انصاف کا نظام اور نظام کی تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افراد کے مقابلے میں اگر نظام کی مضبوطی کا عمل موجود نہ ہو تو یہ نظام طاقت ور افراد کے ہاتھوں یرغمالی کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ کیونکہ کمزور لوگوں کی بنیادی خواہش افراد کے مقابلے میں اداروں کی مضبوطی ہوتی ہے اور ان ہی اداروں سے ان کو انصاف یا اپنے بنیادی حقوق شفاف انداز میں مل سکتے ہیں۔ پاکستان میں انصاف کے نظام کو تین بنیادی چیلنجز ہیں۔ اول یہ نظام طبقاتی بنیادوں پر قائم ہے جہاں طاقت ور اور کمزور کے درمیان تفریق کا پہلو نمایاں ہے۔

دوئم انصاف کے نظام میں سیاسی اور با اثر افراد کی مداخلتیں، کرپشن، بدعنوانی پر مبنی مسائل کی بہتات، سوئم ہمارے عدالتی نظام میں پائی جانے والی خامیاں، پولیس اور تفتیش کا نظام، انصاف میں تاخیر اور اس تناظر میں اصلاحات کا نہ ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں مجموعی طور پر لوگوں کو اپنے انصاف سے جڑے اداروں پر اعتماد نہیں اور اس بحران نے عدالتی نظام اور عام آدمی میں ایک بڑی نمایاں خلیج پیدا کردی ہے جو ریاستی و عوامی رشتہ کو کمزور کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے براہ راست فون کال پر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ عورت عائشہ اور اس کی والدہ جو خود بھی بیوہ ہے اپنے مکان پر قبضہ اور کرایہ نہ دینے پر جو ماتم کیا وہ ہمارے معاشرے میں کوئی نیا واقعہ نہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر کئی ایسی عائشہ ہیں جو با اثر اور پولیس، اداروں یا غنڈہ عناصر کی مدد سے لوگوں کے مکانوں، زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں، کرایہ دار ہونے پر کرایہ دینے سے انکار کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں، عورتوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے بجا فرمایا کہ ہمارا عدالتی یا انصاف سے جڑا نظام اپنی افادیت کھو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قبضہ کرنے والا فرد پولیس کے اعلی افسر کا بھائی تھا اور کرایہ یا مکان خالی کرنے کے مطالبہ پر پولیس کا دباو ڈالتا او راس عورت کی کردار کشی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ وزیر اعظم کی مداخلت پر اس کو کرایہ کی مد میں بقایا رقم بھی مل گئی اور سابقہ سی سی پی او عمر شیخ کی مداخلت کی بنا پر اسے اپنا مکان بھی مل گیا۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا انصاف کا نظام اسی بنیاد پر کھڑا ہے کہ کوئی فرد اگر وزیر اعظم، صدر، وزیر اعلی، گورنر، چیف جسٹس تک رسائی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کی بات سنی جا سکتی ہے۔ اگر اس دن عائشہ کی وزیر اعظم سے کال نہ ملتی تو مسئلہ جوں کا توں ہی رہتا اور نہ جانے کتنی عائشہ ایسی ہوں گی جنہوں نے وزیر اعظم کو کال کرنے کی کوشش کی ہوگی لیکن ان کا رسائی نہیں ہو سکی ہوگی۔ یہ ہے کہ ہمارا عدالتی اور پولیس یا انصاف کا نظام جہاں ایک بیوہ عورت کو اپنے انصاف یا بنیادی حق کے لیے کہاں کہاں دھکے نہیں کھانے پڑتے بلکہ اس سے ایک قدم آگے اپنی شخصیت کو بھی داغدار کرنا پڑتا ہے یا مختلف برے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عدالتی نظام کے حوالے سے جو سب سے اہم مسئلہ عام یا کمزور آدمی کو درپیش ہے وہ عدالتی نظام میں طاقت افراد کی جانب سے سٹے آرڈر کا ملنا ہے۔ سوال یہ ہے ہوتا ہے کہ کیسے عدالت کا یہ نظام جانتے ہوئے بھی کہ طاقت ور اپنے مفاد کے لیے کیسے سٹے لیتا ہے اسے سٹے دے دیا جاتا ہے۔ پولیس، وکیل اور ججوں کے درمیان ہونے والا یہ باہمی گٹھ جوڑ کمزور لوگوں کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ سٹے آرڈر کا مطلب کمزور مخالفین کو دباو میں لانا، اسے عدالتوں میں ذلیل و خوار کرنا، مقدمات کو طول دینا ہوتا ہے تاکہ کمزور لوگ ہمت ہار کر گھر بیٹھ جائیں۔

پاکستان کا عدالتی نظام کی ساکھ پر پہلے سے ہی سوالیہ نشان موجود ہیں۔ ورلڈ جسٹس رپورٹ کے مطابق ہم 128 ممالک میں سے 120 نمبر پر ہیں جبکہ ساوتھ ایشیا میں ہم چھ میں سے پانچ نمبرز پر ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم کیسے قانون کی حکمرانی اور اپنے عدالتی، تفتیش یا پولیس کے نظام کو شفافیت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اول مسئلہ تو ہے کہ ہمیں مرض کو قبول کرنا ہوگا اور اس کی تشخیص کرنی ہوگی کہ مرض کیونکر ہے او رکن وجوہات کی بنا پر یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں۔

دوئم ہمیں اپنی قومی ترجیحات کا درست تعین کرنا ہوگا اور اصلاحات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا اور محض قانون سازی یا پالیسی سازی ہی نہیں بلکہ اس کی کڑی نگرانی، عملدرآمد کا نظام اور شفافیت سمیت جوابدہی کے نظام کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم کو یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ انصاف یہاں یرغمال ہے اور طاقت ور لوگوں کے قبضہ میں ہے۔

عمران خان کی حکومت کا سب سے بڑا نعرہ ہی سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی اصلاحات پر مبنی ایجنڈا تھا۔ پولیس ریفارمز بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ حکومت بھی اصلاحات سے زیادہ ردعمل کی سیاست کا شکار ہوئی ہے۔ بہت سی اصلاحات پر یا تو سیاسی سمجھوتے کر لیے گئے ہیں یا ترجیحات کی تبدیلی ہوئی ہے یا عددی برتری نہ ہونے کی وجہ سے وہ واضح قانون یا پالیسی سازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کو سمجھنا ہوگا کہ ایک اچھی حکومت اور جمہوریت یا سیاست بنیادی طور پر نظام کو مضبوط بناتی ہے اور تمام افراد کو چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے سب کو قانون کے تابع کرتی ہے۔

حکومت کو اس تصور کو سیاسی شکست دینی ہوگی کہ افراد اتنے طاقت ور ہوجائیں کہ ان کے سامنے قانون کمزور ہو۔ عملی طور پر اداروں اور قانون کی حکمرانی کا تصور مضبوط ہوں تاکہ سب ہی قانون کی حکمرانی کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ وزیر اعظم نظام کی خرابیوں کا تو خوب ماتم کرتے ہیں اور اچھی بات ہے کہ ان کو اندازہ ہے کہ ہمارا نظام فرسودہ اور طاقت ور کے قبضہ میں ہے۔ لیکن محض ماتم سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لیے وزیر اعظم او ران کی حکومت کو کچھ آگے بڑھ کر غیر معمولی حالات میں عملی طور پر غیرمعمولی اقدامات ہی کرنے ہوں گے ۔

عدالتی نظام کی اصلاحات ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور انصاف میں تاخیر سے ہمارے نظام کی ساکھ پہلے ہی سوالیہ نشان پر ہے۔ نئی عدالتوں کا قیام ہماری ضرورت ہے اور خاص طور پر نیب کے حوالے سے جو ہم نے نئی احتساب عدالتیں بنانی ہیں ان کو فوری طور پر تشکیل دی جائیں او راس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم نے درست فرمایا کہ ان کے دور حکومت میں نیب کی کارکردگی پہلے سے کافی بہتر ہوئی ہے بالخصوص رقم کی وصولی یا ریکوری کے معاملے میں نیب پچھلے تین برسوں میں سابقہ سترہ برسوں کا بھی ریکارڈ توڑ چکا ہے۔

لیکن اس وقت بھی بہت سی سیاسی قوتیں نیب کو کمزور کرنا چاہتی ہیں اور بار بار اس منطق کو مختلف سیاسی اور کاروباری طبقہ کی جانب سے دلیل دی جا رہی ہے کہ اگر ملک میں معاشی صورتحال کو بہتر کرنا ہے تو نیب کو لگام دی جائے یا ختم کر دیا جائے۔ یہ وہ ہی روایتی نقطہ نظر ہے جو اس ملک میں احتساب کو کمزور کرنے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مسئلہ نیب کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ مضبوط، فعال کرنا، متحرک اور شفافیت کے عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنا ہے۔

نیب کو بھی سمجھنا ہوگا کہ جو لوگ یا ادارے ان پر تنقید کر رہے ہیں اس کی کیا قانونی یا سیاسی وجوہات ہیں یا اس کے پیچھے پس پردہ ایجنڈا کیا ہے۔ مقدمات میں تاخیر یا سیاسی لوگوں کے مقدمات یا ان سے رقم کی وصولی یا ان سے کچھ نہ نکالنے کے جو سوالات ہیں ان کا جواب بھی دلیل یا شواہد کے ساتھ نیب کو قوم کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ بہرحال عدالتی نظام میں شفافیت، اصلاحات اور بڑی موثر تبدیلیاں ناگزیر ہیں او راب معاملات کو محض روایتی انداز میں نہیں چلایا جاسکے گا اس کے لیے کچھ کر کے عملی طور پر دکھانا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *