ٹیکے کا سوچ کر دہشت زدہ ہو جانے کا عارضہ۔ نیڈل فوبیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملائشیا میں بنی ایک وائرل وڈیو دیکھنے کا موقع ملا۔ نوجوان شخص کے خون کا نمونہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسے چاروں طرف سے طبی عملہ نے گھیرا ہوا ہے۔ جیسے ہی اسے لگتا ہے کہ سوئی اس کے بازو کے قریب آ رہی ہے وہ بے اختیار چلانے لگتا ہے، اپنی نشست سے کبھی اٹھتا ہے، کبھی لیٹتا ہے اور کبھی بیٹھتا ہے، اس کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے، ان چیخوں میں عملۂ صحت کے قہقہے بھی شامل ہو رہے ہیں۔

سوئی کے خوف کا عارضہ یا نیڈل فوبیا ایک بہت ہی عام مرض ہے۔ اس پر بنی وڈیو کو مزاحیہ سمجھ کر انجوائے کرنے والے بہت سے افراد خود اس کا شکار ہوتے ہیں۔

بحیثیت ایک ماہر طب بیہوشی (انیستھیزیا) سوئی سے ڈرنے والے مریضوں کی خدمت کرنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایسے بالغ افراد ہوتے ہیں جن پر انجکشن کا ذکر سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے وہیں کچھ انتہائی بیمار لوگ اسپتال تک پہنچتے ہیں لیکن سوئی کا نام آتے ہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر علاج چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ ہم ایسی نوجوان خواتین سے بھی واقف ہیں جو محض انجکشن لگنے کے ڈر سے ماں نہیں بننا چاہتیں اور گھر نہیں بساتیں۔

خوف یا ڈر (فیئر)

خوف ایک فطری، طاقتور اور قدیمی انسانی جذبہ ہے۔ یہ ہمیں خطرے یا ضرر سے خبردار کرتا ہے یہ خطرہ جسمانی یا نفسیاتی ہو سکتا ہے۔ خوف ایک حفاظتی بندوبست ہے جو ہمیں خطرہ کی شناخت اور اس سے نبٹنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ خطرہ میں ہمارا رد عمل دو عمومی شکل اختیار کرتا ہے :

1۔ مقابلہ کرنا، بھاگ جانا یا منجمد ہوجانا
2۔ خطرے کے سامنے جھک جانا، دوست بنانا، دوسروں سے مدد مانگنا اور صورتحال کو کم خطرناک بنانے کی کوشش کرنا۔

تمام اعلی جانوروں میں خطرے کے ادراک اور اس سے نبٹنے کی حکمت عملی کا نظام موجود ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان کی بقاء ممکن نہیں۔

خوف کا عارضہ یا فوبیا

کسی شے، مقام، صورتحال، احساس یا جانور سے وابستہ ایک ایسا خوف جو انسان پر طاری ہو کر اعصاب کو شل کر کے رکھ دے فوبیا کہلاتا ہے۔ اس عارضہ کے لئے کوئی لیبارٹری ٹیسٹ نہیں۔ جدید نفسیات کے مطابق خوف کے عارضے میں درج ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں :

یہ غیر ضروری، غیر معقول اور اصل خطرے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔
رد عمل میں انسان بہت زیادہ گھبراہٹ یعنی انگزائٹی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
شدید پریشان ہونے کے بعد مریض کی کوشش ہوتی ہے کہ جس شے یا صورتحال سے اسے ڈر لگ رہا ہے اس سے دور بھاگ جائے۔
متاثرہ فرد کے معاملات زندگی مثلاً اسکول، نوکری، ذاتی اور خانگی حیات پر یہ خوف بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
ان علامات کا دورانیہ کم از کم چھ ماہ رہا ہو۔
کوئی دوسرا ذہنی مرض موجود نہ ہو۔

جسمانی علامات

لڑکھڑانا، سر چکرانا، نڈھال یا بیہوش ہوجانا
دم گھٹتا ہوا محسوس ہونا
دل ڈوبنا یا تیز تیز دھڑکنا
سینے میں درد یا سینہ جکڑا ہوا
ٹھنڈے پسینے آنا
یکایک گرمی یا سردی کا احساس
سانس لینے میں دشواری ہونا
جی متلانا، الٹی ہونا یا دست لگ جانا

نفسیاتی علامات

مریض محسوس کرتا ہے کہ وہ بیہوش ہونے والا ہے، اسے خود پر کوئی اختیار نہیں رہا یا موت اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے۔
بعض مریضوں کا رابطہ آس پاس موجود حقیقت سے قطعاً منقطع ہوجاتا ہے۔ علامات کی انتہا میں بہت شدید گھبراہٹ کا دورہ یعنی پینک اٹیک پڑ سکتا ہے۔
اچانک اور شدید خوف کا احساس ایک انتہائی ناخوشگوار اور بھیانک تجربہ ہوتا ہے۔ یہ انسان میں بے چارگی، انگزائٹی اور ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔

اسباب

کئی عوامل ہیں جو خوف کے مرض میں مبتلا ہونے میں کردار ادا کر سکتے ہیں مثلاً

مزاج: برطانوی ماہر نفسیات جیفری ایلن گرے کے حیاتی و سماجی نظریۂ شخصیت کے مطابق کوئی شخص اپنے ماحول کے ساتھ کیسے ربط ضبط کرتا ہے اس کے دو مختلف دماغی نظام ہیں جن کی بنیاد بچپن ہی میں رکھ دی جاتی ہے۔ ایک نظام کو رویہ کا امتناعی نظام کہا جاتا ہے جس میں فرد کو سزا سے ڈرا کر احتراز اور اجتناب کرنا سکھایا جاتا ہے۔ دوسرے نظام کو رویہ کا متحرک نظام کہتے ہیں جس میں فرد کو انعام اور تعریف سے ترغیب دی جاتی ہے اور نئی اشیاء، ماحول اور تجربات سے آشنا ہونے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق جو افراد رویہ کے امتناعی نظام سے گزر کر بڑے ہوتے ہیں ان میں خوف سمیت دیگر انگزائٹی امراض کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

جینیات۔ خاندان کے ایک رکن میں انگزائٹی یا خوف ہونے سے دیگر ارکان میں ان عوارض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

پچھلے تجربات۔ بچپن کے تکلیف دہ اور پریشان کن تجربات مستقبل می خوف کے مرض کا موجب بن سکتے ہیں۔ بسا اوقات اصل واقعہ بظاہر انتہائی معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور متعلقہ شخص اسے بھلا چکا ہوتا ہے۔

خوف اور انسانی ارتقاء

انسان میں خوشگوار اور ناگوار جذبات کے ارتقاء کی پشت پر اصل عامل یہ ہے کہ وہ ماحول کی مطابقت سے ڈھل جانے پر قادر ہو سکے۔

درد کی طرح خوف بھی ایک ناگوار لیکن محرک (موٹیویشنل) کیفیت ہے جو جسمانی ضرر، آس پاس موجود خطرات کے علاوہ انسان کو ایسی حرکات و سکنات سے باز رکھنے میں بھی معاون ہوتا ہے جن سے شرمندگی، احساس جرم اور خجالت کا امکان ہو۔ ہمارے وہ اجداد جو لاکھوں سال قبل خطرناک جانوروں یا بیمار اہل خانہ کے باعث خوف محسوس کرتے تھے ان کی بقاء کے امکانات ہمارے ان اجداد سے کہیں زیادہ تھے جو بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو ان خطرات کے منہ میں دھکیل دیتے تھے۔ خوف کے عارضے کی مختلف اشکال مثلاً اونچائی، تنہائی، اندھیرا، جانور، سرسراتی مخلوق، آسمانی بجلی کی کڑکڑاہٹ، زور دار آواز، تنگ جگہ وغیرہ تمام اقسام کے خوف اصل میں اس حفاظتی نظام کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں جو ہمیں اپنے اجداد سے ورثہ میں ملا ہے۔

انجکشن کے خوف کا عارضہ ہمارے اسی اندرونی ڈر کا نتیجہ ہے جو ہمارے بزرگوں کو زہریلے کانٹوں، ڈسنے والے جانداروں اور نوکیلے پتھروں سے بچنا سکھاتا تھا۔

انجکشن کا خوف ایک عارضہ

سینئر قارئین گواہی دیں گے کہ وہ سالہا سال سے اس خوف سے واقف رہے ہیں لیکن پہلی مرتبہ اسے ایک باقاعدہ مرض اس وقت مانا گیا جب 1994 ء میں امریکی سائیکاٹرسٹ ایسوسی ایشن کی تشخیصی اور شماریاتی دستی کتاب (ڈی ایس ایم) کے چوتھے ایڈیشن میں سوئی کے خوف کو شامل کیا گیا۔

اس شمولیت کا محرک امریکی فیملی ڈاکٹر جیمس ہیملٹن کی وہ تحقیق تھی جس نے اس بیماری میں مبتلا افراد کے مصائب کو عیاں کر دیا۔

ڈاکٹر ہیملٹن نے اندازہ لگایا کہ امریکہ میں کم از کم دس فیصد آبادی اس عارضے کا شکار ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو اپنے اس عذر کی وجہ سے شدید سماجی، طبی اور قانونی مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ لوگ بیمار پڑنے پر اسپتال نہیں جاتے، دوسرے ممالک کی امیگریشن کی درخواست نہیں دیتے کہ کہیں خون ٹیسٹ کرانے یا ویکسین لگوانے کی ضرورت نہ پڑ جائے، رجحان اور شوق کے باوجود نرسنگ اور ڈاکٹری سمیت ان پیشوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں انہیں انجکشن دیکھنے یا لگانے کی ضرورت پڑے اور مجرمانہ تفتیش کے دوران بھی پولیس کو اپنے خون کا نمونہ دینے سے صاف انکار کر کے خود کو قانون کی نظر میں مشکوک بنا لیتے ہیں۔ ہیملٹن نے اس عارضے میں سوئی کو دیکھ کر بیہوش ہو جانے والے مریضوں کا ذکر کیا اور 23 اموات کا بھی حوالہ دیا جن کا سبب خوفزدہ مریض کو انجکشن لگایا جانا تھا۔

سوئی کے خوف کو کیسے کم کیا جائے

جیسے جیسے صحت کی جدید سہولیات عام ہوتی جائیں گی اور کورونا جیسی عالمی وبائیں پھیلیں گی امکان ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو انجکشن اور ضروری ٹیکے لگانے کی ضرورت پڑے گی لہذا اس طرح کے مریض کم نہیں ہوں گے بلکہ زیادہ تعداد میں سامنے آئیں گے۔ کچھ ایسے اقدامات ہیں جن سے یہ شرح کم کی جا سکتی ہے۔

اسپتال آنے والے بچوں کے لئے اسے ایک دلچسپ اور خوشگوار تجربہ بنانا بہت ہی ضروری ہے ان بچوں کو انجکشن سمیت دیگر طبی عملیات کے دوران جلد سن کرنے والی ادویات اور کریموں کا استعمال، ان کی توجہ بٹانے کے لئے کمپیوٹر گیمز اور باتصویر کتب کا استعمال۔ ضرورت پڑنے پر انہیں سکون بخش ادویات دینا اور ماہرین بیہوشی کی مدد طلب کرنا معمول ہونا چاہیے۔

غیر بالغ افراد کو ایسے مقامات سے دور رکھنا چاہیے جہاں ان کے اہل خانہ یا عزیز کا خون بہہ رہا ہو یا انہیں انجیکشن دیا جا رہا ہو۔
ایسی فلموں اور تصاویر کو بچوں کو نہیں دکھانا چاہیے جن میں انسانوں اور دیگر جانداروں کو بڑے بڑے انجکشن لگتے دکھائے گئے ہوں۔

ایسے مریضوں کے علاج کے طریقے

تربیت یافتہ ماہرین کے تحت بات چیت سے علاج یعنی کوگنٹو بی ہیوریل تھراپی۔ ان کے چند سیشن کے بعد اکثر مریض سوئی سمیت اپنے غیر ضروری خوف سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔
خوف کا سامنا کرنا سکھانا یعنی ایکسپوژر تھراپی۔ تربیت یافتہ معالج مریض کو سوئیوں سے بتدریج متعارف کراتے ہیں جس سے خوف سے ابھرنے والی علامات پر قابو پانا آ جاتا ہے۔
ادویات۔ اگر ضرورت پڑے تو ماہرین کی زیر نگرانی گھبراہٹ روکنے والی اور مسکن ادویات کا استعمال مددگار ثابت ہوتا ہے۔

انجکشن کا خوف اور پاکستان

کراچی کے سرکاری اور مصروف ترین اسپتالوں میں کیا گیا ایک تفصیلی اور معیاری سروے جو 2015 ء میں بین الاقوامی ریسرچ جرنل میں بھی شائع ہوا اس موضوع پر ایک انتہائی سنجیدہ اور اہم دستاویز کا درجہ رکھتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 37 % شرکاء نے تسلیم کیا کہ وہ انجکشن کے خوف کا شکار ہیں۔ 24 فیصد نے بتایا کہ ان پر شدید گھبراہٹ کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ جبکہ 23 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ ہمیشہ طبی امداد اور خون ٹیسٹ کرانے سے بھاگتے ہیں۔

اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نا خواندہ اور کم تعلیم یافتہ افراد میں یہ خوف گریجویٹ افراد کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان میں اس عارضے کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ چند ماہ قبل آغا خان یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بغیر درد محسوس کیے سوئی لگانے کا ایک نظام ایجاد کیا ہے جو ابھی طبی جانچ کے مراحل میں ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کیا متوازی طب جیسے ہومیو ہاتھی اور حکمت کی طرف عوامی رجحان اور کورونا سمیت دیگر ویکسین کی مخالفت میں کہیں ایک عامل انجیکشن سے خوف تو نہیں!

اسپتالوں میں مریض کے ساتھ رویہ

خوف کے ان مریضوں میں مارشل آرٹس اور باکسنگ کے کھلاڑی، پیشہ ور فوجی اور سپاہی، ہٹے کٹے مرد و خواتین شامل ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ماضی میں خود کو نشہ آور ٹیکے لگاتے رہے ہیں، کچھ کا پورا بدن گدا ہوا ہوتا ہے اور کچھ نے ناک، کان سمیت جسم کے مختلف اعضاء میں سوراخ کروا کر زیورات پہنے ہوتے ہیں۔ یہ تصور کرنا غلط ہے کہ ایسے افراد کا انجکشن سے خوفزدہ ہونا جائز نہیں۔ معاشرے کو بالعموم اور طبی عملہ کو بالخصوص مریض کے بارے میں تعصب روا رکھنے اور قاضی بن کر سوچنے کے بجائے شفقت آمیز اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

(اس مضمون کی تیاری میں عزیز دوست ڈاکٹر رئیس عرفان نے تنقیدی جائزے اور مفید مشوروں سے نوازا۔ ڈاکٹر عرفان کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور کلینیکل ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ برٹش پاکستانی سائیکاٹرسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *