حامد میر کو آف ایئر کرنے پر ‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ کی تشویش، معاملے پر صحافی تقسیم کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ سے وابستہ صحافی اور اینکر حامد میر کو حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کی میزبانی سے آف ایئر کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں آمرانہ ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔

صحافی حامد میر کو رواں ہفتے ہی پروگرام کی میزبانی سے اس بنا پر ہٹا دیا گیا کہ انہوں نے ایک صحافی پر حملے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں پر تنقید کی تھی۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز ایشیا پیسفک کے سربراہ ڈینئل باسٹرڈ کہتے ہیں کہ یہ افسوس ناک ہے کہ صحافتی ادارے نے اپنے اہم صحافی کو اس بنا پر آف اسکرین کر دیا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھی صحافی پر حملے کی مذمت کی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حامد میر کا ٹی وی اسکرین سے آف ایئر ہونا حکومت کا آمرانہ دور کی طرف بڑھتا ہوا ایک اور قدم ہے۔

جنگ گروپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ گروپ اور اس کے ایڈیٹرز کے لیے مشکل ہو گیا تھا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر یا تحریر کے مواد کی ذمے داری لیں، جو واقعتاً نہ تو ایڈیٹوریل ٹیم نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی منظوری دی ہو۔

پاکستان کی بعض صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف اقدامات میں حکومت کا ردِعمل ظاہر نہ کرنا یہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کا عمل دخل ہے۔

بعض حلقوں کا الزام ہے کہ حامد میر کو ریاستی اداروں کے دباؤ کے نتیجے میں پروگرام کی میزبانی سے ہٹایا گیا ہے۔ تاہم وفاقی وزیرِ اطلاعات نشریات فواد چوہدری اس تاثر کی تردید کرتے ہیں۔

اس حوالے سے اپنے ٹوئٹ میں فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ‏کس نشریاتی ادارے نے کیا پروگرام نشر کرنا ہے اور اس کی ٹیم کیا ہو گی، یہ فیصلہ ادارے خود کرتے ہیں، ہمارا اداروں کے اندرونی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں، تمام ادارے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اپنی پالیسی بنانے کے خود ذمے دار ہیں۔

صحافتی تنظیموں کے مختلف دھڑوں کو ضم کرنے کے لیے قائم کی گئی یونی فکیشن کمیٹی کے سربراہ اور سینئر صحافی ضیا الدین کہتے ہیں کہ صحافیوں کے خلاف حالیہ واقعات میں ریاست کا ردِعمل غیر اطمینان بخش رہا ہے اور ان کے بقول حکومت کی لاتعلقی نے صحافیوں کو یہ سمجھنے پر مجبور کیا ہے کہ ان واقعات میں لامحالہ ریاستی اداروں کا تعلق ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ابصار عالم پر قاتلانہ حملے، مطیع اللہ جان کا اغوا یا اسد طور پر تشدد سے صحافتی حلقوں میں اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ اس میں ریاستی اداروں کا عمل دخل ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اس عمل کا مقصد تنقید کرنے والے صحافیوں کو قابو میں لانے کی کوشش ہے۔

ضیا الدین نے کہا کہ حالیہ عرصے میں خود ساختہ سنسر شپ بڑھی ہے اور لگتا یہ ہے کہ جو صحافی بات نہیں مانتا اس کے خلاف سیکیورٹی ایجنسیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے روایت بن چکی ہے کہ اگر آپ کسی طاقت ور کی بات نہیں مانتے تو آپ کو نتائج بھگتنا پرتے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ حامد میر کو ان کے ادارے نے اس تقریر کی بنا پر ہٹایا، جس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں بنتا جو کہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ میڈیا پر کس طرح براہ راست دباؤ آتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو تقریر پر اعتراض تھا تو اس معاملے کو عدالت لے جایا جا سکتا تھا لیکن قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے کسی چیز کو جواز بنا کر صحافیوں کے خلاف مہم شروع کر دی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں صحافت آزاد نہیں ہے اور صحافیوں کے خلاف اقدامات کے اشارے ، ان کے بقول، خفیہ اداروں کی طرف جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کو جتنی آزادی آج حاصل ہے، اتنی کسی دور میں نہیں تھی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بغیر تحقیق کے ریاستی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانا کسی طور مناسب نہیں۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس نے بھی وزارتِ داخلہ کے توسط سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ صحافی اسد طور پر تشدد سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔

ایجنسی کو مؤقف تھا کہ یہ آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

حامد میر کی تقریر پر صحافی تقسیم کیوں؟

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حامد میر کو آف ایئر کرنے کی مذمت کی ہے اور اس عمل کو آزادی صحافت سلب کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

تاہم صحافیوں کے ہی ایک گروپ نے حامد میر کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ کیا جب کہ سوشل میڈیا پر بھی بعض حلقے حامد میر کی حمایت جب کہ بعض اُن کی مخالفت کر رہے ہیں۔

صحافی حامد میر اور عاصمہ شیرازی کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کے لیے پولیس کو درخواستیں بھی دی گئی ہیں۔

ضیا الدین کہتے ہیں کہ لگتا یہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں صحافیوں کو کام کرنے میں مشکلات ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پی ایف یو جے جو کہ ملک کے صحافیوں کی مضبوط تنظیم کی صورت میں حکومت اور میڈیا مالکان کو اپنی اپنی حد میں رکھتی تھی، اسے تقسیم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صحافتی تنظیموں میں تقسیم کو دور کر دیا جائے تو ایک پلیٹ فارم پر ہونے کی صورت میں آزادیٔ صحافت کی جدوجہد اور حقوق کا تحفظ کیا جا سکے گا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ صحافیوں اور صحافتی تنطیموں کے مابین اکثر معاملات پر تقسیم پائی جاتی ہے، لیکن بعض معاملات میں یکسوئی بھی دیکھی جاتی ہے جیسے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بل کی سب صحافتی تنظیموں نے یک زبان ہو کر مخالفت کی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر آج کسی وجہ سے ایک صحافی ہدف ہے، تو کل کسی اور وجہ سے دوسرا صحافی بھی ہدف بن سکتا ہے اور اگر آج ہم متاثرہ صحافی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے، تو کل وہ بھی یہ فیصلہ لے سکتا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ تقسیم کرو کے اس طرز عمل سے ان لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے جو صحافیوں کو ہدف بنائے ہوئے ہیں اور صحافتی تنظیموں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی تقسیم سے فائدہ کس کو ہے، ورنہ نقصان تو سب کا ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس نے گزشتہ برس پاکستان کی تین درجے تنزلی کرتے ہوئے اسے 145 ویں نمبر پر کر دیا تھا۔

فریڈیم نیٹ ورک کے مطابق اسلام آباد اس وقت صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر بن چکا ہے۔

البتہ، حکومتِ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ صحافیوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے جب کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے بل پارلیمان میں لایا جا چکا ہے اور ان کی شکایات کا ہر فورم پر ازالہ کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *