مہناز یتیم اور لاوارث بچوں کیلئے شیلٹر ہوم بنانے کی خواہش مند ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مہناز تبسم کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ سپیشل ایجوکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ گورنمنٹ سکول میں چودھویں سکیل کی ٹیچر ہیں۔ مہناز کی کلاس کا رزلٹ پچھلے سالوں سے 100 ٪ چلا آ رہا ہے۔ مہناز مستقبل میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے لئے جدید طرز کا شیلٹر ہوم بنانے کی خواہش مند ہیں۔

مہناز کے والد صاحب محکمہ انکم ٹیکس سے ریٹائرڈ ہیں۔ والدہ صاحبہ وفات پا چکی ہیں۔ خاندان دو بھائی اور دو بہنوں پر مشتمل ہے۔ بڑے بھائی انجینئر، چھوٹے فزیو تھراپسٹ، جبکہ بہنوں نے بھی اعلٰی تعلیم حاصل کی ہے۔ چاروں شادی شدہ ہیں اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

مہناز کی زندگی بڑی حد تک نارمل گزری۔ کھیلنا، کودنا، دوڑنا شیطانیاں کرنا بچوں سے ملتا جلنا، بس فرق یہ تھا کہ نارمل بچوں کی طرح بھاگ نہیں سکتی تھیں۔ کھیلتے کھیلتے جلدی تھک جاتی تھیں۔ اونچا بولنے اور شور مچانے میں دقت محسوس کرتیں۔ نویں جماعت میں مہناز ایک بار پندرویں سیڑھی سے گریں۔ گریں بھی کچھ اس طرح کہ ہر سیڑھی کمر کو زخمی کرتی چلی گئی۔ اس واقعے کے بعد مہناز سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے لگیں۔ چیک اپ کے بعد پتہ چلا کہ دل کے ایک وال میں کچھ گڑبڑ ہے۔ خیر ڈاکٹر نے دوائیاں دے دیں اور نصیحت کی کہ زیادہ تھکنے والا کام نہ کیا کریں۔ اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ مہناز نے ڈاکٹر کی ہدایت پر سختی سے عمل کیا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ مسئلہ دوائیوں سے ہی حل ہو گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزوری بڑھتی چلی گئی۔ مہناز کو جس کام میں دقت پیش آتی تو کسی کو بتائے بغیر وہ کا ہی کرنا چھوڑ دیتیں۔

ایک دفعہ گھر کے تمام افراد شادی کی تقریب میں گاؤں جا رہے تھے۔ سارے ایک ایک کر کے وین میں با آسانی سوار ہوتے چلے گئے۔ جب مہناز کے چڑھنے کی باری آئی تو معاملہ مختلف ہو گیا۔ مہناز چڑھنے کے لئے وزن کو آگے دھکیلنے کی کوشش کرتیں۔ وزن آگے جانے کے بجائے واپس پیچھے کی جانب آ جاتا۔ بڑی کوشش کے باوجود وین میں سوار ہونے میں ناکام رہیں۔ آخرکار والدہ صاحبہ اور بہنوں نے سہارا دے کر وین میں بٹھایا۔ شادی کی اس تقریب میں خاندان کے کسی بندے نے مہناز کے گھر والوں کو بتایا کہ مہناز کی چال نارمل لڑکیوں سے کچھ مختلف ہے۔

اس واقعے نے گھر والوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ واپس آنے کے بعد ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مہناز کو راولپنڈی کے مشہور آرتھو پیڈک سرجن پروفیسر سلیم کے پاس لے جایا گیا۔ جنھوں نے بڑے تحمل کے ساتھ سعدیہ سے سوال جواب کیے۔ اس کے بعد رائے دیے بغیر تین ماہ کی دوائی لکھ دی اور احتیاطی تدابیر بتا دیں۔ اچھی خوراک کے ساتھ معاملات زندگی کو جاری رکھنے کا کہا۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ مہناز کی کمزوری میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اس دوران گھر والوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف ڈاکٹرز سے بھی رائے لینے کی کوشش کی۔ ہر ڈاکٹر کی رائے دوسرے سے مختلف تھی۔ تین ماہ بعد مہناز کو جب دوبارہ ڈاکٹر سلیم کے پاس لے جایا گیا۔ مہناز نے تین ماہ کے دوران اپنے اندر ہونے والی تبدیلیوں سے ڈاکٹر کو آگاہ کیا تو وہ کچھ دیر کے لئے چپ ہو گئے اور کہنے لگے کہ میں مہناز کے مرض کے بارے میں آپ کو آگاہ کرنے جا رہا ہوں۔ آپ سب نے دل کو مضبوط رکھتے ہوئے بات سننی ہے۔

آپ کی بیٹی مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہے، جس کا تاحال دنیا میں کوئی علاج نہیں۔ مسکولر ڈسٹرافی کا سنتے ہی گھر والے اداس ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے مہناز سے کہا کہ مرض کو رب کی رضا سمجھ کر قبول کریں۔ زندگی جینے کے دو طریقے ہیں۔ ایک مایوسی کے ساتھ وقت گزارنے کا جبکہ دوسرا حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کرنے کا ہے فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

مہناز کی ابھی تک بائی آپسی نہیں ہوئی تھی۔ بائی آپسی کے لئے اسلام آباد کے پمز ہاسپٹل سے رابطہ کیا گیا۔ جہاں مہناز کے کیس میں ڈاکٹرز کی ٹیم دو حصوں میں بٹ گئی۔ خیر بائی آپسی کے بعد مسکولر ڈسٹرافی کی تصدیق ہو گئی۔ مہناز نے ہار ماننے کے بجائے بیماری سے لڑنے کا فیصلہ کیا اور مرض کو خدا کی رضا سمجھ کر قبول کر لیا۔

خاندان کے سب افراد مہناز کی صحت کے حوالے سے پریشان تھے۔ ڈاکٹر سے مشوروں کا سلسلہ چل رہا تھا۔ غیر یقینی صورتحال میں بھی والد صاحب نے مہناز کے تعلیمی سفر کو منقطع نہیں ہونے دیا۔ مہناز نے بہاری کے ساتھ بی ایڈ اور ایم ایڈ کے امتحانات پاس کیے۔

ابھی مہناز پڑھائی سے فارغ ہوئیں تھیں کہ والد صاحب کی نظر سے پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے اساتذہ کی بھرتی کا اشتہار گزرا۔ والد صاحب نے فوری طور پر مہناز کے کاغذات جمع کروا دیے۔ مہناز اپنی قابلیت کے بل بوتے پر نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اب مہناز نے رتہ امرال کے سکول میں جوائننگ دینی تھی۔

مہناز کی جوائننگ سے قبل والد محترم نے دونوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور کہنے لگے کہ آپ کی بہن گورنمنٹ جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اسے سکول لانے لے جانے کی ذمہ داری میری ہے۔ لیکن اگر کبھی میں بیمار ہو گیا یا کسی وجہ سے یہ ذمہ داری نہ نبھا سکا تو یہ کام آپ دونوں کو کرنا ہوگا۔ دونوں بھائیوں نے والد صاحب کے حکم پر لبیک کہا۔ اس طرح مہناز کی نوکری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

جوائننگ کے فوری بعد سکول کی ہیڈ میڈم عطیہ طاہر نے سعدیہ کو اپنے آفس میں بلا یا اور کہنے لگیں کہ آپ کو صحت کے حوالے سے جو بھی مسئلہ درپیش ہے آپ ہمیں کھل کر بتائیں ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ کو ڈیوٹی کے دوران دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مہناز نے کہا کہ میں زیادہ چل نہیں سکتی اور نہ ہی زیادہ دیر کھڑی رہ سکتی ہوں۔ رش میں انھیں گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے اور یہ گھبرا کر گر جاتی ہیں۔ پرنسپل نے مہناز کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں سارے پیریڈ ایک ہی کلاس میں دے دیے۔ مہناز نے اس کلاس کو نرسری سے پانچویں جماعت تک پڑھایا۔ مہناز نے بچوں کو بڑا ہی دوستانہ ماحول فراہم کیا۔ یہ بچے آج بھی انھیں یاد کرتے ہیں اور ملنے آتے ہیں۔

2014 ء میں مہناز ایک رات دوائی کے لئے اٹھیں، توازن برقرار رکھنے کے چکر میں گر گئیں۔ گرنے کے نتیجے میں دائیں ٹانگ میں فریکچر ہو گیا۔ گرنے سے پہلے سعدیہ موٹر سائیکل پر سفر کر لیا کرتیں تھیں، تھوڑا بہت چل لیا کرتیں تھیں لیکن فریکچر کے بعد یہ سب ختم ہو گیا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد جب سکول جانا ہوا تو حالات کافی مختلف تھے۔ بھائی مہناز کو ویل چیئر اور گاڑی میں شفٹ کیا کرتے۔ سکول میں بھی ٹیچرز اور گارڈز کی مدد لینا پڑتی تھی۔

مہناز کے بیشتر کام چھوٹے بھائی کیا کرتے تھے۔ لیکن کچھ مشکلات کی بناء پر اب ممکن نہ رہا تو بڑے بھائی نے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ مہناز کو چھوٹے بھائی کے ساتھ کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ جب بڑے بھائی نے ذمہ داری لی تو انھیں ڈر لگنے لگا کہیں یہ ان کے ہاتھ سے پھسل ہی نہ جائیں۔ اس پوری صورتحال میں سکول کی پرنسپل نے مہناز کا بھر پور ساتھ دیا۔ ان کی صحت کو مدد نظر رکھتے ہوئے پیریڈ اس طرح ترتیب دیتیں کہ انھیں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مہناز نے رعایت کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ خوب محنت کی 2016 ء میں پی ای سی میں ان کی کلاس کا رزلٹ 100 ٪ رہا۔

2017 ء میں مہناز نے اپنی ٹرانسفر گھر کے نزدیک ترین سکول آریا محلے میں کروا لی۔ سکول گھر سے دس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ ساتھ ہی ایک الیکٹرک ویل چیئر بھی خرید لی۔ جس کی مدد سے سکول آنے جانے کا سلسلہ با آسانی شروع ہو گیا۔

14 اگست 2017 ء کی شام گھر والے سیر کو کہیں جا رہے تھے۔ بھائی نے مہناز کو گاڑی میں بٹھانے کے لئے کھڑا کیا۔ مہناز نے ابھی دروازہ پکڑا ہی تھا کہ دھڑام سے زمیں پہ جا گریں۔ جس کے نتیجے میں دائیں ٹانگ میں دوبارہ فریکچر ہو گیا۔ مہناز چاہتیں تو با آسانی میڈیکل لیو کے لئے اپلائی کر سکتی تھیں۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ڈاکٹر سے درخواست کی ان کا پلستر گھٹنوں سے نیچے نیچے رکھیں۔ تاکہ ان کی ٹانگ مڑ سکے اور یہ اپنا سکول جاری رکھ سکیں۔

ڈاکٹر صاحب مہناز کی اس بات سے بہت حیران ہوئے۔ سکول کھلے تو مہناز نے پلستر والی ٹانگ کے ساتھ سکول جانا شروع کر دیا تاکہ بچوں کی پڑھائی کا حرج نہ ہو۔ سکول کی موجودہ پرنسپل میڈم شفیقہ، مہناز پر بہت مہربان ہیں۔ کوشش کرتی ہیں کہ انھیں کسی موقعے پر پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مہناز 2017 ء سے آریاء محلے کے سرکاری سکول میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ مہناز کی انتھک محنت اور علم دوستی کی وجہ سے ان کی جماعت کا رزلٹ 2017 ء سے آج تک 100 ٪ آتا رہا ہے۔

مہناز کو فارغ رہنا پسند نہیں ہے۔ سکول کی مشکل جاب کے بعد بھی ہار نہیں مانتیں۔ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے شام کے وقت بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتی ہیں۔ مہناز خصوصی لڑکیوں کو پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اپنے آپ کو تعمیری سرگرمیوں مصروف رکھنے کی کوشش کریں، کیونکہ جب آپ وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں تو راستے خود بخود ہی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *