹو نے پھر حملہ کیا۔ ناہید اسے بچانے کے لیے ریحانہ کے سامنے آ گئیں۔ کٹو گویا اس نظریے کا قائل تھا کہ دشمن کا دوست دشمن۔ وہ ناہید ہر بھی غیض کے عالم میں جھپٹا۔ وہ سٹپٹا گئیں۔ اتنی دیر میں ریحانہ منظر سے ہٹ چکی تھی۔ ناہید نے کٹو سے کہا ”سوری کٹو“ اور گویا وہ سمجھ گیا ہو اس کے کھڑے بال بیٹھ گئے آنکھوں کی پھیلی پتلیاں اپنے قطر پر واپس آ گئیں۔ اور وہ اپنی جگہ پر واپس چلا گیا۔ ریحانہ نے مطالبہ کر دیا کہ اس کا حساب کر دیا جائے لیکن ناہید نے کہا اسے روفی کے پاپا کے آنے تک رکنا ہو گا۔

دوسری صبح ناہید دفتر اور بچے اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ریحانہ کو بمشکل ناشتہ بنانے پر راضی کیا گیا۔ جیسے ہی وہ کمرے سے نکلی کٹو طیش کے عالم میں لپکا روفی میاں باتھ روم سے نکل رہے تھے اتفاقاً دونوں کے درمیان آ گئے اور کٹو نے ریحانہ کو بچانے کے ناکردہ جرم کی پاداش میں روفی میاں پر بھی حملہ کر دیا اور اس کی ٹانگیں کھروچ ڈالیں۔ پانی اب سر سے گزر گیا تھا ناہید روفی کو بچانے آئیں تو اپنے لمبے ناخن اور دانتوں سے ان کی مدارات بھی کر ڈالی۔

یوں لگتا تھا اس پر کوئی جن سوار ہو گیا ہے۔ اس کے گلے سے غیر مانوس غراہٹ نکل رہی تھی آنکھیں شکار پر جھپٹتے شیر کی طرح خوفناک لگ رہی تھیں وہ دانت نکوسے پچھلے پیروں پر حملہ کی پوزیشن تانے ہر ایک پر جھپٹ رہا تھا۔ ریحانہ کمرے میں گھس گئی تھی ناہید بچوں کو لے کر اپنے بیڈروم کی طرف دوڑیں کٹو بھی پیچھے لپکا لیکن وہ اس کے گھسنے سے پہلے دروازہ بند کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ کٹو پاگل ہو گیا تھا۔

بچوں کے اسکول اور ناہید کے دفتر فون کر کے چھٹی کی درخواست کی گئی۔ ناہید نے ڈاکٹر جینی کو فون کیا مگر اس نے کہا ان کے ہاں ہوم سروس دستیاب نہیں۔ کٹو کو کلینک لانا یوگا۔ بلدیہ سے مدد مانگی مگر انہوں نے بھی وہی جواب دیا۔ اینیمل ورلڈ والے ہمیشہ تمام ایمرجنسی سروسز کا دعوی کرتے تھے مگر انہوں نے بھی یہی کہا کہ مرکز پر لانا ہوگا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ بلے کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ آخر اسے باسکٹ میں کیسے بند کیا جائے۔

دوست، محلے دار خاکروب سبھی کو فون کیا مگر لا حاصل۔ ناہید نے ذرا سا دروازہ کھول کر جھانکا اور اس کی جان نکل گئی۔ کٹو بچوں کے کمرے کے آگے پسرا ہوا تھا اور ابا جان کمرے سے نکل کر باتھ روم میں جا رہے تھے۔ اس ہڑبونگ میں وہ یہ تو بالکل فراموش کر بیٹھی تھیں کہ ابا جان آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اشارے سے ابا جان کو کمرے میں لوٹ جانے کو کہا مگر وہ اس صورتحال سے نابلد تھے، سمجھے نہیں اور اپنا عصا ٹھوکتے باتھ روم میں چلے گئے۔

ناہید دم بخود تھیں کٹو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں حالانکہ ابا جان کا عصا اس کی دم سے انچ بھر کے فاصلے سے گزرا تھا۔ ابا جان باتھ روم سے نکلے اور بحفاظت کمرے میں واپس چلے گئے۔ ناہید نے ہمت باندھی انہوں نے ٹخنوں تک کاؤ بوائے بوٹ پہنے، ہاتھوں میں دستانے چڑھائے اور دروازہ کھول کر باہر آئیں۔ کٹو نے کچھ دیر تک تو حرکت نہ کی لیکن جب وہ اس کے پاس سے گزریں تو غرا کر جست لگائی اور ان کے بازو پر نوچ لیا۔ جیسے جانتا ہو یہ حصہ دستانے اور بوٹ کی حفاظت سے عاری ہے۔

ناہید اسے اپنے پیچھے لگا کر بالکونی تک لے گئیں اور پھرتی سے دروازہ مقفل کر دیا۔ وہ شیشے کی دیوار سے غیض و غضب کے عالم میں ٹکراتا ریا۔ ناہید کا دل کٹ گیا مگر وہ مجبور تھیں اس معصوم جانور نے عفریت کا روپ دھار لیا تھا۔ بالکونی پیچھے سے بند تھی۔ دیوار پر شیشے کی کھڑکیاں تھیں جو بند تھیں۔ یہ بالکنی کٹو کے لئے حوالات بنا دی گئی۔ اس کا سب سامان وہیں رکھ دیا گیا۔ درز سے آواز جا سکتی تھی۔ ناہید اس سے پیار سے بات کرتیں اسے یاد دلاتیں کہ سب اس سے پیار کرتے ہیں اور روفی میاں اس کے دوست ہیں۔

وہ دھیان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سنتا جیسے سمجھ رہا ہو۔ شروع میں وہ بہت کم سوتا، آہٹ پر چوکنا ہو جاتا، کھانا بھی یونہی پڑا رہتا۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ دھیما ہوتا گیا اور ایک روز جب ناہید کو لگا کہ وہ ڈوسائل docile ہو گیا ہے تو انہوں نے بالکونی میں داخل ہونے کی جرات کی اور باسکٹ کا ڈھکن ہٹا کر کٹو سے اندر جانے کو کہا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر باسکٹ میں بیٹھ گیا اور ناہید نے پٹارہ بند کر دیا۔

ڈاکٹر جینی کے کلینک پہنچنے تک وہ کٹو کے ممکنہ جارحانہ ردعمل سے خوفزدہ تھیں لیکن وہ پیارے بچے کی طرح چپ چاپ بیٹھا رہا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ڈاکٹر جینی نے کٹو کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر باسکٹ سے نکال کر میز پر رکھا اور پیار سے اس کا سر سہلانے لگی۔ وہ پرانے کٹو کی طرح آنکھیں بند کر کے محظوظ ہوتا دکھائی دیا۔ ڈاکٹر نے اس کے جسم کا تفصیلی معائنہ کیا اس کے پیٹ کو دبا کر دیکھا حتیٰ کہ اس کا منہ کھول کر بھی دیکھا پر کٹو نے کچھ نہ کیا۔ اب ڈاکٹر جینی نے ناہید سے اس کی کمر سہلانے کو کہا جب ناہید نے ایسا کیا تو کٹو نے کوئی سخت ردعمل تو نہیں دیا مگر اس کے عمودی کھڑے ہوتے بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جینی نے کہا ”اسے آپ کا لمس پسند نہیں آیا“

ڈاکٹر جینی نے بتایا کہ بلیوں میں جارحانہ روش aggressive behaviourبہت عام ہے۔ معمولی اور عارضی نوعیت کا جارحانہ رویہ تو اکثر پیٹ پیرینٹس کی شکایت ہے لیکن ایک تازہ ریسرچ کے مطابق گھروں سے بے دخل کی گئی بلیوں میں 27 فیصد ان کے جارحانہ رویے کے باعث نکالی گئیں۔ وجوہات کی بنا پر جارحانہ رویے کو چار اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے

پلے اگریشن play aggression ایسی بلیوں میں دیکھنے میں آتا ہے جو تنہائی میں پالی گئی ہوں اور اچانک ہمجولیوں سے واسطہ پڑے۔

Pain induced aggression کی وجہ بلی کی جسمانی تکلیف ہو سکتی ہے۔
Fear aggression۔ بلی کو نئی جگہ یا صورتحال کا سامنا کرنا پڑے جس سے اسے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہو۔

Redirected aggression۔ اگر بلی کو کوئی چیز اچھی نہ لگے لیکن وہ اسے روک نہ سکتی ہو تب بھی ناپسندیدگی کا اظہار جارحانہ رویے سے کرتی ہے۔

”اب کیا کرنا چاہیے“ ناہید نے پوچھا
”ریحانہ کی موجودگی اسے ٹرگر کرے گی۔ اسے وہاں سے نکالنا ہو گا“
”کیا یہ دوسروں کے ساتھ نارمل رہے گا“
’شاید ہاں۔ جیسا کہ آپ نے ابھی دیکھا ”
”یہ کب تک ٹھیک ہوگا“
”کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن بہر حال بہت وقت لگے گا“ ،

ناہید سوچ رہی تھیں کاش پالنے سے پہلے بلی کی نفسیات سے متعلق معلومات حاصل کر لی ہوتیں۔ تو شاید ایسا نہ ہوتا۔ لیکن ہمارے معاشرے میں انسانوں کے لئے کوئی اتنا تردد نہیں کرتا تو جانور کس کھیت کی مولی ہیں

ڈاکٹر جینی کے شیلٹر ہوم کی یومیہ اجرت سن کر ہوش اڑ گئے۔ روفی میاں کے پاپا سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہیں بھی پھینک کر آ جاؤ لیکن ناہید کا دل نہیں مانا آخر ایک مہربان کے فارم ہاؤس پر کٹو کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

روفی میاں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ غصے اور رنج و الم سے ان کا چہرہ متورم اور ارغوانی ہو رہا تھا انہوں نے آخری بار کٹو کو سہلایا اور خدا حافظ کہہ کر باسکٹ لینڈ روور کے پچھلے حصے میں رکھ دی اور دوڑتے ہوئے گھر میں چلے گئے انہوں نے مڑ کر نہ دیکھا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *