EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ریلوے کے خونچکاں حادثات کی 68 سالہ تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کے ضلع گھوٹکی کے تحصیل ڈہری کے ریتی ریلوے سٹیشن کے قریب کراچی سے سرگودھا جانے والی بدقسمت ملت ایکسپریس اور راولپنڈی سے کراچی آنے والی سرسید ایکسپریس کے تصادم کے اندوہناک واقعہ نے نے ایک بار پھر پاکستان ریلوے کے سگنلنگ سسٹم، بوسیدہ ٹریک، کمیونیکیشن نظام کی غیر موجودگی اور سفر کے محفوظ ہونے پر سوالات اٹھا دیے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق حادثہ رات 3 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ حادثہ آنا فانا ہوا کیونکہ دونوں ٹرینیں ایک دوسرے سے چند ہی منٹوں کی دوری پر تھیں۔

سرسید ایکسپریس نے ولہار ریلوے سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر کراس کیا جبکہ ملت ایکسپریس نے ڈہرکی کو 3 بج کر 30 منٹ پر چھوڑا۔ ماچھی گوٹھ سے ڈہرکی تک ٹریک بوسیدہ اور مرمت طلب ہے جس کا نشانہ بدقسمت ملت ایکسپریس بنی اور ریتی ریلوے سٹیشن کے قریب اس کی دو بوگیاں دوسرے ٹریک پر آ گئیں اور ٹرین خود آگے چلی گئی۔ سرسید ایکسپریس میں سفر کرنے والے افراد نے بتایا کہ ٹرین اس وقت ایک سو کے قریب سپیڈ پر چل رہی تھی، ڈرائیور نے گری ہوئی بوگیاں دیکھ کر ٹرین روکنے کی کوشش کی مگر فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے ٹرین بوگیوں پر چڑھ گئی۔

افسوسناک امر تو یہ ہے کہ رات کو تین بجے پیش آنے والے حادثے کے لئے امدادی کام صبح آٹھ بجے شروع ہوسکا جبکہ بوگی نمبر پانچ اور چھ پر انجن اور بھاری بوگیاں ہٹائے جانے کا کام ہیوی مشینری نہ ہونے کی وجہ سے دس بجے شروع کیا جا سکا۔ وہ بھی بھلا ہو پاک فوج اور رینجرز کا جن کی امدادی ٹیمیں بروقت پہنچیں اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد دی گئی، حتی کہ پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر بھی ریلوے اور گھوٹکی کی سول انتظامیہ کی ہیوی مشینری سے پہلے پہنچے اور زخمیوں کو ملتان منتقل کیا گیا۔

پاک فوج اور رینجرز کے دستے خراج تحسین کے مستحق ہیں وگرنہ جاں بحق افراد کی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی۔ 1953 سے لے کر اب تک 34 بڑے حادثات پیش آچکے ہیں جن میں 1452 افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ 26 حادثات گزشتہ دو دہائیوں میں پیش آئے جن میں 566 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 1953 سے 1997 تک 8 خوفناک حادثات میں 886 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔ اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ان مہلک حادثات کی تفصیلات کچھ یوں ہیں

٭ 1953 میں سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے گاؤں جھمپیر کے مقام پر مسافر ٹرین کو حادثہ ہوا۔ ٹھٹھہ میں مناسب سہولیات نہ ہونے اور کراچی سے 114 کلومیٹر کی دوری پر ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں اور 200 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 350 سے زائد افراد زخمی ہوئے

٭اس حادثے کے اگلے سال 1954 پھر ٹریک خستہ حال ہونے اور مناسب مرمت نہ ہونے پر کراچی جانے والی ٹرین کو ٹھٹھہ ہی کے علاقہ جھنگ شاہی میں حادثہ پیش آیا۔ یہ علاقہ جھمپیر سے 52 کلومیٹر جبکہ کراچی سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس واقعہ میں 60 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔

٭ 1969 میں اکتوبر کی سرد رات میں رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں مسافر ٹرین کراچی سے آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی جس میں 80 افراد کی اموات ہیں جبکہ 200 کے قریب مسافر زخمی ہوئے

٭ 1987 میں اکتوبر ہی کے مہینے میں سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے شہر مورو میں اس وقت حادثہ پیش آیا جب پھاٹک کھلا ہونے کی وجہ سے تیزرفتار بس رات کی تاریکی میں بس سے جا ٹکرائی۔ جس کے نتیجے میں 28 افراد جاں بحق 60 زخمی ہوئے

٭پاکستان ریلوے کی 74 سالہ تاریخ کا مہلک ترین حادثہ ملتان سے کراچی جانے والے بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کو پیش آیا۔ 14 سو مسافروں کی گنجائش والی سرسید ایکسپریس ملتان سے 2 ہزار افراد کو لے کر سکھر کے گاؤں سانگی پہنچی تو نیند میں موجود سگنل میں نے ٹرین کو سائیڈ ٹریک پر منتقل ہونے کا اشارہ کیا جس نے ایک اندوہناک حادثے کو جنم دیا۔ حادثے میں بچ جانے والے ڈرائیو ر کے مطابق ٹرین کی رفتار تیس سے 35 کلو میٹر گھنٹہ تھی جو کہ اس ٹریک پر موجود 67 ریل کاروں پر مشتمل فریٹ ٹرین سے جا ٹکرائی۔ ٹکر اتنا شدید تھی کہ پہلی تین مسافر کاریں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور ان میں موجود کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔ اس حادثے میں 350 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 700 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں سکھر اور کراچی منتقل کیا گیا

٭بدقسمتی سے اتنے بڑے حادثے نے بھی ریلوے انتظامیہ کی آنکھیں نہ کھولیں اور 18 مہینے کے بعد سندھ ہی کے ضلع گھوٹکی میں آٹھ جون 1991 کو کراچی۔ لاہور۔ اسلام آباد ایکسپریس گھوٹکی ریلوے سٹیشن پر پہلے سے موجود فریٹ ٹرین سے ٹکرا گئی، جس میں 100 افراد جان سے چلے گئے جبکہ 250 سے زائد زخمی ہوئے۔

٭ریلوے کی نا اہلی برقرار رہی اور 1992 نومبر میں گھوٹکی کے ہی ریلوے سٹیشن پر موجود فریٹ ٹرین سے مسافر ٹرین جا ٹکرائی، جس سے 54 قیمتی جانیں گئیں اور 170 سے زائد زخمی ہوئے۔ دونوں حادثوں کی وجہ سگنل مین کے نہ ہونے اور سٹیشن پر سٹاف کی عدم موجودگی بنی۔

٭تین مارچ 1997 کو مسافر ٹرین پنجاب کے ضلع خانیوال کے قریب حادثہ کا شکار ہوئی، واقعہ اس وقت پیش آیا جب کراچی سے آنے والی مسافر ٹرین کی چھ بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں جس کہ وجہ سے ٹرین جنکشن پر بھی نہ رک سکی، اس موقع پر ٹرین کے عملہ نے ہوشیاری کا مظاہرہ کیا اور مزید کسی ٹکراؤ سے بچانے کے لئے ٹرین کا رخ ڈیڈ اینڈ کی طرف ڈائیورٹ کر دیا

٭ 16 مارچ 2002 کو اس وقت آٹھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے جب لاہور سے فیصل آباد جانے والی ٹرین شیخوپورہ کے قریب پٹری سے اتر گئی۔ واقعہ میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

٭ 9 مہینے کے بعد 26 ستمبر 2002 کو ایک اور حادثہ پیش آیا کہ جب بلوچستان کے علاقے سبی، جیکب آباد کا ریلوے پل گر گیا جس کی وجہ سے ٓآٹھ بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں۔ کوئٹہ ایکسپریس کو پیش آنے والے اس واقعہ میں 57 افراد زخمی بھی ہوئے

٭بیس ستمبر 2003 کو منڈی بہا الدین کے علاقے ملکوال میں پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے ٹرین اور بس میں ٹکر ہوئی۔ اس افسوسناک واقعہ میں 28 جانیں گئیں

٭ 13 جولائی 2005 کو ایک بار پھر گھوٹکی کے قریب سرحد سٹیشن پر موجود کوئٹہ ایکسپریس کو کراچی ایکسپریس نے پیچھے سے ٹکر ماری، جن کو سامنے سے آنے والی تیزگام ایکسپریس نے ٹکر ماری، حادثہ میں 130 افراد جاں بحق جبکہ سولہ بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں

٭تیس جولائی 2006 کو راولپنڈی سے لاہور آنے والی ٹرین کی چھ بوگیاں جہلم کے قریب ڈومیلی میں کھائی میں جا گریں۔ جس میں چار افراد جاں ہوئے۔

٭ 19 دسمبر 2007 کو نوشہروفیروز کے علاقے محراب پور میں کراچی ایکسپریس کی اٹھارہ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، حادثہ میں پچاس افراد جاں بحق اور دو سو زخمی ہوئے

٭تین نومبر 2009 کو کراچی سے روانہ ہونے والی علامہ اقبال ایکسپریس جمعہ گوٹھ سٹیشن پر گڈز ٹرین سے جا ٹکرائی، تصادم اتنا شدید تھا کہ پہلی دو اکانوی کلاسز کی کوچز مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جس سے اٹھارہ افراد لقمہ اجل بنے

٭ 30 اگست 2011 کو کراچی جانے والی خیبر میل کا لاہور ریلوے سٹیشن سے نکلتے ہی سٹیشنری ٹرین سے تصادم ہوا، حادثہ میں تین افراد جاں بحق ہوئے

٭پچیس جولائی 2013 کو لاہور سے پنڈی جانے والی ٹرین کے حادثہ میں دو افراد جاں بحق ہوئے

٭سات نومبر 2014 کو سندھ کے ضلع نوابشاہ کے بانڈھی سٹیشن کے قریب قراقرم ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر جانے سے دو جاں بحق متعدد زخمی ہوئے

٭خیرپور کے ٹھیڑی بائی پاس کے قریب 11 نومبر 2014 کو مسافر ٹرین اور ٹرک میں تصادم کے بعد ٹرک کے فیول ٹینک میں آگ لگنے سے 58 افراد جاں بحق متعدد زخمی ہوئے۔

٭دو جولائی 2015 کو آرمی کے دستوں کو لے کر جانے والے خصوصی ٹرین کے انجن کے بریک فیل ہونے اور پل کے منہدم ہونے سے ٹرین نہر مین جا گری، گوجرانوالہ کے قریب ہونے والے واقعہ میں انیس جوان اور عملہ شہید ہوئے

٭سترہ نومبر 2015 کو کوئٹہ سے پنڈی جانے والے جعفر ایکسپریس کی بوگیاں اترنے سے انیس افراد جاں بحق ہوئے

٭تین نومبر 2016 کو لاہور سے آنے والی زکریا ایکسپریس نے لانڈھی سٹیشن پر فرید ایکسپریس کو ٹکر ماری، واقع میں 22 افراد جاں بحق 40 زخمی ہوئے۔

٭چھ جنوری اور اٹھائیس مارچ دو ہزار سترہ کو لودھراں اور شیخوپورہ میں ہونے والے دو حادثات میں سکول کے سات بچوں سمیت نو افراد جاں بحق ہوئے، واقعہ پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا

٭سال 2019 ریلوے کے لئے برا ثابت ہوا جب رحیم یار خان کے قریب تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی کی وجہ سے 74 جھلس کر جاں بحق ہو گئے، دیگر دو حادثات میں 24 افراد جاں بحق ہوئے

٭ 28 فروری 2020 لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس کراچی میں پھاٹک نہ بند ہونے پر بس سے ٹکرائی، واقعہ میں انیس افراد جاں بحق ہوئے

٭ 3 جولائی 2020 کو شاہ حسین ایکسپریشن کا سکھ یاتریوں کو لے کر جانے والی کوسٹر سے تصادم ہوا، انیس سکھ یاتریوں سمیت بیس افراد جان سے گئے

٭رواں سال سات مارچ کو کراچی ایکسپریس کی بوگیاں سانگھی ریلوے سٹیشن کے قریب پٹری سے اتریں، واقعہ میں ایک شخص جاں بحق تیس زخمی ہوئے

سب سے زیادہ پندرہ حادثات سندھ میں ہوئے جن میں پانچ مہلک حادثات کے ساتھ گھوٹکی سرفہرست ہے جب ریلوے حکام سے اس بابت دریافت کیا گیا تو اندرون سندھ میں انفراسٹرکچر نہ ہونے اور نفری کی کمی کی توجیح پیش کی گئی۔ گھوٹکی ریلوے سٹیشن پر ہمارے ذرائع کے مطابق ماچھی گوٹھ سے لے کر ڈہرکی اور گھوٹکی پر ٹریک خستہ حالی کا شکار ہے جس کی مرمت، بحالی اور سٹاف کی بھرتی کے لئے بار بار درخواست کی گئی اور ٹرینوں کو بھی سپیڈ کم کرنے کی ہدایت کی جاتی رہی ہے مگر نہ ہی اعلی حکام کو درخواستیں کم آئیں نہ ہی سپیڈ لمٹ کا خیال رکھا جاتا ہے، ترجمان ریلوے اعجاز شاہ کے مطابق سی پیک کے تحت ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل سے کراچی تک نیا ٹریک ڈلنے سے حادثات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔ ان کے مطابق خالی آسامیوں کو بھی پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ریلوے ٹریک کی بھی چاہے گھوٹکی سے ماچھی گوٹھ ہو یا دوسرے علاقوں میں ماہانہ معائنہ اور مرمت کی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے