بے زباں عشق
لفظ عشق کا کہی پہ ذکر آئے تو بالکل عام سا تجربہ ہے کہ لوگوں کی چہروں پر فطری طور پر ایک مسکراہٹ اور تبسم سا نمودار ہو جاتا ہے اور فوراً سوالات پوچھنے لگتے ہیں۔ بھائی! کیوں اور کیسے عشق کے چکروں میں پڑے ہو؟ یہ سب چیزیں فضول ہے۔ ارے خدا کے بندے ہر جگہ، ہر وقت اور ساتھ میں ہر شخص کے لیے عشق کا تعارف یکساں نہیں۔ اگر ہمیں عشق اور لگاؤ ہے تو اس احساس سے ہے جو ہمیں سکون مہیا کرتا ہے جس سے ہم دبے زباں اور دل کے ساتھ تو محسوس کر لیتے ہیں، لیکن ظاہری طور پر بیان نہیں کر سکتے۔
اس قسم کا عشق بے پرواہ ہوتا ہے۔ اس میں خود غرضی نہیں ہوتی، اور نہ یہ دو لوگوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سے مقابلے پر ہوتا ہے۔ بس یہ ایک ایسا احساس ہے، جو کسی پر بھی فدا ہو سکتا ہے چاہیے وہ قدرت کے نظارے ہو، یا ساون کے موسم کی راتیں ہو۔ آدھی رات میں ہوا سے ٹہلتے ہوئے پتے بھی وجہ خوشی بن سکتے ہیں اور بہار کی بارش کا ہر قطرہ بھی باعث مسرت ہو سکتا ہے جو کہ محسوس آواز کے ساتھ زمین پر ٹپکتا ہے۔
پیڑوں کے جھنڈ میں سورج کی کرنیں بھی ادا دیکھا سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا عشق ہے، جس میں خوشی اور غم کا نہ پیمانہ متعین ہے اور نہ اوقات درکار ہے۔ بلکہ خوشی اور غم دنوں حالتوں سے صرف لطف اور لذت لیا جاتا ہے۔ یہ خوشی کے وقت چہرے پر آنسو بھی لا سکتا ہے اور غم یا صدمے کے وقت ہنسا بھی سکتا ہے۔ یہ اس حسین زندگی کا وہ ادھورا خواب ہے۔ جس سے صرف دیکھا گیا ہے۔ حقیقت تک رسائی کے لیے مٹنا پڑے گا۔ یہ ایک ایسی رسائی کی طلب ہے، جس کے لئے ایک بھر زندگی کافی نہیں۔
دوبارہ سرے سے زندہ ہونا پڑے گا۔ یہاں پہ ایک لمحے کے لیے دل و دماغ سے مخاطب ہونا پڑے گا۔ اور ان کے ہر ایک سوال کا جواب دنیا پڑے گا۔ اگر کہیں پہ تم سے حسین اور خیالی زندگی کی فرمائش ہو جائیں تو اس سے کہہ دینا کہ یہ میری بس کی بات نہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دینا کہ میرے سامنے ظلم و تکلیف کی باتیں کبھی بیاں نہ کریں۔ اور نہ ہی محبت کی داستانوں کو ہوا دیں۔ میں نے صرف خواب دیکھے ہیں اور خیالی طور پر ہر چیز محسوس کی ہے حالانکہ ظاہری طور پر بے بسی اور لاچاری ہیں۔
اس لئے تو مجھے گلے اور شکوے ہیں۔ میں دل و دماغ کے سامنے بے بس اور بے زباں سا ہو گیا ہوں۔ وہ لوگ جو کبھی رنگین شاموں کی جاں ہوا کرتے تھے وہ بری محفل میں اس بے بسی کی عکاسی کر رہے تھے کہ جس پر دل چرانے کا گماں ہی نہ ہوتا تھا۔ اب وہ بے خودی میں پڑے ملے نگیں۔ وہ نازک مزاج اور محترم لوگ جن پر کبھی سورج کی روشنی نہیں پڑی تھی۔ جن پر کبھی بتوں کے عشق کا گماں نہیں ہوتا تھا اب وہ بھی بتوں کی پرستش میں مگن ہیں۔
اس کی رسائی تو آسماں تک تھی، وہ تو لفظوں کو حسن بخشتا تھا، اس کا تو ہر انداز دل کو کھینچنے والا تھا، اس سے تو خزاں میں بھی بہار کی لت تھی۔ انسانیت کو اس کے حسن پر کوئی امتحان ہی برداشت نہیں۔ لیکن اس رنگین دنیا میں اس خیال اور احساس کے لئے کچھ بھی نہیں۔ مجھے قسم کائنات کی روشنیوں اور اس کی حسن پر، کہ اس احساس کی مقام میرے لئے دنیا کے بلندیوں سے بھی بلند ہیں۔ میری آواز کی رسائی وہاں پر ممکن نہیں ہے جہاں لوگ مجھے سمجھ کر خود کے لئے کچھ محسوس کر لے۔
میرے لئے تو جنت کے حوروں کے مقابلے اس کے چھوٹے چھوٹے خواہشات زیادہ معزز ہیں۔ بس میرے لئے تو ہی حرف آخر لازم و ملزوم ہیں۔ بس تو جو بھی ہے، میرے لئے اس حسین زندگی کا ایک احساس اور خواب ہے، جس سے محسوس کرنا عام سی بات نہیں۔ ہوتا ہے راز عشق و محبت ان پر عیاں کچھ اس طرح، آنکھیں زباں تو نہیں ہیں مگر بے زباں بھی نہیں۔

