تم امیر کو امیر تر بنانے کے لیے آزاد ہو


تم اپنی آنکھوں کی توجہ کو
اپنے دمکتے ہاتھوں کی محنت کو۔ ضائع کرتے ہو
روٹی کے درجنوں ٹکڑوں کے لیے آٹا گوندھتے ہو
جس میں تمہیں ایک ذرہ بھی چکھنے کے لیے نہیں ملے گا
تم دوسروں کی غلامی کرنے کے لیے آزاد ہو۔
تم امیر کو امیر تر بنانے کے لیے آزاد ہو (ناظم حکمت)

آج کے اس دور بے لذتیت میں ایسی ایسی قیامتیں گزر رہی ہیں کہ روز جزا کی طلب کا کیا کرنا۔ اگر لیل و نہار بغیر حادثات و خطرات بیت جائے تو غنیمت جانا جائے۔ سرمایہ داری پہلے سے جگر دریدہ انسانیت کو الم رسیدہ بنائے ہوئے ہے۔ آنکھیں ہیں کہ اشک بہائے جا رہی ہیں اور ذہن میں بے آرزو لمحے جاگزیں۔ کس سے شکوہ کیجئے۔ آسمان کی طرف نگاہ اٹھائیے تو عرش خدا اور زمین کی اور نظر کیجئے تو خلق خدا بھی خدا ہی کی طرح بے نیاز۔

سرمایہ داری نے انسان کو ایک روبوٹ ہی بنا دیا ہے۔ آخرت تو برباد ہو ہی رہی تھی ایسا لگتا اب دنیا بھی ہاتھ سے جائے گی۔ انسان کی زندگی کے ساتھ وابستگی فقط ایک ہی بار ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق ہونا چاہیے۔ کیا انسان کو کو قابو میں لانا ضروری ہے، کیا اس کی آزادی کی حدود کا تعین ضروری ہے، انسان کی آزادی کی حد اس وقت ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی ناک کا آغاز ہوتا ہے۔ انسان کی ایسی سوچ اور فکر، ایسا فعل اور عمل جس سے دوسروں کی زندگی میں تلخی داخل ہو جائے، وہاں اس کی آزادی ختم، آزادی صرف اسی کو نہیں چاہیے، سب کو چاہیے، سب ہی اس لیلائے حسن کے عاشق ٹھہرے۔

کیا سرمایہ داری انسان کو اتنی بھی آزادی دیتی ہے، کیا آپ کی سوچ آزاد ہے، کیا آپ جو کرنا چاہتے ہیں، آپ وہی کرتے ہیں۔ ہاں، ایسا لگتا ہے۔ لیکن ایسا ہے نہیں۔ ہماری سوچ اور فکر کو قابو میں لایا جاتا ہے۔ ہمارے افعال و اعمال کو ایک رخ دیا جاتا ہے، یہ سب ایسے انداز میں ہوتا ہے کہ یہ سب تو میرے لیے ہی کیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت میں ہماری حیثیت بھی ایک پروڈکٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔

ایسے لگتا ہے جیسے ہم ایک بیمار معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم نہ صرف ایسے معاشرے کے شہری ہیں بلکہ اس کی پیداوار ہیں۔ کیا کوئی بیمار معاشرہ صحت مند لوگوں کو جنم دیتا ہے۔ حکمران طبقات کی کرپشن تو بس ایک بہانہ ہے۔ یہ زہر اس سوسائٹی میں رچ بس گیا ہے۔ آپ بتائیے جس گاڑی کا انجن ہی خراب ہو، اس کے ڈرائیور کی کیا حیثیت۔ اس کی پاک بازی بھی کس کام کی۔ وہ گاڑی کو چلا ہی نہیں پائے گا اگر ایسا کرنا بھی چاہے تو نہیں کر پائے گا۔

جب انجن ہی خراب ہے تو ڈرائیو ر کی بدنیتی یا پاکیزگی کے کیا معنی۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ انسان کے دکھوں کا علاج انسان اس سرمایہ داری کے عہد میں کیسے کر پائے گا۔ بنیاد ہی ٹیڑھی ہے۔ ہمارے وطن عزیز کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو جاگیرداری اور سرمایہ داری کے آہنی پنجوں سے آزاد ہو۔ جب تک سماج کو اس نظام سے آزادی نہیں ملتی تب تک انسان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق نہیں مل سکتا۔

ہم جس سماج کا حصہ ہیں یہاں رشتے ناتے پیدائش سے ہی طے ہو جاتے ہیں۔ ان رشتوں کے بندھن سے الگ ہونا ممکن نہی ہوتا۔ سماج کا ہر رشتہ ہم سے فرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم بچپن سے ہی مذہبی، جذباتی اور ملکیتی رشتوں کے بندھنوں میں زنجیر بند کر دیے جاتے ہیں۔ ہمیں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر آمنا و صدقنا کہنا ہوتا ہے۔ اسے قبول کیے بغیر ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ ہم پر جبر مسلط کیا جاتا ہے۔ حد تو دیکھئے اسی جبر کو پھر عنایت بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔

حد بالائے حد یہ ہے کہ ہمیں اس عنایت کو ہر صورت قبولیت کے عمل سے گزارنا ہوتا ہے۔ ہماری ناں بھی ہاں ہی سمجھی جاتی ہے۔ جب تک سرمایہ ایک جگہ مرتکز رہے گا، لوٹ مار، چوری چکاری، ڈاکا زنی کا یہ سلسلہ ٹوٹ نہیں سکتا۔ اس کے پنپنے کے لیے سرمایہ داری ماحول فراہم کرتی ہے۔ ہمیں اس نظام کا متبادل چاہیے، جہاں ہر انسان کو اس کی محنت کا صلہ مل سکے۔ معاشرتی شعور کا تعین پیداواری قوتیں طے کرتی ہیں۔ اگر پیداواری قوتوں کو دبا دیا جائے تو مل جل کر رہنے کی تمنا پالنا ایک جرم کے سوا کیا معنی رکھتا ہے۔

جب تک انسان اپنے پیداواری نظام کو تبدیل کر کے پیداواری رشتوں میں تبدیلی نہیں لاتے انسان کا استحصال جاری رہے گا۔ دنیا بھر کے محنت کشوں کا ایک ہی مذہب و نظریہ ہے، دکھ سہنے کا نظریہ، ایک ہی رشتہ ہے، درد کا رشتہ، سرمایہ دار مزدور کی محنت کو کوڑیوں کے مول خرید کر ان کا استحصال کرتا ہے اور خود دولت و سونے کے ڈھیر پہ جا کے براجمان ہوتا ہے۔ اس میں اس کی کیا محنت صرف ہوئی، آپ بھی سوچیے۔

جس لمحے تو نے جنم لیا
انھوں نے تمہارے چار سو
ایسی چکیاں لگا دی ہیں جو جھوٹ پیستی ہیں
ایسے جھوٹ جو تمہارے ساتھ زندگی بھر رہ سکیں
تم اپنی انگلی کنپٹی پر رکھے
اپنی عظیم آزادی کے حصار میں سوچتے رہتے ہو
تم آزاد ضمیر رکھنے کے لیے آزاد ہو
تمہارے ہاتھ اس طرح سے جھکے ہوتے ہیں
جیسے گدی سے نصف کاٹ دیے گئے ہوں
تمہارے ہاتھ تمنا میں لٹکے ہوتے ہیں
تم اپنی عظیم آزادی میں گھومتے پھرتے ہو
تم آزاد ہو
بیروزگاری کے ساتھ آزاد رہنے میں
تمہاری زندگی میں نہ تو لوہے کا نہ ہی لکڑی کا
اور نہ ہی دھاگے کا بنا ہوا کوئی پردہ ہے
تمہیں آزادی کے انتخاب کی کوئی ضرورت نہیں
مگر اس طرز کی آزادی
ستاروں تلے ایک افسوس ناک معاملہ ہے۔ (ناظم حکمت)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments