بحریہ ٹاؤن: ایک قبضہ گاہ کے خلاف احتجاج
بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کی دعوت سندھ بھر میں بڑے عرصے سے دی ہوئی تھی اور صوبے بھر میں اس میں شرکت کے حوالے سے بڑا جوش و خروش پایا جا رہا تھا۔ لیکن یہ بھی طے تھا کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا اور ہر قسم کے اشتعال کے باوجود کوئی بھی ایسا ردعمل نہیں دکھایا جائے گا کہ یہ پرامن احتجاج کسی متشدد یا سازشی گروہ کے ہاتھوں ہائی جیک ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف قیادت بلکہ شرکا بھی اس احتجاج میں اپنے ساتھ بچوں اور خواتین کو بھی لے آئے تھے۔
بہرحال جب بھی کہیں ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے ہیں تو سازشیوں کے لیے یہ بڑا آسان ہو جاتا ہے کہ اس قسم کی تحریک کو ہائی جیک کر لیں یا کم از کم اسے اپنی پسند کا رخ ہی دے دیں۔
اس احتجاج کے حوالے سے ڈان نیوز جیسے ایک آدھ ادارے کے سوا نام نہاد قومی میڈیا نے تقریباً بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے اور تمام مہم مطبوعہ اور برقی سندھی اور سوشل میڈیا نے اپنے بل پر چلائی اور اس کے بارے میں تمام خبریں اور اطلاعات بھی یہی براہ راست یا بالواسطہ مہیا کرتے رہے۔
اگرچہ ہمارا نام نہاد قومی میڈیا جس کو کہ دنیا بھر میں جاری ظلم و ستم نظر آ جاتے ہیں اور جن کے سینے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر (اگرچہ آج کل بوجوہ کاشغر بھی ان کو نظر نہیں آ رہا) تک ہر ہر مظلوم مسلمان کے لیے پھٹے پھٹے جاتے ہیں، یا جو ملک بھر میں گیس سیلنڈر کے دھماکے اور موبائل فون کے چھینے جانے کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے، ان کو تو شہر قائد، عظیم تر کراچی، کو سموپولیٹن سٹی اور منی پاکستان و عالمگیر شہر جیسے القابات رکھنے والے سندھ کے دارالحکومت میں جاری احتجاج دکھا ہی نہیں دیا لیکن بہرحال اس احتجاج کی گونج دنیا بھر کے میڈیا میں سنائی دے رہی ہے۔
وائس آف امریکا کے مطابق، ”پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نجی ہاؤسنگ اسکیم بحریہ ٹاؤن کی جانب سے قریبی دیہات کے مکینوں کو مبینہ طور بے دخل کرنے کے خلاف متاثرین اور قوم پرست سیاسی جماعتوں نے اتوار کو احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے ہاؤسنگ اسکیم کے داخلی دروازے پر آگ لگا دی جب کہ مختلف دکانوں اور دفاتر کے شیشے بھی توڑ دیے۔“ لیکن احتجاج کے شرکا اور قیادت اس بات کی مسلسل تردید کر رہی ہے کہ تشدد اور آتشزنی کی وارداتیں ان کی طرف سے کی گئیں ہیں اور یہ سب بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور ان کے سرکاری اور غیرسرکاری معاونین کی کارستانی ہے۔ جب کہ آتشزنی کی کارروائی سے بھی صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ کارروائی کسی مشتعل ہجوم سے زیادہ کسی ماہر و مستند ”گروہ“ کی کارستانی ہے۔
اور یوں بھی سندھ حکومت کو اس کا بخوبی ادراک تھا کہ اس صورتحال میں کوئی شرپسند ٹولا اپنا کمال دکھا سکتا ہے۔ جیسا کہ سندھ کے ایک وزیر سید ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ: ’قوم پرست، جے یو آئی اور سول سوسائٹی کے لوگ پرامن لوگ ہیں لیکن ایسا نہ ہو کہ کوئی شرپسند اس صورتحال کا فائدہ لے۔ اسی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘
تو اب یہ جواب تو ان کو یا پھر سندھ حکومت کو ہی دنیا چاہیے کے سیکیورٹی کی انتظامات کے باوجود اتنا بڑی اور ماہرانہ تخریبی کارروائی کیسے کی جا سکی۔
جب کہ کئی ذرائع اس قسم کی کارروائی کا ذمہ دار براہ راست سندھ حکومت کو ہی قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ ہمیں اس کا بھی بخوبی ادراک ہے وہ پرائی آگ پر ہاتھ سینکنے کی کوششوں میں ہیں۔ سوشل میڈیا کے ایک پوسٹ کے مطابق:
” سندھ ایکشن کمیٹی کی کال پر آج جب سندھ کے لاکھوں لوگ زرداری اور اس کے حواری ملک ریاض کے قدیم سندھی گوٹھ مسمار کرنے والے منصوبوں کے خلاف بحریہ ٹاؤن کے سامنے پرامن احتجاج کے لیے جمع ہونا شروع ہوئے تو سندھ حکومت کے ہرکاروں اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے غنڈوں نے اس تاریخی عوامی احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے کیمیکل مواد سے بحریہ ٹاؤن کے گیٹ اور ایک پلازہ کو آگ لگادی، عمارتوں کے شیشے توڑے اور گاڑیوں کو تباہ کیا اور پھر اس کو بنیاد بنا کر پرامن مظاہرین پر کیمیکل ملی گیسز کی شیلنگ کی، جس سے سینکڑوں لوگ بے ہوش ہوئے اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ ان تمام حربوں کے باوجود فیملیز کے ساتھ احتجاج میں شریک لاکھوں لوگ ثابت قدم رہے اور اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا۔“
اگرچہ اس کے بھی امکان ہیں کہ ایسی حرکت شرکا میں سے کچھ لوگ ہی کر جاتے لیکن واضح رہنا چاہیے کہ یہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والوں کی ہی تھی کہ وہ شرکا کو آتش گیر مادے سمیت اس قسم کے احتجاج میں شامل ہونے سے روک لیں۔ اس کا ان کو نہ صرف حق اور اختیار تھا بلکہ قیادت بھی اس قسم کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والوں کا ہی ساتھ دینے کی موڈ میں تھی۔
البتہ کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کے ٹاور پر اپنا پرچم لہرانا ایسا ہی جذباتی عمل یا جیسا کہ بھارت میں کسان آندولن میں لال قلعے پر سکھ دھرم کی علامت والا جھنڈا لہرایا گیا تھا کہ جس کو کے پاکستانی میڈیا نے خالصتانی پرچم گردان کر مسرت و شادمانی اور بھارتی میڈیا نے رنج و غم کا اظہار کیا۔
نام نہاد قومی میڈیا اور کم دیدہ دانشوروں اور بے دماغ ماہرین کی تمام تر کوششوں کے باوجود آج پاکستان کا بچہ بچہ سمجھتا ہے کہ اس وقت ملک ایک سے زیادہ قبضہ گروپوں کے حوالے ہے اور انہیں ملک کی ہر سطح کے بے حس ٹولوں اور افراد کا ساتھ حاصل ہے۔ اور یہ افراد اور ٹولے صرف ملیر تک محدود نہیں ہیں۔ انہیں اک کھیت اک دیس نہیں، انہیں شاید پوری دنیا ہی درکار ہے اور یہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ دھول مٹی پھانکنے والے لوگ اب تک اس سوھنی دھرتی کے لاکھوں ایکڑ پر محیط قبرستانوں، کھیل کے میدانوں، درسگاہوں، زرعی اور صنعتی و اقامتی اراضی کو کھا گئے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لے رہے!
اگرچہ سرکاری اور نجی میڈیا اس سلسلے منہ میں گھنگنیان ڈالے بیٹھا ہے، لیکن سوشل میڈیا ان کے دودھ میں بھی مینگنیاں ڈال چکا ہے۔ جس کا اندازہ سوشل میڈیا پر گردش میں آئے ان تبصروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سوشل میڈیا صارف @SAADTAMIMI15 کی پوسٹ کچھ اس طرح سے ہے :
بحریہ ٹاؤن کراچی کے باہر ہونے والے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا صارف سعد تمیمی کا کہنا تھا کہ ’جہاں اس وقت سندھ کے عوام بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف زمینوں پر قبضے کے لیے مقامی افراد پر فائرنگ اور زبردستی زمین ہتھیانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں وہیں ہمارے‘ آزاد میڈیا ’پر بھی سوالیہ نشان ہے، میں مختلف ٹی وی چینلز دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی چینل اس مظاہرے کو نہیں دکھا رہا۔‘
اسی طرح سے صحافی و تجزیہ نگار مبشر زیدی نے بھی سندھ قوم پرست جماعتوں اور مقامی افراد کی جانب سے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ سندھ کے عوام بحریہ ٹاؤن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘
یہ صرف مشتے از خرارے ہے۔ کاش وہ دن بھی آئے کہ پاکستانی قوم تمام اختلافات رنگ و نسل اور امتیازات نظریہ و عقیدت بھلا کر یک مشت ہو کر ان قبضہ گاہوں اور قابضین سے نجات حاصل کر سکے!


