بھارت میں جاری ”ہولوکاسٹ“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہمارے بچوں کو کلاس میں پچھلی نشستوں پر بٹھایا جاتا ہے“ بھارت سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون کی یہ بات میرے لیے ایک افسوس ناک انکشاف تھی، اس کے باوجود کہ پڑوسی ملک میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے بدسلوکی کوئی راز نہیں اور وہاں خاص طور پر مسلمانوں سے کیے جانے والے سلوک سے میں اچھی طرح واقف ہوں، مجھے حیرت تھی کہ سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والا ملک اور معاشرہ اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ درسگاہوں میں معصوم بچوں کو امتیاز کا نشانہ بنانے لگیں؟ ان خاتون کے درد سے واقف ہو کر میری سمجھ میں آیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ ناروا اور متعصبانہ سلوک کیا جا رہا ہے جتنا ہم جانتے ہیں۔

بھارت کبھی عبدالکلام کو صدر اور کبھی من موہن سنگھ کو وزیراعظم بنا کر اور بولی وڈ کی فلموں کے ذریعے یہ دکھاوا اور پرچار کرتا رہا ہے کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کو نہ صرف تمام حقوق حاصل ہیں بلکہ وہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر بھی فائز ہوسکتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ یہ پروپیگنڈا بے اثر ثابت ہو رہا ہے۔ دنیا میں مذہبی آزادی سے متعلق امریکی ادارے ”یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم“ (USCIRF) کی سالانہ رپورٹ میں بھارت میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی صورت حال پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ وہاں مذہبی آزادی منفی سمت میں گامزن ہے۔ یہ رپورٹ کہتی ہے، ”بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندو قوم پرست پالیسیوں کو فروغ دینے کی وجہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مذہبی امتیاز پر مبنی شہریت ترمیمی ایکٹ سے ریاستی، غیرریاستی عناصر نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کے تشدد اور پولیس جارحیت بظاہر سوچی سمجھی سازش تھی۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت شہریت کے متنازع قوانین کو مسلمانوں اور حزب اختلاف کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ مذہب کی زبردستی تبدیلی کے جعلی بیانیے کی بنیاد پر بین المذہبی شادیوں کو روکنے سے تشدد کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی پارلیمان نے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں پر مزید پابندیاں عائد کیں۔ حکومت کی جانب سے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اپنے دفاتر بند کرنے پڑے جبکہ کورونا وبا کے آغاز میں گمراہ کن انفارمیشن اور نفرت انگیز بیانات کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ”

امریکی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے تمام ملزمان کو بری کرنے اور مذہبی تشدد پر حکومتی خاموشی نے بھارت میں نفرت و تشدد کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندو قوم پرست گروہوں نے سزا کے خوف سے بے نیاز ہو کر مسلمانوں کے گھروں، مساجد، کاروبار کو وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے امریکی حکومت کو تجویز دی ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کے حوالے سے مزید باعث تشویش ملک کا درجہ دیا جائے، بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔ کمیشن نے مزید تجاویز دی ہیں کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ اور کثیر الملکی سطح پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے معاملات اٹھائے جائیں، بھارت میں جاری مذہبی آزادی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کی جائے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اس رپورٹ کو کس حد تک اہمیت دیتے اور اس پر عمل کرتے ہیں، یا اسے نظرانداز کر کے وہ امریکی مفادات کی خاطر بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو دونوں ملکوں کی تعلقات کی بھینٹ چڑھانے کی امریکی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔

اس رپورٹ کے آنے سے کچھ دنوں پہلے ہی بھارت میں مذہبی اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے سلوک اور ان پر تشدد کے کئی واقعات بھارتی سماج میں اقلیت کا درجہ رکھنے والوں کی حالت کی تصویر بن کر سامنے آچکے ہیں۔ بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے میوات میں

ایک نوجوان جم ٹرینر آصف کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ آصف کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسے موب لنچنگ کا نشانہ بنایا۔ ہجوم نے اسے گھیرا اور مجبور کیا کہ وہ ”جے شری رام“ کا نعرہ لگائے۔ موب لنچنگ کا مطلب ہے کہ اسے ایک فرد یا چند افراد نے نہیں بلکہ پورے ہجوم نے ہدف بنا کر گھیرا اور تشدد کے ذریعے مار ڈالا۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف موب لنچنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات بتاتے ہیں کہ انتہاپسند حکومت اور اس کے کاسہ لیس میڈیا نے بھارتی سماج کو جنون میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ جنون کہیں مسلمانوں کے جان و مال کو نشانہ بنا رہا ہے کہیں ان کی عبادت گاہوں کو۔ اور یہ کارروائیاں ہندو انتہا پسندوں کے غول ہی نہیں انجام دے رہے اس سب میں ریاست بھی پوری طرح ملوث ہے۔ مثال کے طور پر اترپردیش کے شہر بارہ بنکی کی سو سال پرانی ”مسجد غریب نواز المعروف“ کا انہدام جسے بابری مسجد کی طرح شدت پسندوں نے نہیں ڈھایا بلکہ مقامی انتظامیہ نے اسے ”تجاوزات“ قرار دیتے ہوئے مسمار کر دیا۔

ظلم اور اندھے تعصب کے ان قصوں کے ساتھ ہندوتوا کے مظالم کی ایک نئی کہانی لکشا دیپ کے جزائر پر جنم لے رہی ہے۔ بھارتی ریاست کیرالہ سے لگ بھگ تین سو کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں واقع لکشا دیپ کے جزائر میں کشمیر کی طرح مسلمانوں کی اکثریت ہے، جن کی آبادی کا تناسب ننانوے فیصد ہے۔ بتیس مربع کلومیٹر پر پھیلے ان چھوٹے چھوٹے

36 جزیروں پر تقریباً 64 ہزار نفوس آباد ہیں۔ بھارت کی ہندو انتہاپسند حکومت اور اس کے ہمنواؤں کو بھارتی نقشے پر موجود کسی علاقے میں یہ ننھی سی مسلم اکثریتی آبادی بھی برداشت نہیں ہو رہی۔

مودی حکومت نے وفاق کے زیرانتظام لکشا دیپ کے انتظامات چلانے کے لیے ایک ہندو انتہا پسند ایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیا ہے، جس نے ان جزائر پر بھارت کے غاصبانہ قوانین نافذ کر کے مقامی مسلمانوں کی زندگی عذاب میں ڈال دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان جزائر کی آبادی (ڈیمو گرافی) تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ تعینات کیا جانے والا ایڈمنسٹریٹر پریفل پٹیل وہ شخص ہے جو بھارتی ریاست گجرات کے مسلم کش فسادات میں بہ طور وزیرداخلہ ملوث تھا، جس نے اپنی تعیناتی کے بعد سے لکشا دیپ میں غیر مقامی ہندوؤں کی آبادکاری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ مقامی مسلمانوں کے گھر اور کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں، نئے قوانین کے تحت گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، نئے ضوابط لوگو کرتے ہوئے اسکولوں میں گوشت کے کھانوں پر پابندی لگادی گئی ہے، جب کہ مقامی لوگوں کی روایت ہے کہ وہ مچھلی اور دیگر جانوروں کا گوشت کھانے کے عادی ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ان بھاری مسلم اکثریت والے جزائر میں گائے کے ذبیحہ پر سخت پابندی لگادی گئی ہے۔ پہلے شراب پر پابندی عائد تھی، لیکن اب شراب پینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان حکومت اقدامات نے لکشا دیپ کے کے پرامن باشندوں کو خوف اور ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ نئے قواعد و ضوابط کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، لیکن دنیا جو کشمیر جیسے اہم ایشو پر توجہ دینے کو تیار نہیں اس چھوٹی سی اور دوردراز آبادی کے درد کو کیوں قابل اعتنا جانے گی۔

بھارتی ہندو انتہا پسند حکومت اور ہندو شدت پسند جماعتوں کے شر سے یوں تو سکھوں اور مسیحیوں سمیت کوئی اقلیت محفوظ نہیں، لیکن ان انتہاپسندوں کا پہلا ہدف مسلمان اقلیت ہے۔ صاف لگتا ہے کہ انتہاپسند بھارت کو اسپین کی طرح مسلمانوں سے ”پاک“ کرنے اور بھارتی سرزمین سے اسلامی تاریخ کی ہر یادگار مٹا دینے کے درپے ہیں۔ کشمیر ہو، میوات ہو، بارہ بنکی ہو یا لکشا دیپ، مودی سرکار، بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے نظریاتی حلیف مسلمانوں کو مٹانے، دبانے اور کمزور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک دھیمی رفتار سے کیا جانے والا ”ہولوکاسٹ“ ہے، جس سے عالمی برادری ہی نہیں مسلم ممالک بھی چشم پوشی کیے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *