پھرتے ہیں ”شیر خوار“ کوئی پوچھتا نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چاچا نجام دین ( نظام دین ) ہمارے بچپن کے دنوں میں ریڈیو پاکستان کا ایک بہت منفرد اور انتہائی ہر دلعزیز کردار تھا۔ ان دنوں ہمارے دیہاتی وسیب کا شاید ہی کوئی چوپال، کوئی ڈیرہ ایسا ہو جہاں نجام دین کے تذکرے نہ ہوتے ہوں۔ کوئی بیٹھک ایسی نہ تھی جہاں اسے کووٹ نہ کیا جاتا ہو۔ نجام دین ہر ”پریاں“ کا پرس اور ہر گھر کا فرد تھا۔ سر شام چوپالیں، منڈلیاں سج جاتیں۔ ایک بڑے سائز کا ریڈیو درمیان میں رکھ دیا جاتا۔

چاچے نجام دین کا پروگرام شروع ہوتا تو بس چاچے کی آواز آ رہی ہوتی یا پھر سامعین کے قہقہوں کی آواز۔ نجام دین کی آ واز میں بلا کا رچاؤ اور بڑی خوش کن گمبھیرتا تھی۔ بھاری بھرکم مگر دل موہ لینے والا لہجہ۔ ان دنوں ابھی ٹیلیویژن کا چلن اتنا عام نہیں تھا اور دیہات میں تو اس کی رسائی بالکل نہیں تھی۔ لہذا دیہاتی بھائیوں کے لئے واحد انٹرٹینمنٹ چاچا جی کا پروگرام ہی تھا اور وہ اس بارے میں خاصے خوش قسمت واقع ہوئے تھے۔

اس زمانے میں اگر ریٹنگ کا رواج ہوتا تو یقیناً یہی پروگرام ٹاپ پر ہوتا۔ چاچا جی بڑی پر حکمت باتیں مزاحیہ انداز میں کرتے اور سامعین لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ جس موضوع کا بھی انتخاب ہوتا کمال ہو جاتا۔ ایک دن پروگرام میں شرارتی بچوں کا ذکر چھڑ گیا تو چاچے نجام دین نے اپنا اک قصہ سنایا۔ کہنے لگا، ”اک دفعہ دوسرے شہر جا نے کے لئے بس میں سوار ہوا تو دیکھا کہ میرے ساتھ سیٹ پر ایک بوڑھی اماں اور اس کا چھ سات سال کا پوتا بیٹھے تھے۔

بچہ بالکل میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور اس نے ہاتھ میں اٹھنی پکڑی ہوئی تھی۔ اگلا سٹاپ آیا تو بچے نے پوری قوت سے اپنی کہنیاں ہلائیں اور اٹھنی آ گے کرتے ہوئے اپنی دادی سے چیخ کر کہا،“ اماں! مینوں کوئی چیج لے دے ”( مجھے کوئی چیز لے دو ) ۔ اس کی بائیں کہنی پورے زور سے میرے پیٹ میں لگی اور میری گویا جان نکل گئی۔ اس کی اماں نے کہا اگلے سٹاپ پر آپ کو کچھ لے دوں گی۔ اگلا سٹاپ آیا تو پھر اس بچے نے لاڈ میں آ کر ہلنا اور کہنیاں مارنا شروع کر دیا۔

وہ پھر وہی مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے کھانے کے لئے کوئی چیز لے دو۔ میرا پیٹ اور پسلیاں ایک مرتبہ پھر اس کے ٹارگٹ پہ تھیں۔ اب کہ اماں نے دوبارہ اسے اگلے سٹاپ کا کہہ کر ٹرخا دیا۔ اگلے سٹاپ پر ایک بار پھر بچے کی زوردار کہنی میری“ وکھی ”میں پڑی۔ وہ ہاتھ میں پکڑی اٹھنی کی کوئی چیز لینے کا مطالبہ دہرا رہا تھا۔ اب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے جیب سے ایک اٹھنی نکالتے ہوئے اس بڑھیا سے کہا،“ اماں! اک اٹھنی ایس کولوں لے تے اک اٹھنی میرے کولوں لے اور اینہوں موت لے دے۔ ”

بچوں کو آپ پیا ر کر سکتے ہیں! انہیں پسند کر سکتے ہیں اور انہیں ناپسند بھی کر سکتے ہیں لیکن آپ انہیں ”اگنور“ نہیں کر سکتے۔ وہ جہاں بھی ہوں آپ کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں! کبھی معصوم شرارتوں کی وجہ سے اور کبھی شرارتی معصومیت کی وجہ سے! بقول شخصے بچوں میں بس یہی خرابی ہے کہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ انگریزی میں ایک قول ہے کہ بچوں کی موجودگی روح کی تسکین کا باعث ہے۔ بچے عموماً سب کو اچھے لگتے ہیں لیکن اگر اپنا ہو تو، ”ایں چیز دیگرے است“ ۔ ایک ”سکول آف تھاٹ“ یہ بھی ہے کہ بچے اپنے اچھے لگتے ہیں اور بیوی ہمسائے کی! لیکن اس سکول آف تھاٹ کے پیروکاروں کو ہمارا مشورہ ہے کہ اس ’فلاسفی‘ کے پیش نظر ان کا ہمسایہ بھی یہی ”حسن ’زن‘ “ رکھنے کا پورا استحقاق رکھتا ہے۔

ہم سب اپنے بچوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن کچھ والدین اس ضمن میں تمام حدیں عبور کرتے ہوئے اپنے بچے کی ایسی خوبی بھی گنوا جاتے ہیں جو دراصل بچے میں موجود نہیں ہوتی، بس ان کی خواہش ہو سکتی ہے۔ انگلش میں ایک بہت خوبصورت قول ہے کہ

۔ ”Every Mother Says her child is wise، he may be otherwise“ ۔

بسا اوقات بچے کی تعریف میں موقع محل کا خیال نہیں رکھا جاتا! کھانے کی میز پر بیٹھے مہمان کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے، بچے کو مہذب ثابت کرنے کے لئے باتھ روم میں اس کی ”مصروفیات“ کا تذکرہ چھیڑ دیا جاتا ہے۔ مقصد مہمان کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ اتنا مہذب ہے کہ وہ ’باتھ روم‘ سمیت ہر جگہ طور طریقوں کا خیال رکھتا ہے۔ ایسے میں مہمان بیچارہ ابکائیوں کے ساتھ بچے کو داد دے رہا ہوتا ہے۔

لیکن سب سے دلچسپ صورت حال تب پیش آتی ہے جہاں کوئی تین چار سالہ بچہ کوئی نظم وغیرہ یاد کر لیتا ہے اور گھر میں سب کو ترنم کے ساتھ سناتا پھرتا ہے۔ پھر اک روز کوئی بہت معزز مہمان گھر میں آتا ہے تو اس کے سامنے بچے کی تعریف کی جاتی ہے کہ اسے بہت کچھ یاد ہے جو آپ کو سنائے گا۔ مہمان کے اصرار پر بڑے چاؤ سے بچے کو بلایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا وہی ”آئٹم“ پیش کرے۔ بچہ بالکل خاموش ہوتا ہے۔ پھر مہمان سمیت تمام گھر والے ہر طرح کی کوشش کرتے ہیں لیکن بچہ اک لفظ بھی نہیں بولتا۔

سب لوگ تھک ہار کر چپ کر جاتے ہیں۔ اتنے میں مہمان کے جانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ گھر والے مہمان کو باہر تک چھوڑ کر جب واپس آتے ہیں تو وہی بچہ دروازے پر کھڑا بڑے خشوع و خضوع سے وہی ’آئٹم ”پیش کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اس کی“ دھون ”پر ایک مکا پڑتا ہے، اور وہ“ تان سین ”لڑھکتا ہوا دور جا گرتا ہے! اسے اس مکے کی شان نزول سمجھ نہیں آتی جو دراصل وہ محاورہ ہے کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا مکا اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔

پھر ایسے مشاق مصور و خطاط بچوں کی بھی ہمارے ہاں کمی نہیں جو اپنے فن کے مظاہرے کے لئے گھر کی دیواروں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ کیا ہوتا ہے کہ آپ کا قیمتی پین صاحبزادے کے ہاتھ لگا اور پھر تازہ پینٹ کی ہوئی دیوار پر خط نستعلیق پر ہاتھ صاف ہو رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ پین کے ستیاناس پر ڈانٹا جائے یا دیوار کا کباڑا ہونے پر۔ آپ لاکھ سمجھاتے بجھاتے اور ڈانٹتے ہیں لیکن ”صادقین“ صاحب بضد ہیں کہ اسی ’برش‘ اور ’کینوس‘ سے ’مشق فن‘ جاری رکھی جائے گی۔

اور کباڑا صرف شرارتوں پر ہی کیا موقوف ہے بعض اوقات بچے کی معصومیت بھی یہی کام کرتی ہے اور بدرجۂ اتم کرتی ہے! جیسے ایک معصوم سے بچے کو اس کی والدہ نے ساتھ والے گھر سے چینی لینے بھیجا۔ بچے نے دستک دی۔ آنٹی آئی تو بچے نے چینی مانگی۔ آنٹی نے خوش ہو کر پلیٹ بھر کر چینی دی اور بچے سے پوچھا، ”بیٹا! آپ کی ماما اور کیا کہہ رہی تھیں؟“ بچے نے پلیٹ پکڑی اور کہا، ”ماما کہہ رہی تھیں کہ اگر یہ گھٹیا عورت چینی نہ دے تو اگلے گھر سے لے آنا۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *