پاکستان بیت المال کے سالانہ بجٹ میں اضافے کی ضرورت


گزشتہ ڈیڑھ سال میں کرونا سے پیدا ہونے والی صورتحال نے عام آدمی کی آمدن پر بہت بوجھ ڈالا ہے۔ گو اس عرصے میں حکومت نے غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن معاشی سرگرمیاں کم ہونے کی وجہ سے غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں غربت کے خاتمے کے لئے سرگرم حکومتی اداروں خاص طور پر پاکستان بیت المال کے بجٹ میں مناسب اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وفاقی ادارہ مقدور بھر وسائل سے اپنے متنوع پروگراموں کے ذریعے پاکستان کی غریب عوام کی بھر پور داد رسی کر رہا ہے۔

انفرادی مالی اعانت کے پروگرام کے تحت پاکستان بیت المال اس وقت مہلک بیماریوں میں مبتلا لاکھوں غریب و نادار مریضوں، ضرورت مند طالبعلموں، بیواؤں، یتیموں اور معذور افراد کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ اس ادارے کی پیشہ ورانہ خدمات اور مہارت کا صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سمیت کئی دیگر حکومتی عہدیدار اعتراف کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے غریب اور مزدور طبقے کی بحالی کے لئے جب پناہ گاہیں قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو پاکستان بیت المال نے فوراً وزیر اعظم کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات کیے اور چند ہی مہینوں میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں پناہ گاہیں قائم کر دی گئیں، جہاں لاکھوں غریب، نادار، طالبعلم، بڑے شہروں میں آنے والے دیہاڑی دار مزدور، مریض اور ان کے لواحقین نہ صرف عزت کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف تین وقت کے مفت کھانے بلکہ رہائشی سہولیات سے بھی استفادہ کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم کے ”کوئی بھوکا نہ سوئے“ پروگرام کے تحت یہ ادارہ کسٹمائزڈ گاڑیوں کے ذریعے پاکستان کے متعدد شہروں میں غریب اور ضرورت مند افراد کو ان کی دہلیز تک مفت کھانے کی سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے جو قابل ستائش ہے۔ افراط زر، بڑھتی ہوئی غربت، آبادی کے دباؤ اور ادارہ کے انتظامی اخراجات میں ناگزیر اضافے کی وجہ سے پاکستان بیت المال کے موجودہ بجٹ میں اضافے کی ضرورت ہے بصورت دیگر غریب، نادار اور دیگر ضرورت مند افراد کی امیدوں پر پورا اترنا محال ہو جائے گا۔

محکمے کا موجودہ بجٹ جو چھ ارب کے قریب ہے وہ ان تمام ضروریات کا احاطہ کرنے کے لئے ناکافی ہے جن کا بار اس ادارے نے اٹھا رکھا ہے۔ کم بجٹ کا دوہرا نقصان ہے کیونکہ اس سے ملک بھر میں پھیلے ہوئے ادارے کے دفاتر، پراجیکٹس اور یہاں کام کرنے والے ملازمین عضو معطل بن کے رہ جاتے ہیں اور بہت سے سائلین اور مستحقین کو ناکافی بجٹ کے سبب اپنی درخواستوں پر عمل درآمد کے لئے طویل انتظار کی زحمت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اور اس عمل کے دوران ادارے کے ملازمین کے کام کرنے کی صلاحیتں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اس وقت پاکستان بیت المال کے زیر انتظام ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں میں سولہ پناہ گاہیں قائم کی جا چکی ہیں جبکہ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت بارہ کسٹمائزڈ گاڑیاں اور ان میں تعینات عملہ خوراک کی تقسیم پر مامور ہیں۔ اسی ادارے کے تحت یتیم بچوں کی کفالت کے لئے ملک بھر میں پچاس کے قریب دارالاحساس قائم ہیں جہاں یتیم بچوں کو مفت تعلیمی اور رہائشی سہولیات میسر ہیں۔ اگر خواتین کی فنی تعلیم و تربیت کی بات کی جائے تو بھی یہ ادارہ اپنی خدمات میں آگے ہے اور خواتین کو پیشہ ورانہ مہارتیں سکھانے کے لئے اس ادارے کے تحت ملک بھر میں 154 مراکز کام کر رہے ہیں۔

اسی طرح مزدور بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی بحالی کے لئے پاکستان بیت المال کی طرف سے ملک بھر میں 160 ادارے قائم کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ لاوارث اوربزرگ شہریوں کے لئے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں احساس کدہ کے نام سے بھی ادارے قائم کیے گئے ہیں جہاں سینکڑوں بزرگوں کو میڈیکل سمیت تمام سہولیات میسر ہیں۔ اسی طرح محکمہ کے دیگر پراجیکٹس جیسے چائلڈ سپورٹ پروگرام، ماہانہ امدادی پیکج کے ذریعے یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کا پروگرام، کسٹمائزڈ وہیل چیئر پروگرام، سماجی بہبود کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے این جی اوز کا امدادی پروگرام اور پاکستان تھیلیسیمیا سنٹرز جیسے پروگرامز اس ادارے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

پاکستان بیت المال ملک کے ان چند اداروں میں سے ایک ہے جہاں شفافیت اور خدمات کے نظام کو مربوط اور منظم رکھنے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بیت المال کے موجودہ سربراہ ملک ظہیر عباس کھوکھر اس ادارے کی بہتری اور یہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لئے پر عزم ہیں اور اپنے پیش رو سابقہ ایم ڈی پاکستان بیت المال سینیٹر عون عباس بپی کے سماجی خدمت کے مشن کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔

مجھے چند ملاقاتوں میں ان کے خیالات سننے کا موقع ملا جس سے یقین حاصل ہوا کہ ملک ظہیر عباس کھوکھر وزیر اعظم عمران خان کے غربت کے خاتمے کے ویژن سے نہ صرف پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ پڑھے لکھے، نفیس اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ پاکستان بیت المال کو عوامی خدمت کا ایک بہترین پلیٹ فارم بنانے میں مثالی کردار ادا کرہے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پاکستان کے غریب عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے حکومت، پاکستان بیت المال کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی۔

ادارے کے جملہ افسران اور ملازمین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے حکومتی بجٹ کے علاوہ وسائل پیدا کرنے کے لئے تگ و دو اور منصوبہ بندی کریں۔ مزید برآں کاروباری ادارے، مخیر حضرات اور عوام الناس بھی اس ادارے کو عطیات کی فراہمی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت ملک میں غربت کے عفریت سے نمٹنے کے لئے بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS