سوشل میڈیا پر پوسٹ کسی نے کاپی کر لی تو شارٹ کیوں ہوتے ہو بھئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے چار پانچ چھ ہزار سال قبل مسیح کے زمانے میں ایک سے ایک بڑا مفکر، فلسفی اور سائنس دان گزرا ہے۔ قدیم ہندوستان ہو یا یونان، مصر ہو یا فارس، روم کی سلطنت ہو یا موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے باسی ان سب میں اعلی ’پائے کے معیشت دان، سیاست دان، مذہبی راہنما، فلسفی اور سائنس دان موجود تھے۔ یہ لوگ سائنس اور دیگر علوم میں کس قدر آگے تھے اس کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ آج ٹچ سکرین اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں بھی الٹرا ماڈرن انسان اہرام مصر پر سر کھپا رہا ہے کہ ہزاروں ٹن وزنی پتھر اتنی بلندی پر کیسے پہنچائے گئے۔

اہرام مصر کیسے تعمیر ہوئے۔ اہرام مصر اس قدر پراسرار اور گنجلک ریاضیاتی مساواتوں اور الگورتھم کے تحت تعمیر کیے گئے ہیں کہ انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ صرف اہرام مصر میں سر چکرا دینے والے شاہکار موجود ہیں۔ مثلاً کسی کا رخ اور جیومیٹری بالکل سورج کی اور زمین کی باہمی گردش کے مطابق تعمیر کی گئی۔ کسی اہرام میں ٹمپریچر مینٹین کرنے کے لئے حیرت انگیز وینٹی لیشن ٹیکنیکس استعمال میں لائی گئیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ اتنا بڑا مضمون ہے کہ ”مصریات“ Egyptology (قدیم مصر کی تاریخ) پر پی ایچ ڈی ہو رہی ہے۔

اسی طرح یونانی فلاسفروں ارشمیدس، ارسطو، سقراط، افلاطون وغیرہ کے نام آپ سب یقیناً جانتے ہیں۔ چندر گپت موریا قدیم ہندوستان کا بادشاہ تھا جس کا مشیر اور اہم ترین گرو کوتلہ چانکیہ تھا۔ اس نے سیاست پر شہرہ آفاق کتاب ”ارتھ شاستر“ لکھی تھی۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں ان سب بڑے دماغوں کے علم کا صرف دس سے بیس فیصد ہم تک پہنچا ہے۔ باقی سب وقت کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گیا۔ وجہ؟

وجہ بہت سادہ ہے۔ اس دور میں علم کی ترویج زیادہ تر سینہ بہ سینہ ہوتی تھی۔ لکھنے کا رواج نہ تھا۔ جو کچھ ہم تک پہنچا ہے وہ فقط اس لئے کہ لکھ لیا گیا تھا ورنہ وہ بھی انہیں نسلوں کے ساتھ دفن ہوجاتا۔ انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا کہ لکھ کر علم کو زیادہ لمبے عرصے تک محفوظ کیا جاسکتا ہے اور اس علم میں آنے والے وقتوں میں آٹومیٹک اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ مثلاً ایک سائنس کے طالب علم کو آج پتا ہے کہ الیکٹران ایٹم کے بنیادی ذرات میں سے ایک ہے۔ اب وہ اس سے آگے پڑھے گا اور سوچے گا۔ لیکن اگر یہی معلومات کسی بھی شکل میں دستیاب نہ ہوں تو ریسرچ اور تھنکنگ پراسیس دوبارہ سے ایٹم سے شروع ہو جائے گا اور الیکٹران تک جانے میں بہت سا وقت ضائع ہو جائے گا۔ یہ سب ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا۔

اب آ گیا سوشل میڈیا۔ اس پر لکھنے کا رواج اور زیادہ ہو گیا۔
ایک سے ایک اچھا مصنف ہر ایک شعبے میں سامنے آ رہا ہے۔
یہ بہت اچھا ٹرینڈ ہے۔ لوگ زیادہ پڑھ رہے ہیں۔ زیادہ جان رہے ہیں۔ آگاہی آ رہی ہے۔

لیکن سوشل میڈیا پر لکھنے والے کئی ایک لوگ اکثر اس بات پر سیخ پا دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں نے میری تحریر کاپی کر لی اور اپنی وال پر چپکا دی۔ اس پر سے میرا نام ہٹا دیا اور ”منقول“ بھائی جان کا نام لکھ دیا۔ یہ بد دیانتی ہے۔ یہ سرقہ ہے۔ پہلے اجازت لینی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔

ان سب لوگوں کی خدمت میں انتہائی ادب سے عرض ہے کہ بھائی لوگو آپ پہلے یہ طے کر لیں کہ آپ لکھتے کیوں ہیں؟

اگر تو آپ لکھتے ہیں آگاہی پھیلانے اور اپنے قیمتی علم سے ہم ایسے جاہلوں کو مستفید کرنے کے واسطے تو میری جان آپ کو اس سے چنداں فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ آپ کی تحریر کاپی ہو گئی یا آپ کا نام ہٹا دیا گیا۔ بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک جا رہا ہے۔ باقی اگر آپ اس لئے لکھتے ہیں کہ آپ کو افلاطون ثانی ڈکلیئر کر دیا جائے تو بھائی اس کے لئے آپ سوشل میڈیا کی بجائے کسی اور پلیٹ فارم یا نیوز ویب سائٹ پر لکھیں یا پھر اپنی کتاب چھپوا دیں جس کے جملہ حقوق بحق افلاطون محفوظ ہوں۔ یہ سوشل میڈیا ہے عالی جاہ۔ یہاں آپ کے منہ سے نکلی بات اور انگوٹھے سے نکلا لفظ آپ کا نہیں رہتا۔ یہ تو کھیل ہی سارا وائرل ہونے وائرل کرنے اور کاپی پیسٹ کا ہے۔ آپ کس کس کو روکیں گے؟

رہ گئی اخلاقیات کی بات تو سوشل میڈیا کی اپنی اخلاقیات ہیں۔ یہاں کاپی پیسٹ قابل تعزیر جرم نہیں ہے۔

لہذا آپ ریلیکس کریں یار۔ چل کریں۔ لکھتے رہیں۔ دوسروں کو فیض یاب کرتے رہیں۔ یقین کیجیے اس سے آپ کا علم گھٹے گا نہیں بلکہ اور بڑھے گا۔ اور انسانیت کے کام آئے گا۔

ورنہ آپ بھی ان گنت یونانی فلاسفہ اور زمانہ قبل از مسیح کے بے نام لکھاریوں اور مفکروں کے ساتھ بمع اپنے علم کے دفن ہوجائیں گے۔

باقی یہاں سب خیریت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *