تدریسی اداروں میں تحقیقی بدعنوانیاں: ’فرسٹ آتھر‘ کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو ہمارے ملک کی نام نہاد علمی دنیا بڑی حد تک ناکام دنیا داروں کی دنیا ہے۔ یہاں ایسے ’ڈیفیکٹیڈ پیس‘ بھرے ہیں جو کہ فوجیوں، بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کو دیکھ کر رال ٹپکا رہے ہیں اور جل کڑھ رہے ہیں۔ ان ’علمی فنکاروں‘ کے پاس بہت محدود طاقت ہے۔ ان کی طاقت صرف اپنے کلاس رومز تک محدود ہے۔ ان کی ناطاقتی نے ان کو سر تا پا بدعنوان بنا دیا ہے۔ مگر ان کی بدعنوانی کن کن صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے؟ سب سے پہلی صورت ہے کام چوری۔

اپنی کلاسز نہ لینا، کلاس رومز میں تلاش گمشدہ کے اشتہار بنے رہنا۔ جب سے کرونا پھیلا ہے سرکاری جامعات کے اساتذہ کی بڑی تعداد نے سو فیصد وظیفہ خوری اور حرام خوری کی زندگی اختیار کرلی ہے۔ رہا سہا پڑھانے کا ڈھکوسلہ بھی اب الحمدللہ ختم ہوا۔ مگر بدعنوانیوں کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا، یہ سلسلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہے طلبہ کا استحصال۔ اس استحصال میں عموماً جنسی استحصال کافی مرتبہ زیر بحث آتا ہے۔ مگر وہ تو بہر حال آج بھی بہت کم ہے اور فوراً پکڑ میں آ جانے والا معاملہ ہے۔ اس سے مختلف اور بڑے استحصال بھی جامعات میں جاری ہیں جن کا کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بلکہ پوچھنے والا کوئی کیسے ہوگا جب کہ یہ شعور ہی نہیں کہ باتیں استحصال میں شامل ہیں؟

میں جب آئی سی پی میں ایم فل کا طالب علم تھا تب ایک مرتبہ میری سپروائزر صاحبہ نے مجھے کوئی بیس یا پچیس تحقیقی فارمز سے بھرے تھیلے دیے کہ میں ان تھیلوں میں موجود فارمز ’اسکور‘ کر کے لے آؤں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سپروائزر کے سامنے ’نہ‘ تو کہا جاسکتا نہیں۔ ان کے قبضے میں آپ کی تحقیق ہوتی ہے اور اگر وہ آپ سے ناراض ہو جائیں تو آپ کی تحقیق کبھی بھی مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ کئی کلو فارم کے تھیلے میں رکشے میں بھر کر اپنے گھر لے آیا۔

میں جب بھی وہ تھیلے کھولتا تو خودکشی کرنے کا دل چاہتا۔ ایک ایک فارم کو اسکور کرنے میں کم از کم آدھا گھنٹہ لگتا تھا اور فارم لامحدود معلوم ہوتے۔ میرے لئے وہ فارم اسکور کرنا ناممکن تھا۔ میں نے اپنی سپروائزر صاحبہ کو اس دھوکے میں رکھا کہ میں وہ فارم اسکور کر رہا ہوں اور جب مقالہ جمع ہو گیا ور ’وائیوا‘ بھی ہو گیا تو ان سے معذرت کر کے ان کو فارم واپس کیے۔ انہوں نے برا منایا مگر اب وہ کیا کر سکتی تھیں؟

اس نوع کے ہزار کام اساتذہ طلبہ سے کرواتے ہیں جن سے خود تو ان کو پیسے یا ترقی ملتی ہے مگر طلبہ کے حصے میں صرف محنت و خواری آتی ہے۔ طلبہ یہ سب اپنی ڈگری کے لئے کرتے ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑی ایک بدعنوانی موجود ہے جس پر کبھی بات ہی نہیں کی جاتی۔ وہ ایک ایسی لعنت ہے جس کو کہ سب نے خوشی خوشی قبول کیا ہوا ہے مگر وہ لعنت کیا ہے؟

اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے اس کے تناظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ پہلے وقتوں میں جامعات میں پی ایچ ڈی اساتذہ بہت کم ہوا کرتے تھے۔ جو تھے وہ ایسے تھے جن کو کہ تحقیقات کرنے کا خود ہی شوق تھا۔ پی ایچ ڈی نہ کرنے سے کسی استاد کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ اساتذہ کی ترقی ان کے پڑھانے کے تجربے سے ہوجاتی تھی۔ اس دور میں بغیر پی ایچ ڈی اساتذہ پروفیسر بھی بن جاتے تھے۔ پی ایچ ڈی الاونس بھی نہایت واجبی سا تھا۔

جب پی ایچ ڈی لازم نہیں تھا تو تحقیقات بھی بہت کم ہی ہوتی تھیں۔ بعد میں ایسے قواعد جامعات میں آئے کہ جن کی وجہ سے غیر پی ایچ ڈی اساتذہ کو اسسٹنٹ پروفیسر سے آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر بننے کے لئے کم از کم دس تحقیقات اور پروفیسر بننے کے لئے کم از کم پندرہ تحقیقات کو لازمی کر دیا گیا۔ اس تبدیلی نے جامعات میں ایک قسم کی دوڑ شروع ہو گئی۔

مثل مشہور ہے کہ نزلہ ہمیشہ عضو ضعیف پر گرتا ہے۔ اس مثل کے مصداق اس دوڑ میں بیگار کے مزدور کا کردار طلبہ کے حصے میں آیا۔ یہ طلبہ کون تھے اور ان کے ساتھ کیا استحصال ہوا؟ یہ بیچارے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ تھے جو کہ اس ’چوہا دوڑ‘ میں شامل اساتذہ کے تحت تحقیق کر رہے تھے۔ اساتذہ نے ان کی تحقیقات میں اپنے نام ٹھونسنے شروع کیے۔ تحقیق میں مصنف (یا عرف عام میں ’آتھر‘ ) ہونے کے بھی درجات ہیں۔ مصنف اول (فرسٹ آتھر) وہ ہو سکتا ہے جس کا کہ اس تحقیق میں سب سے زیادہ کام ہو۔

اسی حساب سے درجات طے کرنا ہی تحقیق کے عالمی معیارات کے عین مطابق ہے۔ تحقیق کی اشاعت میں معاون مصنف (کورسپانڈنگ آتھر) کوئی بھی بن سکتا ہے۔ ایسی تحقیقات جن میں کہ ایک سے زائد محققین ہوں اور کوئی ایک آتھر ایسا ہو جو کہ دراصل تحقیق کا سرپرست (یعنی سپروائزر) ہو تو عالمی قائدہ یہ ہے کہ اس صورت میں سرپرست ’کورسپانڈنگ آتھر‘ بنتا ہے اور سب سے ’آخری آتھر‘ بھی وہی ہوتا ہے۔ اس میں حکمت یہ بھی ہے کہ طالب علم تو اپنی تحقیق کر کے چلا جائے گا مگر استاد کیونکہ جامعہ کا ملازم ہے اس لیے اس سے بعد میں بھی تحقیق کے حوالے سے کوئی خط و کتابت کی جا سکتی ہے۔

ہمارے ملک میں اساتذہ نے اس معاملے میں عجیب ہی کھیل شروع کیا۔ وہ طلبہ کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تحقیقات میں ’فرسٹ آتھر‘ بننے لگے۔ طالب علم کو آخری آتھر اور اکثر مرتبہ کورسپانڈنگ آتھر بنایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں طلبہ اپنا ایم فل اور پی ایچ ڈی عموماً عملاً خود ہی سپروائز کرتے ہیں۔ اساتذہ کی اس میں دلچسپی محض واجبی سی ہوتی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد کسی بھی تحقیق سے بس ایک آدھ ایسی ’پبلیکیشن‘ نکلوانا ہوتا ہے کہ جس میں وہ خود ’فرسٹ آتھر‘ ہوں۔

جب کوئی جدید دنیا کا محقق ہمارے ملک کے تحقیق جرنلز پڑھتا ہوگا تو اسے کتنا عجیب لگتا ہوگا؟ وہ آتھرز کی ترتیب کے اعتبار سے استاد کو طالب علم اور طالب علم کو استاد سمجھ بیٹھتا ہوگا۔ بات یہاں تک ہی رک جاتی تو بھی غنیمت تھا۔ اب تو اساتذہ اپنے طلبہ و طالبات کے تحقیقی مقالہ جات میں اپنے کسی بھائی بہن، دوست احباب یا رشتہ دار کا نام بھی ڈال دیتے ہیں۔ اب تقریباً تمام ہی جرنلز میں پبلیکیشن فیس مقرر کردی گئی ہے جو کہ بیچارے طالب علم کی جیب سے ادا ہوتی ہے۔

یہ ایسا ظلم ہے کہ جس پر سوال اٹھانے والا کوئی بھی نہیں۔ جن پر یہ ظلم ہوتا ہے وہ اس پر بات کر سکتے نہیں اس لیے کہ وہ کمزور ہیں۔ وہ کچھ بولیں تو ان کا مقالہ روکا جاسکتا ہے بلکہ ایسے حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں کہ وہ خودکشی تک آمادہ ہوجائیں۔ مجبوراً اس جبر کو خاموشی سے برداشت کیا جاتا ہے اور نتیجتاً اساتذہ کئی کئی درجن تحقیقات کرلیتے ہیں۔ ایسی تحقیقات جن میں کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا ہوتا۔ ایسی تحقیقات کہ جن کے نتائج تو کیا عنوانات تک ان کو یاد نہیں ہوتے اور مزے کی بات دیکھئے کہ ایسی تمام تحقیقات میں یہ اساتذہ ’فرسٹ آتھر‘ ہوتے ہیں۔ مگر وہ تحقیقات نہ صرف ان کے ’سی وی‘ میں درج ہوتی ہیں، وہ ان سے ترقی اور دیگر فوائد حاصل کرتے۔

آج کی تاریخ میں طلبہ اپنی کمزور پوزیشن کی وجہ سے عملاً اساتذہ کے ’کمی‘ یا ’ہاری‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایک زمانے میں طلبہ و طالبات اپنی مرضی سے تحقیقی سپروائزر کا چناؤ کرتے تھے مگر اب اکثر اداروں میں ان سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ کوئی بھی سپروائزر ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے جو کہ ان کی تحقیق میں صریحاً کوئی معاونت بھی نہیں کرتا بس ان کی تحقیقات میں ناصرف حصہ دار بن بیٹھتا ہے بلکہ ان کی پبلیکیشنز میں پہلا آتھر بھی۔

یہ تحقیقات ایچ ای سی کے نام نہاد تصدیق شدہ جرنلز میں شایع ہوتی ہیں مگر کوئی ایچ ای سی کا اہلکار بھی کبھی یہ جاننے کی سعی نہیں کرتا کہ ان تحقیقات میں کس کس طرح طلبہ کا استحصال کیا گیا۔ اسی طرح یہ استحصالی نظام چلتا رہتا ہے اور اسی چکی سے پس کر نکلنے والے طلبہ ہی جب اساتذہ بنتے ہیں تو یہی سلوک اپنے طلبہ کے ساتھ کرتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس کوئی اور کرداری نمونہ موجود ہی نہیں۔ وہ تو اپنے اساتذہ کی پیروی ہی کر رہے ہیں۔ یہ ایسا اخلاقی پھکڑپن ہے کہ جس کا ہمارے تعلیمی اداروں میں کسی کو شعور بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *