امریکہ اور چین کی تاریخ سے دو واقعات اور دو تازہ خبریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے تاریخ کے دو واقعات کو آج کی دو خبروں کی روشنی میں جانچتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تاریخ سے کیسے سیکھا جاتا ہے۔

پہلا واقعہ – یہ 1989 کا سال ہے اور جگہ ہے چین میں ’ٹائنامن سکوائر‘۔ دیوار برلن کے انہدام میں ابھی چھ ماہ باقی ہیں اور آہنی پردے کا تار تار ہونا مستقبل کی پیش گوئی ہے، بورس یلسن نے ’بیلاویزا اکارڈ‘ پر ابھی ڈھائی سال بعد دستخط کرنے ہیں اور کریملن سے سوویت یونین کا جھنڈا دسمبر 1991 میں اترنا ہے۔

اپریل کا مہینہ ’ہویاوبینگ‘ کی وفات، سیاسی آزادی کا استعارہ اور شہید جمہوریت قرار۔ طالب علم تیزی سے ’ٹائنامن سکوائر‘ جمع ہو رہے ہیں اور ’اصلاحات‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں، احتجاج آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

می کا مہینہ، بھوک ہڑتال پر بات چلی گئی ہے، سوویت صدر گورباچوف کا دورہ متوقع ہے، مظاہرین اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اب تعداد ایک ملین ہو چکی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ’جاوجان‘ مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کے حامی ہیں اور پریمیر ’لی پنگ‘ آہنی ہاتھ سے نمٹنا چاہتے ہیں اور انہیں سپریم لیڈر ’ڈینگ جاوپینگ‘ کی حمایت حاصل ہے۔

مئی کے آخر میں مارشل لا لگ چکا ہے، لیکن فوج سکوائر تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ بیجنگ کے عوام نے سڑکوں کو بھر دیا ہے، مظاہرین پلاسٹک سے بنی ہوئی ’جمہوریت کی دیوی‘ کے گرد جمع ہیں۔

جون کا آغاز ’پیپل لبریشن آرمی‘ ٹینکوں سمیت چڑھ دوڑتی ہے اور سکوائر خالی کرا لیا جاتا ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ڈھائی سو ہلاکتیں اور سات ہزار زخمی ہیں۔ ہانگ کانگ کے عوام اس کی یاد میں سالانہ ’رت جگا‘ مناتے ہیں۔ گزشتہ سال سے اس برسی کو منانے پر پابندی ہے۔

دوسرا واقعہ – یہ 1921 کا واقعہ ہے شہر ہے ’تلسا‘ جو کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہے۔

30 می کو ’ڈ ک رولینڈ‘ سیاہ فام افریقی تلسا کی ایک بلڈنگ میں لفٹ میں سوار ہوتا ہے، سارہ نامی سفید فام امریکی عورت اس لفٹ کو چلاتی ہے، جیسے ہی لفٹ کا دروازہ بند ہوتا ہے سارہ کے چیخنے کی آواز آتی ہے، لفٹ کھلتی ہے تو رولینڈ بھاگ جاتا ہے۔ لوگ رولینڈ پر شک کرنے لگتے ہیں اور آخرکار پولیس اسے گرفتار کر لیتی ہے۔

31 می اخبارات میں خبر شائع ہوتی ہے کہ رولینڈ نے سارہ سے زبردستی کرنے کی کوشش کی اور اب رولینڈ کو ’سرعام‘ پھانسی دی جائے گی۔ اسی شام سفید فام اور سیاہ فام امریکی جتھے ’کورٹ ہاؤس‘ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں اور اس جھڑپ میں ایک سفید فام امریکی مارا جاتا ہے۔ غصے سے بپھرا سفید فاموں کا یہ گروہ اپنے سیاہ فام ہمسائیوں پر دھاوا بول دیتا ہے اور قتل و غارت کا بازار یکم جون تک گرم رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تین سو آدمی مارے جاتے ہیں جن میں دس سفید فام امریکی ہیں، اس پورے ہنگامے میں سفید فام انتظامیہ کوئی اقدام نہیں کرتی۔ درندوں کا یہ گروہ سیاہ فاموں کی خوشحال ترین شاہراہ لو جسے ’بلیک وال سٹریٹ‘ کہتے تھے، بھی تباہ کر دیتے ہیں، چودہ سو گھر نذرآتش ہوتے ہیں اور دس ہزار لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ وقت کی گرد میں دب جاتا ہے اور ریاست کی ’مثبت امیج‘ دکھانے کی خواہش میں تاریخ سے بھی خارج کر دیا جاتا ہے۔

آئیے اب دو خبروں کو دیکھتے ہیں :

پہلی خبر۔ یکم جون 2021، تلسا حادثے کے ایک سو سال بعد:

امریکی صدر بائیڈن کا ’تلسا‘ کا دورہ اور تین لواحقین جن کی عمر سو سے ایک سو پانچ سال ہے سے ملاقات۔ اور نسلی امتیازات کے خاتمے کا عہد۔ پشیمانی کا اظہار، ’تلسا‘ کے میئر کا ’فیس بک‘ پر اپنی سابقہ انتظامیہ کے رویے پر ندامت کا اظہار۔

دوسری خبر۔ چار جون 2021، ٹائنامن سکوائر کے بتیس سال بعد:

’ہانگ کانگ اتحاد‘ کی نائب صدر ’چاو ہانگ‘ کو صبح کے وقت سادہ لباس میں موجود افسروں نے گرفتار کر لیا، انہیں کالی گاڑی میں بٹھا کر ’نامعلوم‘ مقام پر منتقل کر دیا گیا، انہوں نے اپنی گرفتاری سے ایک دن پہلے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے لوگوں کو ابھارا کہ وہ ٹائنامن کی برسی پراس ظلم کو یاد رکھنے کے لیے اپنی اپنی شمع جلائیں۔ اپنی گرفتاری سے پہلے انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’میں ناگزیر واقعے کے لیے تیار ہوں‘۔

کیا سمجھ آئی؟ درویش کے الفاظ مستعار لیتے ہیں، ’قلم کو پابند سلاسل کیا جا سکتا ہے، تاریخ کے دریا پر بند نہیں باندھا جاسکتا‘ ۔ تاریخ ہماری پسند و ناپسند کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس کا بہاو ہماری ’پیش بندیوں‘ کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔

یہ دو خبریں ہمیں تاریخ سے سبق لینے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔

ماضی کی غلطیوں کو جبر کے ذریعے تاریخ سے محو کر دیا جائے اور اسلاف کے کردار کو خوش نما مقدس گلدستے کی طرح سمجھا اور پڑھا جائے۔

یا

غلطیوں کو تسلیم کر کے، ان سے سبق حاصل کر کے، ان کی ذمہ داری قبول کر کے ان کو نہ دہرانے کا عہد کیا جائے۔

ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ تاریخ سے عبرت تب ہی حاصل ہوتی ہے جب آپ بحیثیت قوم اس کا مطالعہ مذہب، رنگ اور فرقے سے ماورا ہو کر کریں، ’اپنوں‘ کی غلطیوں کو تسلیم کریں ورنہ آپ تاریخ سے بھی جبر کی روایت ہی کشید کریں گے، چرچل نے کہا تھا جو تاریخ کی کسی غلطی سے سیکھنا نہیں جانتے، اس غلطی کا دہرانا ان کے مقدر میں لکھ دیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *